کشمیر اور البطروسس (1)

کشمیر اور البطروسس (1)
 کشمیر اور البطروسس (1)

  

پنڈت جواہر لعل نہرو دو لعنتوں کا طوق ہندوستان کے گلے میں ڈال گئے ہیں۔ پہلی لعنت کشمیر پر قبضہ، جو ہندوستان کے لئے اسرائیل جیسا مغربی کنارا بن گیا ہے اور جس کے بارے میں کسی دیانتدارانہ بات چیت کا عدم امکان ہندوستان کی دانشورانہ زندگی میں ہمیشہ کے لئے زہر گھول رہا ہے۔ دوسری لعنت موروثی حکومت ہے، جس سے ان کے حامی انہیں بچگانہ طریقے سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ نہرو خود اپنے آپ کو اپنے باپ کے عہدے کا پوری طرح حق دار سمجھتے تھے۔۔۔(پنڈت موتی لال نہرو دو بار کانگریس کے صدر بنے) اور یہ بات ان کی جبلت میں شامل تھی، جس کے تحت وہ تمام سرکاری دوروں میں اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر گھومتے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو کانگریس کا صدر دیکھنا چاہتے تھے، جس کے لئے اس کی اہلیت سوائے خونی رشتے کے کوئی اور نہیں تھی۔ یہ خیالات امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں تاریخ و سماجیات کے پروفیسر ممتاز برطانوی مورخ و سیاسی تجزیہ کار پیری اینڈرسن کے ہیں، جن کا اظہار انہوں نے ہندوستان کے بارے میں اپنی کتاب ’’انڈین آئیڈیالوجی‘‘ کے حوالے سے ہندوستان کے معروف کالم نگار پرافل بدوائی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، جو ان کے رسالے ’’آؤٹ لک‘‘ میں شائع ہوا۔

http://www.outlookindia.com

/article.aspx.282832

موجودہ کالم اس انٹرویو کے اختصار پر مشتمل ہے۔ پیری اینڈرسن نے مذکورہ بالا بات کالم نگار کے اِس سوال کے جواب میں کہی تھی کہ کیا نہرو نے کوئی قابلِ قدر ترکہ چھوڑا ہے؟ پروفیسر نے اس کے جواب میں جو الفاظ استعمال کئے تھے، وہ کچھ یوں تھے: ’’نہرو نے ہندوستان میں جمہوریت کو تحفظ بھی دیا اور نقصان بھی پہنچایا، قومی سطح پر اور صوبائی سطح پر بھی۔یہ اور بات ہے کہ اُن کے دور میں پارلیمانی حکومت مضبوطی سے قائم رہی۔ اگر اس میں کوئی تحریف یا کمی بیشی ہوئی، جو کہ ہوئی تو اسے سرمایہ دارانہ تصور آزادی سے انحراف قرار نہیں دیا جا سکتا،کیونکہ امیر،جمہوری ممالک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ نہرو کا مثبت ورثہ تھا،لیکن اس کے ساتھ دو دائمی منفی ترکے بھی تھے، جو وہ البطروسس کے جوڑے کی طرح ہیں، جو ابھی تک ہندوستان کی گردن میں لٹکے ہوئے بدبو دے رہے ہیں۔ اس میں سے اول کشمیر ہے اور دوسرا موروثی سیاست۔

پیری اینڈرسن نے البطروسس نامی جس پرندے کے جوڑے کا ذکر کیا ہے،اس کا سلسلہ انگلستان کے مایہ ناز شاعر کولرج کی تخلیق ’’ قدیم جہاز راں کی نظم‘‘ سے جا ملتا ہے، جس میں ایک قدیم ملاح جہاز کے پیچھے پیچھے جانے والے ان پرندوں کو،جو خوش قسمتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اپنے تیر سے شکار کر کے جہاز والوں کے لئے نحوست کی علامت بن جاتا ہے، چنانچہ لمبے بازوؤں والے ان بھاری پرندوں کا ایک جوڑا سزا کے طور پر اس کی گردن میں باندھ کر لٹکا دیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس جوڑے کا ذکر محاورے کے طور پر بددعا، لعنت ،کامیابی کی راہ میں رکاوٹ یا بوجھ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ انٹرویو میں کتاب کے مندرجات کے حوالے سے جہاں کانگریس، گاندھی اور نہرو کی عظمت سے وابستہ کی گئی کتھا کہانیوں کا پول کھولا گیا ہے،وہاں کشمیر میں ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر بھی بارہا مختلف حوالوں سے ملتا ہے۔ ایک جگہ نہرو کے سیاسی کردار کا ذکر کرتے ہوئے پیری اینڈرسن نے کہا کہ نہرو کے حوالے سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کا محرک کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ نتھی کرنے کے عمل کو محفوظ بنانے کے ہنگامی تقاضے تھے اور ان کی تمام تر سفارتی توانائی اسی کام پر لگی رہی۔اس بارے میں اے جی نورانی(ہندوستان کے معروف قانون دان، جن کی کشمیر سے متعلق کتاب حال ہی میں شائع ہوئی) کا موقف غیر منصفانہ نہیں۔نہرو مصالحت کے جوہر سے عاری پیدائشی طور پر کٹر تھے، جن کا قومی مفادات کا ادراک تنگ نظری پر مبنی تھا۔

پرافل بدوائی کے ایک اور سوال کے جواب میں پیری اینڈرسن نے کہا کہ نہرو کی خارجہ پالیسی کی بہت تعریف کی جاتی ہے، جس کا کوئی ٹھوس جواز نظر نہیں آتا۔ ہندوستان کے اندر اور باہر لوگ انہیں ’’بنڈونگ‘‘ اور افریقہ و ایشیا کے اتحاد کا بااصول چمپئن سمجھتے ہیں،لیکن افسوس کہ یہ فریبِ نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔ نہرو امریکی سرمایہ داری نظام کے حامی نہیں تھے اور روسی کمیونزم کے بارے میں بھی ان کے بہت سے تحفظات تھے۔ اس لحاظ سے وہ یقیناًنظریاتی طور پر غیر جانبدار تھے، لیکن نہرو کی خارجہ پالیسی کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں ان کا کردار انتہائی بھونڈا نظر آتا ہے۔ ان کے اردگرد دیو مالائی کہانیاں بن گئی ہیں،اِس لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔۔۔ تین بڑی مثالیں ہی کافی ہوں گی۔۔۔ پہلی مثال 1955ء میں بنڈونگ کانفرنس جس کا کریڈٹ بڑی حد تک نہرو کو دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے لئے پیش قدمی ہندوستان نے کی ہی نہیں تھی۔ یہ پیش قدمی انڈونیشیا نے کی تھی، جس کی پاکستان نے زبردست حمایت کی تھی۔ انڈونیشیا کی طرف سے یہ تجویز اپریل1954ء میں کولمبو میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کی گئی تھی، جس میں سیلون، برما، ہندوستان اور پاکستان شریک تھے۔ سیلون اس تجویز پر رضا مند نہیں تھا، جبکہ برما اور ہندوستان تذبذب کا شکار تھے،چنانچہ کانفرنس کے پانچ ماہ بعد انڈونیشیا کے صدر ساسترو آمی جوجو نہرو کو اِس تجویز پر راضی کرنے کے لئے خاص طور پر ہندوستان گئے تھے۔ دسمبر1954ء میں جب پانچوں مُلک ’’بوگور‘‘ میں ملے تو ہندوستان نے زور دیا کہ اس میں اسرائیل کو بھی مدعو کیا جائے،لیکن پاکستان کی مخالفت کے باعث یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی۔

کانفرنس شروع ہونے سے ایک روز پہلے جب تمام مندوبین پہنچ چکے تھے، ہندوستان نے اِس بات پر اصرار کیا کہ اسے دولت مشترکہ کے طور پر منظم کیا جائے اور ضرورت سے زیادہ زور دے کر اپنی بات منوائی تھی۔ تیسرے روز الجزائر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حق میں یہ کہہ کر کہ زبان احتجاجی ہے،قرارداد کو رکوانے کے لئے نہرو نے مداخلت کی۔ علاوہ اس کے کہ وہ اسرائیل کو شامل کروانا چاہتے تھے اور الجزائر کے ذکر کے خلاف تھے۔ نہرو کے دیگر عزائم کیا تھے؟ وہ چین کو روس سے الگ کر کے ان کی یکجہتی کو توڑ کر افریقی ایشیائی اتحاد کے ساتھ اپنے تصور کے مطابق ملانا چاہتے تھے۔ چو این لائی نے روس اور چین کے تعلقات میں اس قسم کا شگاف ڈالنے کی اجازت نہیں دی، البتہ اس سے ہٹ کر ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے کانفرنس کے مقاصد کے حصول کی حمایت کی۔ جب کانفرنس کے اختتام پر ایفرو ایشیائی بلاک کے قیام کے لئے اجلاسوں کے انتظامات کا معاملہ زیر غور آیا تو نہرو کی نظر میں اس کا جو لحاظ تھا،اُس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اسے ضرورت سے زائد قرار دیا۔

اس کے تقریباً ایک دہائی بعد جب الجزائر میں دوسری افریقی ایشیائی کانفرنس کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، تب تک ہندوستان کا مقصد کیا ہو چکا تھا؟ یہ کہ چین اور تقریباً تمام رکن ممالک کی مخالفت کے باوجود روس کو اس میں ایک حق دار ایشیائی مُلک کے طور پر گھسیڑا۔ اس سے قبل نہرو کا جو موقف رہا تھا، اس لحاظ سے ان کی صاف نظر آنے والی اس تمسخر آمیز قلابازی کی وجہ یہ تھی کہ روس نہ صرف چین کا رد تھا،بلکہ سلامتی کونسل میں کشمیر کے بارے میں باعث آزار قرار داد کے خلاف بھارت کے مفادات کا قطعی محافظ بھی تھا۔واقعات کی کڑی میں دہلی کے اطمینان کے لئے، جس کی ابتدا سے ہی اس میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں تھی، الجزائر کا اجلاس ساقط ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہرو کے لئے دولت مشترکہ کے اَن گنت اجلاس کہیں زیادہ اہمیت کے حامل تھے،جن میں وہ کئی بار شریک ہوا ہو گا۔ نہر سویز کے مسئلے کو لے لیں۔ اِس معاملے میں سمجھا جاتا رہا ہے کہ نہرو نے نو آبادیاتی سامراج کے خلاف بے خوف و خطر جرأت مندانہ کردار ادا کیا، لیکن یہ سب زبانی اعلانات تھے، جن پر نہرہ کا کچھ خرچ نہیں ہوا۔ بالآخر وہ اسی طرف تھے، جس طرف امریکہ کا صدر آئزن ہاور تھا۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات کہ1956ء کے موسم بہار میں جب جمال عبدالناصر نے فرانسیسی، برطانوی اور اسرائیلی حملے سے قبل مادی مدد کی اپیل کی تھی، نہرو نے مصر کو اسلحہ کی فراہمی سے انکار کیا تھا، کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں دولت مشترکہ کی منڈی میں اچھی نظروں سے نہ دیکھا جاتا،لہٰذا اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ نہرو کے دور میں غیر جانبداری کے دلآویز اصول کے نام پر خارجہ پالیسی کے کون سے بڑے بڑے کام کئے گئے؟ اقوام متحدہ کے کانگو میں آپریشن کے لئے ہندوستان کے فوجی دستے کی فراہمی،اس کی بدنام زمانہ متعدد مہم جوئیوں کی جانب پہلا قدم تھا۔ وہاں جو کچھ ہو رہا تھا نہرو کے بھروسہ دار را جیش وال دیال کی نگرانی میں ہو رہا تھا، جو اقوام متحدہ میں ہندوستان کا سفیر اور بعد میں فارن سروس کا سربراہ بھی رہا۔ ستمبر1960ء سے مئی1961ء تک کانگو میں اقوام متحدہ کا آپریشن اس کی نگرانی میں انجام پایا۔ اس دوران کانگو کے منتخب صدر کو ہٹادیا گیا، اغوا کیا گیا، پھر فروری1961ء میں قتل کر دیا گیا۔ سیاسی ترکے کے طور پر نہرو نے اقوام متحدہ میں جو مثال چھوڑی، جہاں کانگو کے بارے میں پالیسی کے تعین کا اختیار مکمل طور پر امریکہ کے پاس تھا،وہ ان کے دولت مشترکہ کے ذہنی آزمائش کے کھیلوں میں شرکت سے بہتر نہیں تھی۔اقوام متحدہ کو فوجی دستے بھیجنا ہندوستان کا ٹریڈ مارک بن گیا ہے، جس کا مقابلہ صرف پاکستان کر سکتا ہے۔ آج کل پھر ہندوستان کے فوجی کانگو میں تعینات ہیں۔اس بار ان پر سونے اور منشیات کی سمگلنگ کا الزام ہے، نہرو کے زمانے میں البتہ ایسا نہ ہوتا۔(جاری ہے)

دوسری قسط

نہرو کے حمایتی ان تینوں معاملات میں تحفیف جرم کے لئے حالات ڈھونڈ نکالیں گے اور یہ بات بھی درست ہے کہ ہندوستان کے تمام سرکاری حکام دیال کی طرح مکمل مغربی احکامات کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ایسی کم از کم دو مثالیں ہیں جب مُلک کے وقار کا علامتی طور پر جرأت مندانہ طریقے سے تحفظ کیا گیا۔ اس بارے میں البتہ شک ہے کہ اس میں دہلی کا کوئی عمل دخل تھا یا؟۔۔۔ نہیں ایک تو ٹوکیو ٹربیونل (جاپان کے جنگی جرائم کے بارے میں بین الاقوامی کمیشن) کے رکن ہندوستان کے جج رادھا بنود پال، جنہوں نے 1948ء میں 1236 صفحات پر مشتمل ٹربیونل کی رپورٹ کو ’’فاتح کا انصاف‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسرے فلسطین پر اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کے نمائندے سر عبدالرحمن تھے، جن کی علاقے کی اکثریت کی جانب سے تقسیم کی تجویز، جسے فرضی طور پر رالف بنچ (مشرقی وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے نوبل انعام یافتہ ایلچی) سے منسوب کیا گیا تھا، کے خلاف اعتراضات سے بھرپور اقلیتی رپورٹ صہیونیت کے دعوؤں کی جامع اور تاریخی تردید ہے، جو موضوع کے لحاظ سے آج بھی اسی طرح مبنی برحقیقت ہے، جسے اُسے آج ہی لکھا گیا ہو، لیکن یہ لوگ اپنے وقت کے نظر انداز کئے گئے ہیرو ہیں۔

نہرو کے سیکولر ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیری اینڈرسن نے کہا کہ نہرو ذاتی طور اتنے ہی سیکولر تھے، جتنا آپ سوچ سکتے ہیں۔۔۔(اپنی زندگی کے آخری دِنوں تک جب وہ مذہب کے کھلونوں سے کھیلنے لگے تھے)۔۔۔ انہوں نے بے شک پٹیل کی اس تحریک کی مخافت کی تھی کہ سرکاری افسروں میں ایک بھی مسلمان نظر نہ آئے، لیکن بطورِ حکمران انہوں نے ہمیشہ ایک ایسی پارٹی کی قیادت کی جو ناگزیر طور پر ایک ہندو پارٹی تھی، جس کے جذباتی و جمالیاتی تقاضوں کو پورا کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر امبیدکر (دلتوں کے حقوق کے حامی کانگریس کے لیڈر) سے جب کانگریس ناراض ہوئی تو نہرو نے بغیر کسی ندامت کے امبیدکر کو نکال پھینکا۔ 1947ء میں انہوں نے مہا سبھا اور مکر جی کے ساتھ مل کر متحدہ بنگال کے خلاف ہندو قوم پرستی کی جارحانہ تحریک کو ہَوا دی اور انگریزوں کے روبرو یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ وہ اس وقت تک اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک پورا صوبہ ہندوستان کو نہیں مل جاتا، ایک بین المذہبی بنگال بننے کے موقع کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا، جس کے نتائج سرحد کے دونوں طرف کے بنگالی تب سے بھگت رہے ہیں۔ یہ نہرو کے ریکارڈ پر بدترین داغ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پیری اینڈرسن نے کہا کہ 1947ء میں جو کچھ ہوا،اس کی ذمہ داری اصولی طور پر کانگریس کی حماقت اور رعونت پر عائد ہوتی ہے جو بیسویں دہائی سے یہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی کہ وہ برصغیر میں واحد قانونی جماعت نہیں ہے، بلکہ اپنی ہیت ترکیبی اور انداز فکر کے لحاظ سے بھرپور ہندو اکثریت کی حامل پارٹی ہے اور کیونکہ وہ زیادہ طاقتور تھی،اِس لئے وہ نسبتاً کمزور مسلمان قومیت کے ساتھ فیاضانہ طور پر پیش آ سکتی تھی اور اس کی ضرورت بھی تھی۔

یہ محض کسی غیر ملکی کا موقف نہیں، یہ ہندوستان کے ممتاز تاریخ دان بی بی مسرا (BB Misra) کا موقف بھی ہے۔ مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیری اینڈرسن نے کہا کہ وہ ان کی قائدانہ صلاحیت کی قدر کرتے ہیں اور ان کے ذاتی خلوص اور بے غرضی کی بھی کہ وہ دیگر سیاست دانوں کی طرح اقتدار کے متمنی نہیں تھے۔ وہ اپنے انداز میں ایک عظیم آدمی تھے،لیکن یہ خوبی انہیں تنقید سے مبرا نہیں کرتی۔ وہ ذاتی طور پر کئی نفسیاتی مسائل کی گرفت میں تھے۔ ان کی دانشورانہ تشکیل محدود طور پر ہوئی تھی۔ دلیل کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اور انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ قومی تحریک کو ہندو تقدیس پرستی کے ساتھ ملا کر کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ ان کی اپنے تمام تر نابینا پن کے ساتھ عزت کی جانی چاہئے، اسے جذباتی بنانے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے اپنے طور پر مکمل طور پر یہ بے جا حق لے کر کہ وہ جو کہیں اسے سچ سمجھا جائے اور بھلے وہ دوسرے دن اپنا بیان بدل دیں،تب بھی ان کے ذریعے اسے بھگوان کی آواز ہی سمجھا جائے۔ اپنے مقلدین اور معترفین کے لئے ایک تباہ کن مثال قائم کر دی۔ اس عمل کا سب سے زیادہ مظاہرہ انہوں نے عدم تشدد کی تحریک میں کیا،کیونکہ جب ان کے مفاد میں ہوتا تو وہ تشدد کے بارے میں مراقبے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے نو آبادیاتی آقاؤں کی ضرورت کے لئے ہندوستان کے کسانوں کو مرنے کے لئے سوھو (فرانس کا دریا جس کے کنارے برطانوی اور فرانسیسی فوجوں کی جرمنوں کے ساتھ جنگ ہوئی) بھیجنے پر تیار تھے، کشمیر فتح کرنے کے لئے اُڑنے والے بمبار طیاروں کے ’’ٹیک آف کرنے پر تالیاں بجائیں، بلکہ برصغیر میں فرقہ وارانہ قتل عام۔۔۔ خانہ جنگی۔۔۔ کو برطانیہ کو نکال باہر کرنے پر ترجیح دی۔

بجائے اس کے کہ گاندھی کے حمایتیوں کی طرح اب حقائق کو روندتے ہوئے گزر جائیں، بطور تاریخ دان ان کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ جب پیری اینڈرسن سے پوچھا گیا کہ وہ ہندوستان کی جمہوریت کو ملائشیا اور سری لنکا کی جمہوریت سے کیوں ملاتے ہیں، جہاں جمہوریت ہے ہی نہیں، تو انہوں نے کہا کہ ووٹروں کی تعداد اور غربت کے باعث انہوں نے اپنی کتاب میں ہندوستان کی جمہوریت کو منفرد قرار دیا ہے، لیکن اس بات کو تقابل کے جذبے سے دیکھنے کے بجائے لاف زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ہندوستان کے اکثر انتخابی حلقوں میں انتخابات ملائشیا کی نسبت آزادانہ ہوتے ہیں، لیکن ان میں کہیں زیادہ تشدد بھی ہوتا ہے، اور یہاں محروموں کی قسمت ملائشیا کی نسبت بہت زیادہ خراب ہوتی ہے۔ سری لنکا میں تاملوں کو عرصہ ہوا حق خود ارادیت سے محروم کر دیا گیا ہے، یہی بات انہی وجوہات کی بنا پر کشمیر کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ پارلیمانی آزادی کے لحاظ سے ان تینوں میں سے کسی کا بھی تقابل کیا جائے تو ان کے مقابلے میں جمائیکا اور ماریشس کو زیادہ نمبر ملیں گے۔ ہندو ازم سے متعلق بدوائی کے اس سوال کے جواب میں کہ ہندوستان کو ایک ہندو ریاست کہنے کے بجائے، یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ اس پر صرف اونچی ذات کے ہندو قابض ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کے نچلی ذات کے ہندوؤں کا مقدمہ بھی قائم ہو جائے گا،جن کے ساتھ ریاست ظالمانہ سلوک کرتی ہے۔

پیری اینڈرسن نے کہا کہ اسلام اور عیسائیت کے مقابلے میں ہندو مت اپنی مقدس تحریروں، عقائد اور رسوم و رواج کے لحاظ سے نسبتاً کم یکسانیت کا حامل ہے۔ کسی بھی مذہب میں اونچے اور نیچے، ممتاز اور غیر ممتاز کے درمیان ایک خلا ہوتا ہے اور اسلام و عیسایت کے مقابلے میں ہندومت میں یہ خلا بہت بڑا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندومت کسی تخیل کی پیداوار، کوئی واہمہ ہے۔۔۔یا ایک اور فیشن ایبل طریقے سے کہا جائے تو برطانیہ کی تخلیق ہے اور یہ بھی کہ گول مول بات کر کے ہندوستان میں اس کی موجودگی اور طاقت کے دو ٹوک اعتراف سے گریز اس بنیاد پر کہ یہ ہمہ جہت ہے، اس لئے اسے ایسا نہیں کہا جا سکتا، ایک مدافعتی عمل ہے، جسے فرانس میں کہتے ہیں: ’’مچھلی کو پانی میں ڈبو کر غرق کرنا‘‘۔۔۔لیکن یہ کہ اسے کسی ڈھیلی ڈھالی یا پھیلی ہوئی قسم میں تحلیل کر کے کسی وقوعہ یا مظہر سے پہلو تہی کی کوشش۔ ہندومت بطور عقیدہ اپنے ڈھانچے میں یقیناًاسلام اور عیسائیت سے مختلف ہے، لیکن اس سے یہ مطلب نکالنے میں جو آج کل اس کے حمائیتیوں کا معیاری طریق کار ہے کہ یہ ان سے بہتر ہے، گریز کیا جانا چاہئے۔

زیادہ مختلف النوعیت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ زہریلا نہیں۔ مقدس تحریروں میں احکامات کے لحاظ سے اگر یہ کم ہے تو اقتدار و اختیار کے ظالمانہ نظام کے لحاظ سے یہ طویل ہے۔ صرف ’’ستی‘‘ کی رسم کے بارے میں سوچنا ہی کافی ہے۔۔۔ اور نہ ہی یہ کہا جانا چاہئے کہ ممتاز طبقے کے مشن کے مقابلے میں عوامی رواج کو زیادہ رواداری ورثے میں ملی ہے۔ مرکزی حقیقت یہی ہے کہ تقسیم، فرقہ وارانہ مذہبی بنیادوں پر ہوئی اور تقسیم ہند کے وقت قتل عام میں ہندوؤں کا حصہ آر ایس ایس (راشٹریہ یوسم سیوک سنگھ) کے قابل ذکر اثرات کے تحت نہیں تھا۔ فسادات کا کنواں نیچے سے بھرنا شروع ہوا تھا، اگرچہ، کچھ کم کثرت سے سہی، بہار اور حیدر آباد میں کانگریس کے لیڈروں نے اسے اوپر سے بھی بھرا تھا۔ اپنی کتاب ’’انڈین آئیڈیالوجی‘‘ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ہندوستان میں مروج روایتی سوچ کے خلاف پانچ بڑی دلیلوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ سب سے پہلی یہ کہ چھ ہزار سال قبل ہندوستان کی ’’ایکتا‘‘ ایک دیومالائی تصور ہے۔ دوسرے یہ کہ گاندھی کا مذہب کو قومی تحریک میں شامل کرنا بہت بڑی تباہی تھی۔ تیسرے یہ کہ تقسیم ہند کی بنیادی ذمہ داری برطانیہ پر نہیں،بلکہ کانگریس پر عائد ہوتی ہے۔ چوتھے یہ کہ نہرو کا ورثہ اس سے کہیں زیادہ مبہم ہے، جتنا ان کے معترضین تسلیم کریں گے اور آخر میں یہ کہ ہندوستان کی جمہوریت اور ذات پات کی عدم برابری میں کوئی تضاد نہیں،بلکہ جمہوریت اس کی وجہ سے قائم ہے۔

(انٹرویو کی تفصیلات کے لئے گوگل پر پیری اینڈرسن انٹرویو آؤٹ لک انڈیا لکھ کر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور کتاب تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔)

مزید :

کالم -