وزیراعظم نوازشریف اور باراک اوباما کے درمیان ملاقات بدھ کو ہوگی

وزیراعظم نوازشریف اور باراک اوباما کے درمیان ملاقات بدھ کو ہوگی

واشنگٹن (این این آئی) وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی صدربراک اوباما کے درمیان ملاقات بدھ کو ہوگی جس میں امریکہ کابل اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات کےلئے پاکستان سے مدد طلب کرے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی تھنک ٹینک کے ایک سینئر رکن ڈینئل مارکے نے بتایا کہ رواں سال مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شریف کی شراکت دار بننے کی خواہش نے واشنگٹن کو متاثر کیا مارکے کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے سینئر رہنما عبدالغنی برادر سمیت دیگر قیدیوں کی رہائی سے ان الزامات کی شدت میں کچھ کمی آئےگی۔انہوں نے کہا کہ اوباما پاکستان کی طرف سے افغان امن عمل پر نئے خیالات چاہیں گے کیوں کہ امریکا اور نیٹو فورسز کو آئندہ سال خطے سے پر امن انخلا کو یقینی بنانا ہے۔مارکے جنہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات پر ‘نو ایگزٹ فروم پاکستان’ کتاب لکھی ہے نے کہا کہ پاکستانی نئے خیالات کے ساتھ آتے ہیں تو وہ کچھ نقطوں پر جیت حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر اسکے لیے انہیں کچھ مخصوص آفرز کرنا ہوں گی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ مددگار ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم کا یہ دورہ امریکا20 سے 23 اکتوبر تک جاری رہے گا جو نواز شریف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکا کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا جس سے دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں مدد مل سکتی ہے۔وائٹ ہاﺅس نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ سے دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا دورے سے توانائی باہمی تجارت، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔ اتوار کو وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت اور پائیداری ظاہر کرتا ہے دورے سے توانائی ، باہمی تجارت، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کے شعبوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

مزید : صفحہ اول