برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر ہوا میں سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ بالآخر معمہ حل ہوگیا، بحری جہازوں کے غائب ہونے کی وجہ سامنے آگئی

برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر ہوا میں سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ بالآخر ...
برمودا ٹرائی اینگل کے اوپر ہوا میں سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ بالآخر معمہ حل ہوگیا، بحری جہازوں کے غائب ہونے کی وجہ سامنے آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) برمودا ٹرائی اینگل کے نام سے کون واقف نہیں۔ یہ امریکی ریاست فلوریڈا، پورٹو ریکو اور برمودا کے درمیان واقع 5لاکھ مربع کلومیٹر سمندری علاقہ ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ جو بحری جہاز اس علاقے میں داخل ہو جائے وہ غرق ہو جاتا ہے اور جو ہوائی جہاز بھی اس کے اوپر سے گزرے کوئی پراسرار قوت اسے نیچے کھینچ کر سمندر کی تہہ میں پہنچا دیتی ہے۔ تاحال برمودا ٹرائی اینگل کی پراسراریت سے پردہ نہیں اٹھ سکا تھا تاہم اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یہ گتھی سلجھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ برطانوی اخبار ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی کلوریڈو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے برمودا ٹرائی اینگل میں 6کونوں والے بادل دیکھے ہیں جو دراصل ہوائی بم ہیں۔ ان ہوائی بموں میں ہوا کی رفتار 170میل فی گھنٹہ ہے اور یہی بحری اور ہوائی جہازوں کے سمندر میں غرق ہونے کی اصل وجہ ہے۔

’برمودا ٹرائی اینگل‘ کے نیچے پانی میں یہ چیزموجود ہے جس وجہ سے قریب جانے والے جہاز گم ہوجاتے ہیں، ایسا دعویٰ سامنے آگیا کہ اب تک کسی نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا

کلوریڈو سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرموسمیات ڈاکٹر سٹیو ملر کا کہنا ہے کہ ”ہم نے سیٹلائٹ کی مدد سے برمودا ٹرائی اینگل میں مختلف مقامات پر 6کونوں والے عجیب و غریب بادل دیکھے ہیں۔ عام طور پر بادلوں کی ترتیب بے ڈھنگی ہوتی ہے اورکبھی اس طرح کے سیدھے کناروں والے بادل نہیں دیکھے گئے۔جب ہم نے ریڈار سیٹلائٹس کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان بادلوں کے نیچے سمندر میں کیا ہو رہا ہے تو انکشاف ہوا کہ ان بادلوں کے نیچے سمندری ہوا کی رفتار 170میل فی گھنٹہ تھی۔ اتنی تیز ہوا 45فٹ بلند لہریں پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ ہوا بادل کے نیچے حصے سے سمندر کی طرف سفر کرتی اوراس تیز رفتاری کے ساتھ سمندری کی سطح سے ٹکراتی ہے کہ ایک دھماکہ ہوتا ہے۔ اس لیے اسے ایئربم کا نام دیا گیا ہے۔ جب ہوا سمندر کی سطح سے ٹکراتی ہے تو انتہائی بلند لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ نیچے کی جانب ہوا کہ یہ رفتار کسی بھی ہوائی جہاز کو کھینچ کر اپنے ساتھ سمندر میں لیجاکر غرق کرنے کے لیے کافی ہے۔ایسے ہی بادل برمودا ٹرائی اینگل کے مغربی حصے میں بھی دیکھے گئے جو بہت بڑے تھے۔ یہ 20سے 55میل کے علاقے پر محیط تھے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -