شاہد خاقان عباسی کی پیش کش قبول کرلیں

شاہد خاقان عباسی کی پیش کش قبول کرلیں

  

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے ہم نے دنیا میں ایل این جی کا سستا ترین معاہدہ کیا میں ایل این جی منصوبوں کا ذمہ دار ہوں اور ہر جگہ جواب دینے کو تیار ہوں چاہے نیب سے تحقیقات کرالی جائیں اس معاملے میں کسی افسر کو تنگ نہ کیا جائے اُن کا کہنا تھا کہ ایل این جی معاہدوں پر وفاقی وزیر غلام سرور خان کو کسی نے مِس گائیڈ کیا ہے دنیا میں تیس کے قریب ایل این جی ٹرمینلز ہیں جن میں جوٹرمینل ہم نے لگائے وہ سب سے کم قیمت کے ہیں اس سے قبل حکومت پاکستان نے ایل این جی ٹرمینل لگانے کی پانچ مرتبہ کوشش کی تھی لیکن قیمت زیادہ بنتی رہی پاکستان کے توانائی بحران کا ایل این جی کے سوا کوئی حل نہیں تھا حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ مجھے کہیں بھی بلالیا جائے میں اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں ہم نے ایل این جی کا معاہدہ 64سینٹ میں کیا بھارت ہم سے ڈبل قیمت ادا کررہا ہے انہوں نے یہ باتیں ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

شاہد خاقان عباسی تقریباً ایک سال تک وزیر اعظم رہے اِس سے پہلے جب ایل این جی کی درآمد کا قطر سے معاہدہ ہوا تو وہ تیل اور گیس کے وفاقی وزیر تھے، اُن کے ذمے یہ ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ وہ اپنے دورِ وزارت میں ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کی تکمیل کریں کیونکہ ملک میں توانائی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا تھا بجلی کی لوڈشیڈنگ تو سال ہا سال سے ہو رہی تھی اس کے دورانیے میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا 2013ء کے انتخابات سے ذرا پہلے بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر تھی اور کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی شکست کے عوامل میں ایک بڑا اور دیدنی عامل بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی تھی، جس نے پیپلز پارٹی کے تابوت میںآخری کیل ٹھونگ دی۔ مسلم لیگ (ن) نے اگرچہ چھ ماہ کے اندر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور شہباز شریف تو یہاں تک کہہ چکے تھے کہ اگر وہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کرسکے تو اُن کا نام بدل دیں، یار لوگوں نے اس دعوے کو مذاق کا موضوع بنالیا اور اُن کے طرح طرح کے نام بھی رکھ دئے حالانکہ یہ کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہی جاتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں دس ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی،جس کا موجودہ قومی اسمبلی میں حکومت نے اعتراف بھی کیا۔ ایسا کام نہ تو پیپلز پارٹی کی حکومت کرسکی تھی اور نہ اُن سے پہلے دس سال تک حکمران رہنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف سے یہ کام ہوسکا تھا بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ مہنگے لگے یا سستے لیکن یہ بہرحال رینٹل پاور پلانٹ کی طرح نہ تھے جس کا ایک جہاز پیپلز پارٹی کی حکومت میں کراچی کے قریب لاکر کھڑا کردیا گیا تھا اور جس نے ایک میگاواٹ بجلی پیداکئے بغیر بھاری رقوم وصول کرلیں۔ ایسے ہی منصوبوں کی بنیاد پر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو ’’راجہ رینٹل‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا پیپلز پارٹی اپنی اس خفت کو شہباز شریف پر نکتہ چینی کرکے مٹانے کی کوشش کرتی رہی اور اس بجلی کا کوئی ذکر نہ کیا گیا جو مسلم لیگ (ن) کے دور میں سسٹم میں آئی اور لوڈشیڈنگ میں بڑی حد تک کمی ہوگئی۔ آج بھی لوڈ شیڈنگ اگر کم ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہی بجلی ہے، اگر گردشی قرضے بڑھ گئے اور انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی پیداواری صلاحیت سے کم بجلی پیدا کی اور اس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی گئی تو یہ الگ معاملہ ہے۔

بجلی کے اس بحران کی موجودگی میں گیس کا بحران بھی منہ کھولے کھڑا تھا ایسی صورت میں بحران کی جو سنگینی ہوتی وہ بیان سے باہر ہے یہ نظر آرہا تھا کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کرنا پڑے گی، صنعتوں کو گیس کی سپلائی محدود کردی گئی تھی اور کئی صنعتیں گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند ہو رہی تھیں جن کی وجہ سے بے روزگاری بھی پھیل رہی تھی اس وقت شاہد خاقان عباسی کو اُن کے وزیر اعظم نواز شریف نے یہ فرض سونپا کہ وہ گیس کی درآمد کے انتظامات کریں، اس راستے میں جو مشکلات تھیں اُن سے نواز شریف بھی پوری طرح آگاہ تھے اور شاہد خاقان عباسی بھی، اس سے پہلے گیس کی درآمد کی کئی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں اور ان کی ناکامی کی دوسری وجوہ کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ پٹرولیم لابیاں نہیں چاہتی تھیں کہ گیس درآمد ہو، کیونکہ ایسی صورت میں پٹرولیم کی درآمد کم ہوسکتی تھی اور اس پر انحصار میں بھی کمی آسکتی تھی، شاہد خاقان عباسی نے جب اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اُن کے سامنے یہ پورا منظر اور پس منظر تھا، وہ جانتے تھے کہ اگر اب کی بار بھی پٹرولیم لابی جیت گئی اور گیس کی درآمد کا معاملہ پھر لٹک گیا تو توانائی کا بحران شدید ہو جائے گا، اگر وہ پیٹرولیم لابی کی پرکشش پیشکشیں مان کر گیس کی درآمد کو مزید سال دو سال کے لئے ملتوی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تو امکان تھا اُن کے وارے نیارے ہوجاتے لیکن توانائی کا بحران شدید تر ہو جاتا، شاہد خاقان عباسی نے اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالا اور قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھ کر قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاملات طے کئے، یہ ایک طویل اور اعصاب شکن بلکہ جاں گسل وینچر تھا۔جو شاہد خاقان عباسی نے کمال ہمت سے انجام دیا۔

طول طویل مذاکرات کے بعد جو معاہدہ ہوا مخالفین اگرچہ آج بھی اس پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں اور بعض تو ایسے ہیں جو یہ اعلان بھی کرتے رہے ہیں کہ شاہد خاقان بھی قطر سے گیس کی درآمد کے معاہدے میں گرفتار ہو جائیں گے جب وہ وزیر اعظم تھے شیخ رشید احمد( اب وفاقی وزیر ریلوے) بار بار یہ کہا کرتے تھے کہ اگلی گرفتاری ان کی ہوگی، معاہدے کے ’’غیر شفاف‘‘ ہونے کے بارے میں بھی بڑی باتیں کی گئیں، لیکن اب شاہد خاقان عباسی نے اِن سب اعتراضات کا یہ کہہ کر جواب دے دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے ذمے دار ہیں جس کسی کو اعتراض ہے وہ انہیں طلب کرے، یہ معاہدہ سستے ترین نرخوں پر کیا گیا اور بھارت اس سے دُگنی ادائیگی کررہا ہے، یہ دو اور دو چار کی طرح کا واشگاف اعلان ہے جس کسی ادارے کو اس معاہدے پر شک ہے اور اسے اعتراض ہے کہ اس میں کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہے تو وہ شاہد خاقان عباسی کی پیش کش قبول کرے وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان بھی اِدھر اُدھر دیکھنے کی بجائے براہ راست شاہد خاقان عباسی کو طلب کرکے اُن سے بات کریں وہ مطمئن نہ کرسکیں تو گرفتاری کے لئے نیب کہاں دیر لگائے گا وہ تو اس کے لئے منتظر ہی ہوگا۔ خواہ مخواہ ہر معاملے کو سکنڈے لائز کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، جو بندہ اپنے آپ کو خود احتساب کے لئے پیش کررہا ہے، پہلے اس کا احتساب کرلیں اور اگر کوئی خرابی ہوگی تو وہ اس کی ذمے داریاں پہلے سے قبول کرنے کا اعلان کررہے ہیں انہوں نے افسروں کو بھی تنگ نہ کرنے کا کہا ہے بہتر ہے حکومت پیش کش قبول کرلے تاکہ کم از کم اس ایک معاملے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو ہو ہی جائے اور خواہ مخواہ ’’کھا گئے، پی گئے ‘‘کی گردان سے نجات مل جائے۔جو سرکاری آرکسٹرا پر تسلسل کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -