نیلی آنکھوں کے پیچھے کیا ہے؟

نیلی آنکھوں کے پیچھے کیا ہے؟
 نیلی آنکھوں کے پیچھے کیا ہے؟

  

ان دنوں سوشل میڈیا ایک چائے والے کو شہرت بخشنے کا ذریعہ بن رہا ہے ۔ جس کی آنکھیں نیلی ہیں اور جو اسلام آباد کے پشاور موڑ پر لگنے والے اتوار بازار میں چائے بناکے بیچتاہے ۔ ہو ایہ کہ مصر ی زلیخا کی تقلید میں ایک اسلام آبادی بی بی اس چائے والے کے حسن سے متاثر ہوگئی۔ اس نے اس کی تصویر بنائی اوراپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ڈال دی۔ سوشل میڈیا کی منڈی میں پھر ا س تصویر کو پذیرئی ملنا شروع ہوئی، خاص طورپر انڈین حوا کی بیٹیوں کو یہ تصویر بہت پسند آئی ۔ اس قدر کہ پشاور موڑ کے اس چائے فروش کی نیلی آنکھیں سوشل میڈیا کی زبان میں وائرل ہو گئیں۔ یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے دو لاکھ سے زیادہ لوگ اس وجیہہ چہرے کے مداح ہوگئے ۔۔۔ ظاہر ہے خواتین۔۔۔ جس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ انسان اپنے فطری تقاضے میں آج بھی بازارِ مصر میں یوسف کے سامنے دم بخود کھڑا ہے ۔ ظاہر ہے ایک بار پھر خواتین! فرق آیا ہے تو اتنا کہ پہلے بناتِ آدم حسنِ یوسف کی تاب نہ لا کر پھلوں کے بہانے ہاتھ کاٹ لیتی تھیں، آج وہ سوشل میڈیا پر ہاتھ بڑھاکر تصویر شیئر کرلیتی ہیں۔

یہ بھی دیکھئے کہ کس طرح سے معاشرہ اپنے رجحانات کے دائرے بدل لیتا ہے۔ انسان کس قدر حیرت زدہ رہ گیا ہوگاکہ جب پہیہ دنیا کا منظر نامہ بدل دینے والاآلہ ثابت ہوا تھا، پھر آئی ٹی کا دور دورہ ہوا۔ اسی کے طفیل پہلے دنیا سمٹ کر ایک گاؤں میں ڈھلی ، پھر گاؤں کی گلی ہو گئی ۔ صحافت ریاست کا ان لکھا ستون قرار پائی تھی تو تب پرنٹ میڈیا کی بن آئی تھی۔ آج مگرروایتی میڈیا کے مقابل سوشل میڈیا کا رجحان ساز دور ہے۔ عرب بہار میں تو خیر یہ گیم چینجر ثابت ہوا ہی تھا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر ریگولر میڈیا کو سوشل میڈیا فالو کرنا پڑا ۔ جس کی ایک حالیہ مثال موٹر وے پر موٹر وے پولیس اور چند فوجیوں میں ہونے والا واقعہ بھی تھا ۔ یہ شاید پہلا موقع تھا کہ محض سوشل میڈیا نے آئی ایس پی آرجیسے کم گوادارے کو باقاعدہ وضاحت کے لئے اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ آج ایک بار پھر سوشل میڈیااپنا وجود اور افادیت منوا رہا ہے۔ جس طرح نائن الیون میں پہلی بار آہنی پرندے پہلی باربطورہتھیار استعمال ہونے کا تصور ابھرا، اسی طرح سے سوشل میڈیا وقت گزاری کا ذریعہ ہونے کے بجائے بطور ہتھیار برتے جانے کا تصور بھی اب وسعت اختیار کر رہا ہے، چنانچہ اس بار پھرریگولر میڈیا اپنے کیمرے لئے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کے پیچھے ہانپتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔

لطف کی بات کہ سرل المیڈا کی سٹوری سے اس نے کچھ نہیں سیکھا۔ یہ آج پھر’’ سب سے پہلے‘‘ کو اپنی واحد کارکردگی بتا رہا ہے۔ آدمی حیرت سے سوچتاہے کہ جب سارے ہی چینل سب سے پہلے ہر وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں، تو پھر یہ’’ سب‘‘ سے آخرپیچھے کون رہ جاتا ہے ؟ جس سے پہلے یہ پہنچتے ہیں۔ یوں بھی ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ چائے کی نسبت سے ایک چائے فروش مشہور ہو رہا ہے ۔ اس سے پہلے چائے کے تعلق سے صرف چائے نوش ہی مشہور ہوئے تھے اور انہی کی نسبت سے اردو ادب میں چائے کے تذکرے کو خمریات کے مقابل فروغ ملا تھا۔ابوالکلام اس سلسلے میں امامِ چائے نوشاں قرار پاتے ہیں۔ انہوں نے چائے نہ صرف پی، بلکہ اپنے ندرت بھرے تخیل اور شاہکار تخلیق کرتے قلم سے چائے نوشی کو بھی ایک آرٹ بنا دیا۔ آرٹ سے بڑھ کر ابوالکلام کے ہاں چائے ایک تہذیب اور فلسفے کا روپ بھی دھار لیتی ہے۔وہ شب تمام ہونے سے بہت پہلے اٹھ جاتے ہیں، بڑے خاص اہتمام سے چائے بناتے ہیں اور جب اس کا تذکرہ رقم کرتے ہیں تو فارسی ادبیات کے متعدد بادہ نوشی کے اشعار چائے نوشی پر قربان کرتے جاتے ہیں۔ابوالکلام چین کی سوغات سفید چنبیلی نامی چائے پیتے تھے اور دودھ ملی چائے کو شریعتِ چائے میں انگریز کی بدعت قرار دیتے تھے ۔ ایسی چائے کو ان کا ذوق نہ چائے مانتا تھا اورنہ ایسے چائے نوشوں کو ان کابلند بام تخیل معیاری چائے نوش مانتا تھا ، ایسی چائے پینے والے خواہ عدم کے شعروں میں مذکور مشروب جتنی ہی کیوں نہ پی جائیں ، ابوالکلام بدستور مصر رہتے ہیں :

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

ان کا کہنا ہے کہ جس نے ایک بار گڑ والی چائے چکھ لی، وہ زندگی بھر کے لئے چائے کی اصلی لطافت سے محروم ہو گیا۔ قلعہ احمد آبادکی قید کے دنوں میں ساتھ آئی ان کی وائٹ جیسمین ساتھ چھوڑ گئی ۔قلعہ سے جڑے شہر میں پھر اس کی ڈھنڈیا پڑی ۔ احمد آباد سے یہ پری رخ دستیاب تو ہو گئی، مگر بڑی گراں قیمت پر ۔ ابوالکلام لکھتے ہیں کہ لوگ حیران تھے کہ اس قدر مہنگی چائے ! اور میں خوش ہوتاتھاکہ کیا بیش قیمت چیز کتنی ارزاں مل گئی۔ ظاہر ہے کسی بھی چائے یا چیز کی قدرو قیمت ایک صاحب طلب ہی ٹھیک ٹھیک جان سکتاہے، سو اگر یوسف زنانِ مصر میں اور اسلام آبادی چائے والا زنانِ عصر میں مشہور ہو گیا ہے تو اس میں حیرت کیسی؟ غیرت البتہ ہو توبجاہے۔۔۔ سنا ہے اول اول چائے برصغیر میں آئی تو حکیم علاج کے طور پر بیماروں کو پلاتے تھے۔ آج پوری قوم پیتی ہے ۔ اللہ شفا دے۔ چائے کا ایک تذکرہ شوکت تھانوی نے اپنے بے مثل مزاح پارے ’’چھلانگ ‘‘میں کر رکھاہے اور ایک کرنل محمد خان نے بزم آرائیاں نامی اپنی کتاب کے مضمون قدرِ ایاز میں۔ یہاں دونوں جگہ ہی چائے گلاسوں میں پی گئی۔چائے کا ایک تذکرہ اسحاق بھٹی مرحوم نے اپنی دلچسپ اور رواں سوانح’’ گزر گئی گزران‘‘ میں بھی کیاہے۔ ادارہ ثقافتِ اسلامیہ میں مرحوم بطور ریسرچ سکالر متعین ہوئے تو ان دنوں حنیف ندوی اور جعفر پھلواری بھی یہیں ہوتے تھے۔ زندگی کی پہلی چائے پراسحاق بھٹی کو اندازہ نہیں تھا کہ چائے گرم ہوتی ہے اور گھونٹ گھونٹ سپ لے لے کر پی جاتی ہے ، چنانچہ شربت کی طرح ڈیک لگاکر پی گئے اور اندرونِ خانہ کہرام مچ اٹھا :

برپا ضمیرِ زہد میں کہرام ہو گیا

ایماں دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا

مگر پھر وہ عادی چائے نوش ہو گئے اور ایک دور ایسا آیا کہ مولانا حنیف ندوی کے سنگ یہ مال روڈ یا گردو نواح کے جس بھی چائے خانے کارخ کرتے، ان کی دو چار بار کی چائے نوشی کی تاب نہ لا کر وہاں نوبت چائے فروشی کی بجائے دکانِ چائے فروشی تک پہنچ جاتی۔ اول اول انہوں نے اسے اتفاق سمجھا، مگر پھر جلد ہی انہیں چائے نوشی کے سلسلے میں اپنے ’’سبزقدم‘‘ یا شاید ’’سبز ہونٹ‘‘ ہونے کا باقاعدہ احساس ہوگیا۔

ایک نہیں اسحاق بھٹی کی سوانح کے مطابق دسیوں چائے خانے ان کی اسی چائے نوشی میں بہہ گئے۔ لکھتے ہیں، ان دنوں اللہ نے ایسا ہنر اور اوجِ کمال دیا تھا کہ جہاں دو چار بار چائے پی لی ،پھر وہاں دکان کا سامان بکتا اور دکاندار اٹھتا دکھائی دیا۔ انہی دنوں ان کے ایک دوست نے اپنی نئی دکان میں انہیں چائے نوشی کی دعوت دی تو یہ اپنے ہم مشرب مولانا حنیف ندوی سے چپکے سے کہنے لگے، مولانا! ہمیں وہاں چائے پینے نہیں جانا چاہئے، کیونکہ اس بے چارے کو تو پتا نہیں، ہمیں تو پتا ہے۔ بے چارہ غریب آدمی ہے، دکان بند کروا بیٹھے گا۔مولانا مگر ٹھان چکے تھے، چنانچہ یہ دکان پر گئے اور وہ آدمی دکان سے گیا۔ لکھتے ہیں انہی دنوں ریلوے اسٹیشن کے قریب کسی ہوٹل کا افتتاح شورش کاشمیری نے کیا۔ یہ کہنے لگے مولاناکیا خیال ہے؟ مولانا نے فرمایا ضرور جائیں گے۔ یہ کہنے لگے مولانا سوچ لیجئے۔ شورش جیسے توانا ارادے کے مضبوط آدمی نے اس چائے خانے کا افتتاح کیا ہے۔ یہ ہم سے بند نہیں ہو سکے گا۔ مولانا نے فرمایا، لگتا ہے تمہارا ایمان کمزور ہو گیا ہے اور تمہیں اللہ پر بھروسا نہیں رہا۔ پھرمولاناہی سچے نکلے۔ شورش یہاں ہار گیا اور مولانا جیت گئے۔ لیجئے قارئین! یہ کالم توبالکل ویسے ہی تمام ہوگیا،جیسے دو مولاناؤں کی چائے نوشی سے متعدد چائے خانے۔۔۔ نیلی آنکھوں کے پیچھے کیاہے؟ یہ اگلے کالم میں کھوجتے ہیں۔ ان شااللہ !

مزید :

کالم -