بلبل کا بچہ۔۔۔

بلبل کا بچہ۔۔۔
 بلبل کا بچہ۔۔۔

  


گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر)بچپن ایسی چیز ہے ؟ کے جس کے بارے میں مجموعی رائے یہی ہے کہ اگر انسان کو موقع ملے یا اس کی خواہش پوچھی جائے تو اپنا بچپن ضرور مانگتا ہے ۔حالانکہ سب کا بچپن بہت سہانا نہیں ، لاتعداد ایسے ہیں جنہوں نے بچپن میں ایسی ایسی صورتحال کا سامنا کیا جسے یاد کرکے وہ خود بھی کانپ اٹھتے ہیں اور توبہ توبہ کرنے لگتے ہیں لیکن بچپن کی اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ فاقوں اور مصائب میں بھی عمر کا یہ حصہ شہنشاہیت کہلاتا ہے ۔ پاکستانی ادب میں ایسے کئی نام ہیں جو بچپن ایک لفظ میں لوٹا دیتے ہیں ۔ان میں صوفی تبسم اور قیوم نظر کا اپنا مرتبہ اور مقام ہے ۔ صرف’ بلبل کا بچہ ‘ ذہن میں لائیں تو زندگی کی سینچری مکمل کرنے کا چھکالگاتے ہوئے بھی انسان ایک ساعت میں پورے کا پورا ریورس ہوجاتا ہے ۔بظاہر یہ ایک نظم ہے جس میں بلبل کے بچے کا معمول اور خصلت بیان کی گئی ہے حالانکہ اس کا اصل پیغام وقت اور حیات سے متعلق ہے ۔بہت سے پرندوں میں بلبل کی اپنی شان ہے ، کئی پرندوں کی طرح معصوم ہے بلکہ ان سے بھی معصوم جو ننھے ننھے پرندے حسین زندگی خوشگوار اور شاندار مستقبل کا خواب دیکھتے مستقبل میں اپنے آپ کو ڈاکٹر ،انجینئر ، سائنسدان اور استاد کے روپ میں محسوس کرتے سڑک، گلی، درسگاہ ، عبادتگاہ اور پناہ گاہ میں ہوتے ہین لیکن اچانک شکاری انہیں بارود سے بھون ڈالتا ہے اور ان کی اسی طرح آہ بھی نہیں نکل پاتی جیسے چڑیا کو گن کا فائر لگ جائے تو اس کی آواز بھی نہیں نکلتی البتہ گھونسلے میں اس کے منتظر بچوں کی چیں چیں ہرگزرنے والے کو بے چین کردیتی ہے ماسوائے اس شکاری کے جو فخرسے خودکلامی کرتے کہتا ہے کہ کہ تیز اڑتی اور پھدکتی تھی ، اب نہیں آئے گی ۔۔۔ایسی آوازیں اب جنگل میں نہیں بڑے شہروں میں اور کئی گھروں میں روز سننے کو ملتی ہین جس سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔پالتو جانوروں میں خرگوش اور پرندوں میں بلبل مجھے تبھی سے بہت پیارے ہیں، جب سے دیکھا اور ناموں سے شناخت ہوئی ۔میرا چھوٹا بیٹابھی پھدکتا اور بھاگتا ہوا خرگوش لگتا ہے اور خوشی کے لمحات میں چہک چہک کر باتیں کرتے ہوئے بلبل محسوس ہوتا ہے ۔بہت میٹھی میٹھی باتیں کرتا ہے ، وہ سکول بھی بے شمار پاکستانی بچوں کی طرح قسمت سے ہی جاتا ہے البتہ کمپیوٹر اور ٹیلی فون پر اس کی انگلیاں اور دماغ سب سے تیز ہے ،جب کبھی میں اسے دستیاب ہوتا ہوں تو وہ بہت سے سوال پوچھتا ہے ۔بم دھماکے میں بینطیر بھٹو کی موت ، اس پر ان کے بچوں کے آنسو، پوری قوم کے سوگ اور نشریارتی اداروں کی خصوصی کوریج کے دوران اس نے پہلا سوال کیا تھا کہ کیا بم مارنے والوں کے بچے نہیں ؟ اگرچہ میرے پاس اس کا تسلی بخش جواب تھا لیکن اس سے اس کی تشفی نہ ہوئی ، تب اس کی دادی نے بتایا کہ جب پہلا حملہ کیا گیا اس وقت تیرا باپ بھی وہیں موجود تھا ،اس نے جواب میں کوفزدہ ہوکر مجھے اتنے بھرپور جپھی ڈالی کہ چند پونڈ کا یہ ننھامنا مجھے طاقتور پہلوان محسوس ہوا ، اس کے بعد اس نے سوال نہیں کیا بلکہ کئی بار مجھے چوما اور چپ ہوگیا۔بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے کا ذکر ہوا تو اس نے سوال کیا کہ ان کا بادشاہ کہاں ہے؟ میں بیزاری سے جواب دیا کہ مرگیا ہے ۔ سوال ہوا کہ پھر اتنا بڑا گھر کیوں بنوایا ؟ مراد یہ تھی کہ اتنے ٹھاٹھ باٹھ والا اب کہاںہے اور اس عمارت کے کس کونے میں رہتا ہے ؟یہاں میں نے صحافتی حربہ استعمال کیا اور بتایا کہ مکان اور محلات بنوانے والے خود زیادہ دیر نہیں رہتے، بس ان کی دیواریں ہی رہ جاتی ہیں اور کئی تو انہیں دیواروں میں قید کرکے ماردیے جاتے ہیں، ہم کرائے کی جس کٹیا میں رہتے ہیں یہ اس قلعے سے بہتر ہے کیونکہ جب ہم یہاں سے یا جہاں سے چلے جائیں گے تو کچھ کھونے کا ملال نہیں ہوگا ۔تب سے اس نے بڑے گیٹ والے بنگلوں کا سپنا خیالِ غلط مان لیا ہے ۔جب اس نے سوال کیا تھا کہ شاہی مسجد اور شاہی قلعے کا بادشاہ کہاں ہے تو مجھے شاہی محلے کے مالکان ، مکینوں اور نگینوں ’کمینوں ‘کے بارے میں سوال کی توقع بھی ہوچلی تھی تبھی میں نے بیزاری سے جواب دیا ۔ ورنہ ان مکینوں اور نگینوں کے بارے میں کیا بتاتا کہ وہ محلہ تو اب پورے شہر اور ملک میں بدل گیا ہے اور کسی نہ کسی اعتبار سے ہم خود بھی اس کا بجز ہیں ،خواہ خیال ، معاشرتی بے اعتنائی یا ماحولیاتی آلودگی اور غفلت کی وجہ سے ؟ کیونکہ اپنے سوا کسی کے بہن بیٹی کی عزت تو اب عزت محسوس ہی نہیں کرتے جب احساس کا رنگ اس طرح بدل جائے تو کسی بھی محلے کا کوئی بھی نام رکھ لیں فرق نہیں پڑتا ۔بیٹے کی توجہ ہٹانے کیلئے میں نے اس سے بلبل کے بچے کا ذکر کیا اور اسے بھی بلبل کہا تو اس کیلئے بلبل کسی نئی ویڈیو گیم کا نام محسوس ہوا ۔ تب میں نے قیوم نظر کی نظم ’ بلبل کا بچہ ،کھاتا تھا کھچڑی،گاتا تھا گانے،میرے سرہانے‘سنائی تو تو وہ اسے ایک’ ’پوئم اور گیت“ ہی سمجھا ۔  جدید سلیبس میں اب یہ نظم تختی اور سیٹ کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ہے ۔سوچتا ہوں کہ میں تو بلبل کا بچہ یاد کرکے کوئی پیسہ خرچ کئے بغیر اپنے بچپن میں لوٹ جاتا ہوں ، کل کو میرا بلبل اگر اپنا بچپن دیکھنا چاہے گا تو کونسی نظم اور لفظ یاد کرے گا ۔ اسے کونسا قیوم نظر اور صوفی تبسم یاد آئیں گے ؟ کیا اس کے سہانے بچپن کے ساتھ ساتھ ہمارے یہ لکھاری بھی جددید سلیبس کی ’دہشت گردی ‘ کا نشانہ بن کر مرجائیں گے ؟

مزید : بلاگ