روس اس دفعہ افغانستان میں نہیں شام میں ہے

روس اس دفعہ افغانستان میں نہیں شام میں ہے
روس اس دفعہ افغانستان میں نہیں شام میں ہے

  

مشرق وسطیٰ میں صورت حال کا نقشہ ہر روز بدلتا جاتا ہے،اس کی صورت حال تبدیل ہو رہی ہے یا اس میں تبدیلی لائی جا رہی ہے، جو بھی ہو رہا ہے اس بارے میں صرف اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تبدیلی برپا کرنے کا عمل ا ور تبدیلی کی خواہش کرنے والے لوگ خود کو منصوبہ بند سمجھتے ہیں اور بنائے گئے یا خواہش کئے گئے منصوبے کے مطابق نتیجہ چاہتے ہیں، لیکن معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے، جس کے لئے ہم تیار نہیں ہوتے اُس وقت ہم بھرپور قوت کا استعمال کرتے ہیں۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے پھر سے روس سے سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق دوستی کا ہاتھ بڑھا کر افغانستان کی طرح شام میں ہونے والی دہشت گردی کی لڑائی میں اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اگر ماضی کو یاد کریں تو تب سوویت یونین تھا اور افغانستان میں فوج بھیجنے کا فیصلہ خالصتاً بریژنیف کا تھا اس وقت شام میں روس کی بھرپور طاقت کا مظاہرہ اور اس کے پیچھے چھپی شاباش کس کی ہے؟

کچھ کا خیال ہے کہ روس ایک بار پھر اپنی طاقت کے جوہر دکھانا چاہتا ہے اور خود کو منوانا چاہتا ہے اس لئے اُس نے شام کے میدان میں چھلانگ لگائی ہے، اور مغرب جس کا سرغنہ امریکہ ہے ، یہ سوچ رکھتا ہے کہ اگر روس داعش کے خلاف کارروائی کر رہا ہے تو ٹھیک ہے، مگر حالیہ خبروں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ روس بشار کو مستحکم کرنے کی غرض سے حکومت مخالف مسلح حزب اختلاف کو نشانہ بنا رہا ہے، جو درست طریقہ نہیں ہے ۔مَیں اپنی اس خطے پر کی گئی ریسرچ اور بہت سے تجزیہ اور اس خطے سے باہر ہونے والی تحقیق کی روشنی میں یہ نتیجہ نکال سکتی ہوں کہ کیا روس پھر سے اپنی حیثیت منوانا چاہتا ہے اس لئے وہ اِس جنگ میں کودا ہے یا اُس نے کسی طرح کی مہم جوئی کو اپنایا ہے اور ان سارے معاملات کو لے کر اُس کے دماغ میں کوئی اور منصوبہ پَل رہا ہے۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے جس میں روس کے انسٹیٹیوٹ برائے تزویری تحقیق کے ڈائریکٹر کی مشیر مستشرق خاتون ایلینا سوپونینا کا کہنا ہے کہ روس نے برسوں بعد پہلی بار امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنے موقف سے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ امریکہ نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ یہ وہ وقت نہیں جب صدر شام بشارالاسد کے سیاسی مستقبل کی بات کی جائے۔ ان کے مطابق صدر باراک اوباما نے یہ نہ چاہتے ہوئے حالات کے دباؤ کی وجہ سے کیا ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے کھیل کے روسی اصول مان لئے ہیں اور اس وقت وہ صدر بشار کے استعفیٰ کی بات نہیں کرے گا۔ یہ اختلاف پوری طرح دور نہیں کیا جا سکا ہے ، امریکہ نے محض اس سوال کو کسی مناسب وقت کے لئے ملتوی کیا ہے تاہم یہ روس کی ایک بڑی کامیابی ہے ۔

روس کی چونکہ بہت لمبی سرحدیں وسط ایشیا کے ملکوں کے ساتھ ملتی ہیں اور ان سرحدوں سے غیر قانونی طورپر رسائی بہت ہی آسان ہے ۔ اصل میں روس میں دو کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں، جن کا دوسرے عقیدوں کو ماننے والے لوگوں کے ساتھ رواداری اور امن کے ساتھ رہنا صدیوں سے مثالی رہا ہے، جو تاحال پاکستان اور افغانستان میں نظر نہیں آتا تاہم قفقاز کے علاقے میں خاص طور پر ایک صدی پیشتر داغستان میں اور ڈیڑھ دو عشرے پیشتر چیچنیا میں روس سے علیحدہ ہونے کے لئے جنگیں لڑی گئیں،مگر بالآخر لوگوں کی بڑی تعداد نے روس کے ساتھ جڑ کر رہنے کو ترجیح دی۔اس سے یہ بھی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ روس کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو اپنے مذہب یااخلاقیات اور زندگی کے مسائل بارے کوئی پریشانی یا فکر نہیں ہے۔ اس وقت روس میں اتنے تارکین وطن ہیں جتنے حال ہی میں یورپ میں جانے والے تارکین وطن ہیں اگر وہاں پہلے سے بسنے والے تارکین وطن کو شامل کر دیا جائے تو اس مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔ان تارکین وطن کی اکثریت تاجکستان، ازبکستان، کرغیزیا سے ہے۔روس کی خفیہ ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق اس وقت داعش کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں تقریباً ڈھائی ہزار روسی شہری جنگ لڑ رہے ہیں۔ وسط ایشیا سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔تاجکستان میں اسلامی تحریک اور خانہ جنگی رہی۔ ازبکستان میں بھی مسلح شورشیں ہوئیں،یعنی وہاں پر حکومت مخالف مسلمان جنگجوؤں کی سرکشی کی مثالیں موجود ہیں۔

روس کے مطابق اس وقت شام کی فوج اور اس کے حامی واحد مسلح قوت ہیں جو داعش کے جنگجوؤں کا حقیقت میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ دوسری طاقتیں خواہ وہ مغربی ہوں یا ان کے عرب حامی کسی نہ کسی طرح انتہا پسندوں کی ہی معاونت کر رہے ہیں۔ تو کیا امریکہ نے داعش سے لڑائی کرنے کا جھوٹا بہانہ بنا رکھا ہے ، صرف فضائی حملوں کے علاوہ وہاں کچھ او ر نظر نہیں آتا، روس یہ سوچتا ہے کہ فضائی حملے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں اس سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے روس نے یہ تجویز دی ہے کہ اس بدی سے نمٹنے کی خاطر ایک وسیع تر اتحاد بنایا جائے، جس میں وہ قوتیں بھی شامل ہوں، جو اصل میں داعش کے ساتھ لڑ رہی ہیں، یعنی شام، ایران، عراقی کرد وغیرہ اور یہ کہ اس اتحاد کو کھلا رکھا جائے، جس میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی خواہش رکھنے والا کوئی بھی ملک شامل ہو سکے۔یہ اتحاد دہشت گردوں کے خلاف زمینی لڑائی لڑ کر انہیں ختم کر دے گا ۔

مسئلہ پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب روس فضائی حملوں کو بار بار ناکافی کہہ رہا ہے تو اس نے خود فضائی حملے کیوں شروع کئے اور ان پر ہی اکتفا کیوں کیا؟ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ روس فضائیہ شام کی فوج اور اس کے مسلح اتحادیوں کی معاونت کی خاطر ایسا کر رہا ہے تاکہ وہ کھل کر اور ہمت کے ساتھ زمینی لڑائی لڑ سکیں ۔یہاں ایک بات اور بھی واضح ہوتی ہے کہ روس وہ مُلک ہے، جس کا واسطہ بہت پہلے دہشت گردی سے پڑ گیا تھا سو ہم روس کو دہشت گردی سے متاثر ہونے والا پہلا مُلک کہہ سکتے ہیں، تو کیا یہ وجہ ہے جو روس اس دہشت گردی کی لڑائی میں نمٹنے کے لئے خود کو ماسٹر سمجھتا ہے۔ اگر ہم ایک لمحہ کے لئے یہ خیال کریں تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ روس مغرب کے دہشت گردوں کو پالنے کی پالیسی سے تنگ آ کر یہ قدم لینے پر مجبور ہوا ہے،کیونکہ بقول پوٹن کے ’’داعش والے وحشی تو ہیں ہی، لیکن لاعلم یا جاہل نہیں ہیں‘‘ مطلب یہ کہ وہ اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں، جن کواگر اب نہ روکا گیا تو پھر روکنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

کسی وقت یہ بھی خیال آتا ہے کہ کہیں روس کے ساتھ وہی کہانی دوہرائی گئی جو مشرق وسطیٰ کے وقت ہوا تھا جب سوویت یونین افغانستان میں بُری طرح پھنس چکا تھا، مگر شاید یہ اس وقت ممکن نہ ہو، کیونکہ وقت اور حالات اور ماضی کے کردار سب بدل چکے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اب نہ تو شام کے ہمسائے میں پاکستان ہے اور نہ وہاں کا حاکم ضیاّالحق۔ اگر ہے تو صرف ترکی یہاں سوچ یکسر تبدیل ہو جاتی ہے، کیونکہ ترکوں کی عربوں سے اتنی محبت کبھی نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک حاکم سے جان چھڑانے کی خاطر دوسرے حاکم کو اپنے سر پر چڑھا لیں۔یہی وجہ ہے کہ روس بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ بشارالاسد کی حمایت نہیں کر رہا، بلکہ عالمی قوانین کی حمایت کر رہا ہے کہ اگر بشارالاسد کو ہٹانا ہی ہے،تو جمہوری طریقے سے ہٹانا چاہئے ، ویسے نہیں جیسے صدام اور قذافی کو ہٹایا گیا یہ بھی ماضی کے حقیقی کردار ہیں، جن کے بعد جمہوری قوتوں کی بجائے انتہا پسند مذہبی قوتوں کو آگے آنے کا موقع ملا۔

سو یہ حقیقت تو واضح ہو گئی کہ بشارالاسد کی حکومت بنائے رکھنا کسی کا اصل مقصد نہیں ہے، بلکہ مغرب کی سیاسی غنڈہ گردی کو روکنا اولین مقصد ہے اور دوسرا مقصد مغرب کے حمایتی دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے، جو بات تو مغرب کے خلاف کرتے ہیں، لیکن ان کے تمام اعمال مغرب کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو کیا اصل ٹارگٹ مغرب کی سیاسی غنڈہ گردی کو ختم کرنا ہے یا مذہبی دہشت گردی کو؟ تو ہم کیا اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ مغرب جب تک اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا وہ روس کا ساتھ دینے پر مجبور رہے گا؟ کیا شام میں سوچے گئے مقاصد حاصل کئے جا سکیں گے؟کیا امریکہ نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ جس طرح افغانستان میں پاکستان کو شامل کیا گیا اور ڈومور(do more ( کا حکم دیا گیا اور آج یہ ڈومور افغانستان سے چل کر پاکستان پہنچ چکا ہے۔ دہشت گرد ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں اور خطرات چاروں طرف۔کل کو امریکہ روس کو ڈومور کا کہہ دے اور بدنام بھی کر دے گو کہ روس کے اپنے بھی شام میں مقاصد ہیں،تو کیا پھر یہ دہشت گرد روس کی سرحدوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے یا روس نے اس بارے حفاظت کر رکھی ہے۔امریکہ کو خوش کرنا بہت مشکل ہے کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کوشش کرے گا کہ روس پر یہ الزام لگا کر کہ وہ بشار کی مدد کر رہا، اسے بدنام کرنے کی کوشش کرے مگر اس کے لئے روس کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے اس میدان سے نکالنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

داعش کے رہنما ویسے تو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت روس کی سرزمین پر بھی ہو گی ایسی صورت حال میں روس کیا کرے گا، کیا وہ بھی داعش کے خوف میں مبتلا ہے یا حقیقت میں وہ شا م کی مدد کر رہا ہے یا مدد کی آڑ میں اپنے آنے والے دنوں کی حفاظت۔ شام میں فضائی حملے کرنے سے پہلے اگر دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل تمام اتحادی مُلک اگر چاہتے تو کم از کم سعودی عرب اور قطر سے دہشت گردوں کو ملنے والی مالی امداد ہی رکوا دیتے۔ترکی کی سرزمین پر دہشت گردوں کی معاونت ختم کروا دیتے۔ ان کا کاروبار تباہ کر دیتے جو وہ اپنے زیر قبضہ لئے گئے تیل والے خطوں سے تیل کو سستے بھاؤ بیچ کر کر رہے ہیں۔بہت کچھ ہو سکتا تھا، مگر نہیں ہوا۔

دیکھا جائے تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ اس تمام عرصے میں اگر داعش کے خلاف کوئی لڑا ہے تو وہ بشار اسد کی فوج، کرد اور ایرانی لڑے ہیں اگر واقعی ایسا ہے تواس کے بدلے مغرب سے لعن طعن کی صورت مستعفی ہونے کے مطالبے کے سواکچھ نہیں ملا۔ان دہشت گردوں کو چاہے کوئی نام دے لو، داعش کہہ لو یا اعتدال پسند حزب اختلاف،ان کے بہت سارے نام ہیں ایک نام ختم ہوتا ہے تو ایک اور پیدا ہو جاتا ہے جس کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔ اب جب مغرب نے خود کو ناکام پایا تویہ ذ مہ د اری روس نے داعش کے خلاف لے لی اب صرف توقع کی جا سکتی ہے کہ مغرب روس کے کام میں مداخلت نہ کرے ورنہ مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکیں گے ۔ *

مزید :

کالم -