اسلام، دین امن و سلامتی ہے

اسلام، دین امن و سلامتی ہے
اسلام، دین امن و سلامتی ہے

  


مُحسنِ انسانیتﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“.... گویا زبان اور ہاتھ کا غلط استعمال امن کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ ذہن انسانی میں موجود گوشت کا لوتھڑا محبتوں اور پیار کا سندیسہ بھی دیتا ہے اور ایسے تیر بھی برساتا ہے کہ روح گھائل کر کے سکون غارت کر دیتا ہے۔ معروف بات ہے کہ تلوار کا زخم مندمل ہو جاتا ہے، مگر زبان کا زخم مدتوں نہیں بھرتا۔ ہادیءبرحق نے فرمایا: اے صحابہؓ تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے دو، مَیں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ وہ کون سی دو چیزیں ہیں۔ ارشاد فرمایا وہ جو دو جبڑوں کے درمیان میں ہے اور جو دو ٹانگوں کے درمیان میں ہے، یعنی زبان اور شرمگاہ۔

انسان، انسان پر جب بھی حملہ کرتا ہے تو ہاتھ اور زبان کا آزادانہ اور بے محل استعمال کرتا ہے۔ امنِ عالم کی غارت گری میں یہی دو اعضاءدماغ کے سپاہی بن کر کشتوں کے پشتے لگاتے ہیں۔ تمام ادیان حق، بالخصوص اسلام امن و سلامتی، عزت و اکرام محبت و یگانگت، مروت ومو¿دت، صلح و آشتی، ہمدردی و ایثار ایسے جذبات و احساساتِ حسنہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام عداوت، مخاصمت، بُغض، کینہ، حسد، انتقام، جنگ و جدل، فسادفی الارض، فتنہ پروری ایسے رذیل جذبات و احساسات کی مذمت اور حُرمت کا درس دیتا ہے۔ مسلمان اللہ کی رضا کے لئے دوستی کرتا ہے اور اُسی کی ناراضی سے بچنے کے لئے دشمنی کرتا ہے۔ وہ ذاتی بُغض اور عناد کی وجہ سے انتقام نہیں لیتا۔ ایک جنگ میں حضرت علیؓ ایک کافر کے سینے پر بیٹھے اُسے قتل کرنے لگے تو اُس نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ جناب علیؓ فوراً اُس کے سینے سے اُتر گئے اور اُسے چھوڑ دیا۔ کافر نے پوچھا اے علیؓ مَیں نے تو نفرت سے آپ کے چہرے پر تھوکا تھا، مگر آپ نے مجھے چھوڑ کیوں دیا؟ آپ نے فرمایا: مَیں تجھے اللہ کی خاطر قتل کرنے لگا تھا، جب تم نے میرے منہ پر تھوکا تو اس میں میرا ذاتی غصہ بھی شامل ہوگیا تھا اور مَیں اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیتا۔

دنیا میں ہونے والی جنگ عظیم اول اور دوم مسلمانوں نے تو شروع نہیں کی تھیں۔ ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم مسلمانوں نے تو نہیں گرایا تھا۔ صلیبی جنگیں مسلمانوں نے تو شروع نہیں کی تھیں۔ عراق، افغانستان، بوسنیا، چیچینیا، برما، مقبوضہ کشمیر، فلسطین وغیرہ میں خون کی ہولی مسلمانوں نے تو نہیں کھیلی:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

امن عالم کا دشمن کون، مسلمان یا عیسائی، ہندو، یہودی ،یعنی ساری ملتِ کفر والحاد۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ امنِ عالم کے نام نہاد پرچارک اور دہشت گردی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سفاک قاتل ختمی مرتبت کے اُمتی تو نہیں ہیں۔ وہ عیسائی ہیں، یہودی ہیں، ہندو ہیں یالادین و بے مذہب۔ یہ امن کی آشا کے راگ الاپنے والے دو قومی نظریے کی تدفین چاہتے ہیں۔ وہ زہرِ ہلاہل کو قند کہنے پہ مصر ہیں، مگر زہر کبھی امرت نہیں ہوسکتا۔ یہود و ہنود کبھی مسلمان کے ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی بغلیں چھریوں کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔ ان کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ مسلم دشمنی ان کی فطرت اور سرشت میں حلول کئے ہوئے ہے اور ”خوئےِ بدرا بہانہ بسیار“.... 9/11 کو بہانہ بنا کر افغانستان میں موت اور سفاکیت کا جو کھیل کھیلا گیا، اُس سے کون ذی شعور نا واقف ہے۔ عراق سے مہلک ہتھیار تو برآمد نہ ہوئے، مگر آہن و بارود کی ہلاکت خیزیوں سے تو ہلاکو کی روح بھی تڑپ گئی ہوگی۔ یہ کون سا دین ہے۔ یہ کون سا مذہب ہے۔ یہ کون سے امن منشور کا نفاذ ہوا ہے۔ یہ کون سی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے؟ لاکھوں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر بھی عالمی امن کا سرخیل بننے اور کہلانے کی خوش فہمی، واللہ!

دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ظلم و ستم ، جورو تعدی اور نفرت و مخاصمت کو جنم دیا کرتے ہیں۔ گولیوں کی بوچھاڑ اور ڈرون حملوں کا شکار ہونے والوں کے لواحقین پھول تو پیش نہیں کریں گے۔ نیم کا درخت لگا کر انگوروں کی توقع رکھنا عبث بھی ہے اور احمقانہ سوچ بھی۔

تُو نے ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے ہیں

اب زمیں خون اُگلتی ہے تو شکوہ کیسا

دوسری جانب مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کی سلامتی کی دعا اور خواہش کا تبادلہ کرتے ہیں۔ مسلمان غیر مسلموں کے لئے قابلِ تحسین جذبات رکھتا ہے اور اس کا عملی اظہار بھی کرتا ہے۔ ہمارے آقا و مولا سراپا رحمت و محبت تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ کا اپنے جانی دشمنوں کو عام معافی کا اعلان انسانی تاریخ کا وہ محیر العقول واقعہ ہے،جس کی نظیر آج تک پیش نہیں کی جاسکی۔ دنیا کا یہ وہ عظیم انقلاب ہے جس میں سب سے کم خون بہایا گیا اور جس میں مفتوح علاقے میں ہر کسی کو امان فراہم کی گئی۔ مفتوحین جب سالار اعظم کے سامنے لائے گئے اور ارشاد ہُوا۔ اے اہل مکہ! تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو سرجھکائے کھڑے قریش نے عرض کی: آپ اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم آپ سے حُسن سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مَیں اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کی طرح تم سب کو معاف کرتا ہوں۔ آج کے دن تم پر کوئی مواخذہ نہیں.... اسلام نہتے لوگوں پر وار کرنے سے منع کرتا ہے۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ اُٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام دینِ محبت ہے۔ دین امن و سلامتی ہے۔ دین حق و عدل ہے، دینِ متین و مبین ہے۔ ذمیوں کے حقوق کا علمبردار ہے۔ ذمی مملکتِ اسلامیہ میں اپنے عقائد کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اُن کے معبدوں کی حفاظت، اُن کی جانوں کی حفاظت، اُن کی املاک کی حفاظت اسلامی مملکت کے فرائض میں شامل ہے۔

 حالیہ پشاور حملے میں عیسائی بھائیوں پر قیامت توڑنے والے کسی درجہ کے بھی مسلمان نہیں ہو سکتے۔ مسلمان کبھی بھی اس قسم کی بُردلانہ کارروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی اور ملک دشمن قوتوں کے آلہءکار بننے والے یہ مُٹھی بھر لوگ ملک کے عدم استحکام کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے مساجد کے باہر پہرے، امام بارگاہوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی، گرجا گھروں، مندروں پر مسلح پہرے لمحہءفکریہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بہاولپور کے گرجا گھر کو خون میں نہلا دیا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ کراچی میں کوئی شہری محفوظ نہیں، ہر کوئی ہٹ لسٹ پر ہے، نہ جانے کہاں کسی اندھی گولی، دھماکے یا بارودی سرنگ کا نشانہ بن جائے، مگر دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں:

ہم نے تو دشمن کے بھی مرنے کی نہیں مانگی دعا

ہم وہ زندہ ہیں کہ ہر شخص کو زندہ چاہا

اسلام، دین امن و سلامتی ہے

مُحسنِ انسانیتﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“.... گویا زبان اور ہاتھ کا غلط استعمال امن کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ ذہن انسانی میں موجود گوشت کا لوتھڑا محبتوں اور پیار کا سندیسہ بھی دیتا ہے اور ایسے تیر بھی برساتا ہے کہ روح گھائل کر کے سکون غارت کر دیتا ہے۔ معروف بات ہے کہ تلوار کا زخم مندمل ہو جاتا ہے، مگر زبان کا زخم مدتوں نہیں بھرتا۔ ہادیءبرحق نے فرمایا: اے صحابہؓ تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے دو، مَیں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ وہ کون سی دو چیزیں ہیں۔ ارشاد فرمایا وہ جو دو جبڑوں کے درمیان میں ہے اور جو دو ٹانگوں کے درمیان میں ہے، یعنی زبان اور شرمگاہ۔

انسان، انسان پر جب بھی حملہ کرتا ہے تو ہاتھ اور زبان کا آزادانہ اور بے محل استعمال کرتا ہے۔ امنِ عالم کی غارت گری میں یہی دو اعضاءدماغ کے سپاہی بن کر کشتوں کے پشتے لگاتے ہیں۔ تمام ادیان حق، بالخصوص اسلام امن و سلامتی، عزت و اکرام محبت و یگانگت، مروت ومو¿دت، صلح و آشتی، ہمدردی و ایثار ایسے جذبات و احساساتِ حسنہ کا درس دیتا ہے۔ اسلام عداوت، مخاصمت، بُغض، کینہ، حسد، انتقام، جنگ و جدل، فسادفی الارض، فتنہ پروری ایسے رذیل جذبات و احساسات کی مذمت اور حُرمت کا درس دیتا ہے۔ مسلمان اللہ کی رضا کے لئے دوستی کرتا ہے اور اُسی کی ناراضی سے بچنے کے لئے دشمنی کرتا ہے۔ وہ ذاتی بُغض اور عناد کی وجہ سے انتقام نہیں لیتا۔ ایک جنگ میں حضرت علیؓ ایک کافر کے سینے پر بیٹھے اُسے قتل کرنے لگے تو اُس نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ جناب علیؓ فوراً اُس کے سینے سے اُتر گئے اور اُسے چھوڑ دیا۔ کافر نے پوچھا اے علیؓ مَیں نے تو نفرت سے آپ کے چہرے پر تھوکا تھا، مگر آپ نے مجھے چھوڑ کیوں دیا؟ آپ نے فرمایا: مَیں تجھے اللہ کی خاطر قتل کرنے لگا تھا، جب تم نے میرے منہ پر تھوکا تو اس میں میرا ذاتی غصہ بھی شامل ہوگیا تھا اور مَیں اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیتا۔

دنیا میں ہونے والی جنگ عظیم اول اور دوم مسلمانوں نے تو شروع نہیں کی تھیں۔ ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم مسلمانوں نے تو نہیں گرایا تھا۔ صلیبی جنگیں مسلمانوں نے تو شروع نہیں کی تھیں۔ عراق، افغانستان، بوسنیا، چیچینیا، برما، مقبوضہ کشمیر، فلسطین وغیرہ میں خون کی ہولی مسلمانوں نے تو نہیں کھیلی:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

امن عالم کا دشمن کون، مسلمان یا عیسائی، ہندو، یہودی ،یعنی ساری ملتِ کفر والحاد۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ امنِ عالم کے نام نہاد پرچارک اور دہشت گردی کے خاتمے کی نوید سنانے والے سفاک قاتل ختمی مرتبت کے اُمتی تو نہیں ہیں۔ وہ عیسائی ہیں، یہودی ہیں، ہندو ہیں یالادین و بے مذہب۔ یہ امن کی آشا کے راگ الاپنے والے دو قومی نظریے کی تدفین چاہتے ہیں۔ وہ زہرِ ہلاہل کو قند کہنے پہ مصر ہیں، مگر زہر کبھی امرت نہیں ہوسکتا۔ یہود و ہنود کبھی مسلمان کے ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی بغلیں چھریوں کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔ ان کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ مسلم دشمنی ان کی فطرت اور سرشت میں حلول کئے ہوئے ہے اور ”خوئےِ بدرا بہانہ بسیار“.... 9/11 کو بہانہ بنا کر افغانستان میں موت اور سفاکیت کا جو کھیل کھیلا گیا، اُس سے کون ذی شعور نا واقف ہے۔ عراق سے مہلک ہتھیار تو برآمد نہ ہوئے، مگر آہن و بارود کی ہلاکت خیزیوں سے تو ہلاکو کی روح بھی تڑپ گئی ہوگی۔ یہ کون سا دین ہے۔ یہ کون سا مذہب ہے۔ یہ کون سے امن منشور کا نفاذ ہوا ہے۔ یہ کون سی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے؟ لاکھوں بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر بھی عالمی امن کا سرخیل بننے اور کہلانے کی خوش فہمی، واللہ!

دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ظلم و ستم ، جورو تعدی اور نفرت و مخاصمت کو جنم دیا کرتے ہیں۔ گولیوں کی بوچھاڑ اور ڈرون حملوں کا شکار ہونے والوں کے لواحقین پھول تو پیش نہیں کریں گے۔ نیم کا درخت لگا کر انگوروں کی توقع رکھنا عبث بھی ہے اور احمقانہ سوچ بھی۔

تُو نے ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے ہیں

اب زمیں خون اُگلتی ہے تو شکوہ کیسا

دوسری جانب مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کی سلامتی کی دعا اور خواہش کا تبادلہ کرتے ہیں۔ مسلمان غیر مسلموں کے لئے قابلِ تحسین جذبات رکھتا ہے اور اس کا عملی اظہار بھی کرتا ہے۔ ہمارے آقا و مولا سراپا رحمت و محبت تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ کا اپنے جانی دشمنوں کو عام معافی کا اعلان انسانی تاریخ کا وہ محیر العقول واقعہ ہے،جس کی نظیر آج تک پیش نہیں کی جاسکی۔ دنیا کا یہ وہ عظیم انقلاب ہے جس میں سب سے کم خون بہایا گیا اور جس میں مفتوح علاقے میں ہر کسی کو امان فراہم کی گئی۔ مفتوحین جب سالار اعظم کے سامنے لائے گئے اور ارشاد ہُوا۔ اے اہل مکہ! تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو سرجھکائے کھڑے قریش نے عرض کی: آپ اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم آپ سے حُسن سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مَیں اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کی طرح تم سب کو معاف کرتا ہوں۔ آج کے دن تم پر کوئی مواخذہ نہیں.... اسلام نہتے لوگوں پر وار کرنے سے منع کرتا ہے۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ اُٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام دینِ محبت ہے۔ دین امن و سلامتی ہے۔ دین حق و عدل ہے، دینِ متین و مبین ہے۔ ذمیوں کے حقوق کا علمبردار ہے۔ ذمی مملکتِ اسلامیہ میں اپنے عقائد کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اُن کے معبدوں کی حفاظت، اُن کی جانوں کی حفاظت، اُن کی املاک کی حفاظت اسلامی مملکت کے فرائض میں شامل ہے۔

 حالیہ پشاور حملے میں عیسائی بھائیوں پر قیامت توڑنے والے کسی درجہ کے بھی مسلمان نہیں ہو سکتے۔ مسلمان کبھی بھی اس قسم کی بُردلانہ کارروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی اور ملک دشمن قوتوں کے آلہءکار بننے والے یہ مُٹھی بھر لوگ ملک کے عدم استحکام کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے مساجد کے باہر پہرے، امام بارگاہوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی، گرجا گھروں، مندروں پر مسلح پہرے لمحہءفکریہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بہاولپور کے گرجا گھر کو خون میں نہلا دیا گیا۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ کراچی میں کوئی شہری محفوظ نہیں، ہر کوئی ہٹ لسٹ پر ہے، نہ جانے کہاں کسی اندھی گولی، دھماکے یا بارودی سرنگ کا نشانہ بن جائے، مگر دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان تمام انسانوں کا بلا تفریق مذہب و ملت جان و مال، عزت و آبرو کا محافظ اور امین ہوتا ہے۔ اُس کے ہاتھ اور زبان سے ہر کوئی مامون و محفوظ ہوتا ہے۔ اسلام کا ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں یا گروہوں سے کوئی تعلق نہیں:

ہم نے تو دشمن کے بھی مرنے کی نہیں مانگی دعا

ہم وہ زندہ ہیں کہ ہر شخص کو زندہ چاہا

مزید : کالم