35صوبے ہی پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہیں، طاہر القادری

35صوبے ہی پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہیں، طاہر القادری

 لاہور(سٹاف رپورٹر)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے کہا ہے کہ موجودہ نظام نمک کی ایسی کان ہے جس میںہیرابھی کچھ عرصے میںاپناوجودکھودیتاہے،نظام کی تبدیلی کے بغیرعوام اوران کے حقوق کے مابین خلیج بڑھتی جائے گی۔اختےارات کی عدم مرکزیت پر ےقین رکھتے ہیں،ہماری جماعت پاکستان کے ہر ڈویژن کوصوبہ بنانا چاہتی ہے،35صوبے ہی پاکستان کے مسائل کاواحدحل ہیں،صوبے کانظم ونسق چلانے کے لئے وزیراعلیٰ کی بجائے ایک گورنر کافی ہے جس کابجٹ ڈویژن کے کمشنر کے برابر ہوگا۔ایک کروڑنمازی جمع ہوںگے تو اقامت کہہ کر جماعت قائم کریںگے،جس دن جماعت قائم ہوگی ملک سے کرپشن کاخاتمہ اور حقیقی جمہوریت کاخواب شرمندہ تعبیرہوجائے گا۔ان خیالات کااظہار انہوںنے پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہاکہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے 60فیصد کم ممالک میں 50سے80صوبے ہیں ،وہاںایک ہزارکے قریب ضلعی اور 3000تک میونسپل حکومتیں قائم ہیں۔وفاقی حکومت کے پاس صرف سٹیٹ بنک،کرنسی،دفاع،عالمی تجارت سمیت 6محکمے ہونا چاہئیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ پورے پنجاب کی بجائے صرف لاہور کاوزیراعلیٰ بننا اس لئے پسند نہیں کیاجاتا کہ اس طرح لوٹ مار کے لئے بجٹ کم ملے گا اورلوٹ مار کے مواقع کم میسر آتے ہیں،اس لئے نظام کی تبدیلی کی طرف بڑھنے سے اکثرجماعتیںخوف زدہ ہیںمگرہم عوام کو حقوق دلانے کے لئے 35صوبے بنائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ نظام کی قباحتوںمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ تقرر،ترقی اور تبادلہ وزیراعلیٰ اور اس کے بیٹے کامرہون منت ہے،جہاںوسائل اور اختےارات کااتناارتکاز ہو وہاںجمہوریت پنپ نہیں سکتی اور عوام کے حقوق ضرور ذبح ہوتے ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ افسوس موجودہ نظام میں پولیس کانسٹیبل ،پٹواری اور تحصیل دار کی ٹرانسفربھی وزیراعلیٰ کے بغیر نہیں ہوسکتی،ارتکاز وسائل کاہوےا اختےارات کامعاشروںکو تباہی کی جانب ہی دھکیلتا ہے۔طاہر القادری 

مزید : صفحہ آخر