ظلمتِ شب سے نہ گھبرا کہ اسے ڈھلنا ہے

ظلمتِ شب سے نہ گھبرا کہ اسے ڈھلنا ہے
ظلمتِ شب سے نہ گھبرا کہ اسے ڈھلنا ہے

  


ظلمتِ شب کا اختتام ہوا چاہتا ہے، موروثی سیاست نہیں، نئی نسل حقیقی سیاست کا پرچم تھام چُکی۔ مارشل لاءاور موروثی سیاست کے بطن سے جنم لینے والی لیڈر شپ کا آخری دور ہے ، کیونکہ نوجوان نسل کا شعور بلند ہو چکا ہے۔ اب یہاں، عام لوگ آگے آئیں گے۔ موروثیت کی شب ڈھل چکی:

ظلمتِ شب سے نہ گھبرا کہ اسے ڈھلنا ہے

تیرگی حد سے بڑھے گی تو اُجالا ہوگا

حرص کے راستے کی آخری منزل بربادی کی کھائی ہے۔ پتہ نہیں کیوں حکمران عبرت حاصل نہیں کرتے۔ پرویز مشرف اور پی پی پی کا انجام سامنے کی بات ہے۔ کہاں عروج اور کہاں اپنا وجود بھی بوجھ محسوس ہو رہا ہے۔ آصف علی زرداری اپنی سلطنت کو الوداع کہہ چکے۔ پرویز مشرف اسے دوبارہ خدا حافظ کہنے کے لئے بے تاب ہیں۔ پانچویں صدی کے عظیم مفکر امام ابن جوزیؒ کے اشعار زبان پر آگئے ہیں....ترجمہ:”کتنے صاحب حکومت بادشاہ گزرے ہیں اور حکومت کے نشے میں رہے ہیں۔ اے دنیا کے طالب، دنیا سے مت کھیل، جب یہ دنیا غیر کی ہوئی تو بہت سے بادشاہ پریشان ہوئے ہیں“۔

بدترین غلط فہمی، سراسر بربادی، کیا حکمران طبقے نے یہ یقین کر لیا ہے کہ یہ ملک اندھے لوگوں کا ہے۔ عوام کے ساتھ یہ جو ظلم کرتے جائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، بظاہر ایسا ہی منظر ہے۔ عوام نے ذلت و خواری اور فاقوں و خودکشی کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے اور حکمرانوں کو ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، ہر سُو بے حسی و مایوسی چھائی ہے:

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

کیا کبھی کسی دانشور نے یہ سوچا کہ اس پاک دھرتی کے کروڑوں لوگوں کے ساتھ پچھلی دہائیوں سے کیسا ظلم ہو رہا ہے، مگر کیسے سوچتے بند ذہنوں پر دانشوری کا لیبل لگا کر ایک دوسرے کی تشہیر کرتے لوگوں کے ذہنوں میں غور و فکر کے دریچے نہیں کھلتے۔ ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ہر شعبہءزندگی میں بدترین زوال کا شکار ہیں۔

آج کے دانشور، حکومت کے غلط کاموں کی توصیف کرنا عبادت سمجھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اوریجنل دانشور ہی دماغ سے سوچتا ہے، جبکہ نام نہاد دانشور پیٹ سے سوچتا ہے، پھر رونا روتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ہمیں لعن طعن کر تے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ انہیں آئینہ دکھاتے ہیں، جسے دیکھنا انہیں اچھا نہیں لگتا کہ اپنے چہرے پر داغ بہادر آدمی ہی دیکھ سکتا ہے.... لوگ کیا کریں، جن لوگوں کو پڑھ کر یا سُن کر وہ اپنی رائے قائم کرتے ہیں، چند دن بعد جب ان پر حقیقت کھلتی ہے کہ جسے وہ دانشور سمجھ رہے تھے، وہ تو حکومتی پارٹی کا کارندہ ہے اور اس کے تبصرے دراصل اپنے آقاو¿ں کا راستہ صاف کرنے اور ان کے حریفوں کو شکست دینے کے لئے تھے، جبکہ حقیقتاً وہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے یہ ”جہاد اکبر“ کر رہا تھا، مگر سب ایسے نہیں، بہت سے ایسے ہیں جو صحافت کو عبادت سمجھتے ہیں اور جھوٹ کی وکالت نہیں کرتے۔ عہدوں، مراعات اور مفاد کے اسیر نہیں ہیں۔

دو دہائیوں سے اس پاک دھرتی کے کروڑوں انسانوں کے ساتھ عجیب ظالمانہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ گھروں کے چولہوں پر چڑھی ہانڈیوں کے اندر عام آدمی کے لئے دو وقت کے کھانے کا فیصلہ وہ شخص کرے گا، جس کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف کا کارندہ انسان کی شکل میں روبوٹ یا کیلکولیٹر، مشینی آدمی، عالمی مالیاتی اداروں کے مفادات کا محافظ، تصور کریں کہ کہنے کو جمہوری ملک، یہاں عوام کے ووٹوں اور انتخابات کی کوئی اہمیت ہے کہ وزیر خزانہ ہمیشہ عالمی مالیاتی اداروں کے کارندے کو بتایا جاتا ہے، جس نے عوام کا خون نچوڑ کر ان اداروں کے مفاد کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ 1997ءمیں میاں نواز شریف کے پاس سر تاج عزیز تھے۔ پرویز مشرف کے انقلاب نے شوکت عزیز کو دریافت کیا۔ آصف علی زرداری حکومت نے شوکت ترین، عبدالحفیظ شیخ کو آئی ایم ایف کی خدمت کا موقع دیا اور اب پھر میاں نواز شریف، اسحاق ڈار کی صلاحیتیں آزما رہے ہیں۔ مملکت پاکستان کے ساتھ اس سے بڑا سانحہ کیا ہوگا کہ ان میں سے کوئی بھی عوامی نمائندہ نہیں، بلکہ سب کارندے ہیں جو عوام کو گروی رکھ کر ان اداروں کی خدمت کر رہے ہیں، افتخار شاہد کہتا ہے:

جسم و جاں کو گروی رکھ کر وقت کے ساہوکار

آتی جاتی سانسوں کا کرتے ہیں کاروبار

کیا حکمرانوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ رعایا کا خیال رکھیں اور اپنے وزیروں کو عوام کا خون چُوسنے سے باز رہنے کی تلقین کریں.... جو حکمران رعایا پر اپنے کارندوں کے ذریعے ظلم ڈھاتے ہیں، ان کا مقدر اقتدار کے بعد پھر دیارِ غیر ہی ہوتا ہے۔ عوام ان خون چُوسنے والے پیرا سائٹس سے نفرت کرتے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کو آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے عام آدمی کی زندگی میں زہر گھولنے سے پہلے اپنے پیش رو حکمرانوں کا انجام یاد رکھنا چاہئے۔ اسلامی تاریخ کے بہادر ترین جرنیل و سلطان جسے مسلمان ہی نہیں، غیر مسلم مو¿رخین بھی سلطان اعظم لکھتے ہیں۔ اس سلطان الپ ارسلان کے ایک غلام خاص نے ایک عام شہری کی پگڑی چھین لی اور اسے زد و کوب کیا۔ جب یہ شہری سلطان کے پاس فریاد لے کر آیا تو سلطان نے اپنے خاص غلام کو پکڑ کر قتل کرا دیا اور لاش کو محل کے باہر لٹکاتے ہوئے تمام خاص ملازموں کو نصیحت کی کہ میری رعایا پر جو بھی غلام، وزیر یا سرکاری اہلکار ظلم وزیادتی کرے گا، اس کا انجام یہی ہوگا، تم لوگ رعایا کی خدمت کے لئے ہو، ان پر ظلم و زیادتی کرنے کے لئے نہیں“۔ آج کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں، اور حکومتی مشینری کا واحد کام ہی رعایا پر ظلم و زیادتی رہ گیا ہے۔ انہیں کھلی چھوٹ ہے کہ وہ عوام کی زندگی اجیرن کر دیں، ان سے دو وقت کی روٹی چھین لیں اور انہیں خودکشی پر مجبور کر دیں۔

ماضی میں سلطان الپ ارسلان جیسے ہمارے عظیم حکمران تھے ، جن کے پاس خواجہ نظام الملک طوسی جیسے ذہین وزیر تھے، جنہوں نے ”نظامیہ“ کے نام سے عظیم الشان نظام تعلیم کی بنیاد رکھی، جہاں صدیوں سے عالم فاضل پیدا ہو رہے ہیں اور ایک آج کے حکمران ہیں، جن کے وزیر راجہ رینٹل اور مسٹر ڈالر کے نام سے بدنامی سمیٹ رہے ہیں، جنہیں تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں کہ جہالت سے ہی ان کی کامیابی وابستہ ہے۔ تعلیم، شعور اور خوشحالی یہ صرف اپنا اور اپنے خاندان کا حق سمجھتے ہیں۔ کوئی ایک وزیر ہی دیکھ لیں، جسے ذرا برابر بھی دلچسپی ہو اور وہ شرح خواندگی بڑھانے کے لئے کسی قسم کی تگ و دو کرتا نظر آ رہا ہو، بلکہ یہ سب تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور اعلیٰ تعلیم سے ہی بیزار نظر آتے ہیں۔     ٭

مزید : کالم