سی پیک منصوبہ چین اور ایران

سی پیک منصوبہ چین اور ایران
سی پیک منصوبہ چین اور ایران

  

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد سی پیک پر بعض پہلوؤں سے خدشات پیدا ہو گئے تھے اور کچھ اُلجھ سا گیا تھا،لیکن آرمی چیف کے دورے کے بعد حکومت مثبت پہلوؤں کی طرف آ گئی تو اس مسئلے پر جو خدشات اُبھر رہے تھے وہ کم ہو گئے۔ چین کے سفیر کا دورۂ بلوچستان اسی پس منظر میں تھا۔

چینی سفیر (Jao-Jing) نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ جام کمال نے چینی سفیر سے ملاقات میں سی پیک پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تاہم سی پیک اور چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے تمام فیصلے باہم رضا مندی اور بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں کئے جائیں گے۔ بنکاری شعبے میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا اور سیکیورٹی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چینی سفیر سے ملاقات کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان ڈاکٹر نذیر بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سی پیک معاہدے پر خوش ہیں اور چین کے مختلف شعبوں میں تعاون پر مطمئن ہیں۔

وزیراعلیٰ نے چینی سفیر کو بتایا کہ لائیو سٹاک سب سے زیادہ بلوچستان کے صوبہ میں ہے اور ملک کا48فیصد سٹاک بلوچستان میں ہے،چین اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

بلوچستان میں زراعت،ماہی گیری اور معدنیات کے مختلف شعبوں میں کام کی گنجائش موجود ہے، چین اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چین بلوچستان میں گوشت کی پراسیسنگ اور پیکنگ کے پلانٹ لگا کر تازہ گوشت مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں بھیج سکتا ہے،جہاں اس کی مانگ بہت زیادہ ہے ،چینی سفیر نے اتفاق کیا۔

چینی سفیر نے گورنر بلوچستان امان اللہ خان یٰسین زئی سے ملاقات کی۔گورنر بلوچستان نے سفیر جاؤ زنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے شہر گوادر اور کوئٹہ میں چینی سفارت خانے قائم کئے جائیں اور کہا کہ گوادر کو سی پیک منصوبے میں خاص اہمیت حاصل ہے، بلوچستان کے عوام اس سے مستفید ہوں گے۔

گورنر نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے اور اس حصہ میں بیرونی سرمایہ کاری کی بہت گنجائش موجود ہے۔چین اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ گورنرنے کہا کہ صوبہ بلوچستان چین کو وسط ایشیا اور افغانستان تک تجارتی راستہ فراہم کر سکتا ہے اور کہا سی پیک منصوبے میں بلوچستان کا کردار نمایاں ہے۔

ایک اور تقریب میں چینی سفیر نے عوامی جمہوریہ چین کی69ویں سالگرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا، چین پاکستان اقتصادی منصوبہ کے معاشی اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں اور یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کا ضامن ہے اور یہ پہلا موقعہ ہے کہ چین کی یوم آزادی کی تقریب پاکستان کے اہم شہر کوئٹہ میں ہو رہی ہے،اس سے دونوں ممالک میں خوشگوار تعلقات میں اضافہ ہو گا اور اس کے مثبت اثرات پڑیں گے۔ چینی سفیر نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کی اور مختلف سوالوں کے جوابات دیئے اور سی پیک منصوبے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ بلوچستان میں مختلف صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال کوئٹہ میں سفارت خانہ قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہا مغربی روٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ چین میں طلبا کو داخلے دیئے جا رہے ہیں اور بتایا کہ پاکستان کے 22 ہزار طلبہ اسکالر شپ پر ہیں، ہر سال 200 سے 500طلبہ کو اسکالر شپ دی جا رہی ہے۔

چین یونیورسٹی میں آن لائن نظام کے تحت داخلے دیئے جاتے ہیں اور کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو حکومتی سطح پر بھی سہولتیں دی جائیں گی۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر سی پیک میں سعودی عرب شمولیت اختیار کرے گا تو چین کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ چینی سفیر نے بعض معاملات پر کھل کر گفتگو کی اور تفصیل سے سی پیک کے حوالے سے جو خدشات پیدا ہو رہے تھے ان کو دور کیا۔

ایرانی سفیر کا دورۂ بلوچستان! یہ حسنِ اتفاق ہے چین، ایران اور مغربی جرمنی کے سفراء حضرات بلوچستان کے دورے پر تھے۔ ایران کے سفیر نے اپنے دورے کے دوران چیمبر آف کامرس،تاجر برادری اور خانہ فرہنگ ایران میں علماء، دانشوروں اور معزز شہریوں سے ملاقات کی اور اپنے دورے کے اختتام پر انہوں نے ایرانی قونصل جنرل کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بعض اہم باتیں کیں۔

ایک تو انہوں نے کہا کہ اگر سی پیک منصوبے میں سعودی عرب شریک ہو گا تو ایران اس کو خوش آمدید کہے گا اور اگر کوئی اور ملک بھی اس میں شریک ہو گا تو ایران کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا،امریکہ کے صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ بار بار یہ کہہ کر سعودی عرب کی تضحیک کر رہے ہیں کہ شاہ سلیمان کی بادشاہت ان کے بغیر نہیں رہ سکتی ہے۔

سفیر ایران مہدی ہنر دوست نے کہا کہ آؤ تکبر کو خیر باد کہہ کر خطے کو مضبوط بناتے ہیں ہم اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ دوستی استوار کرنا چاہتے ہیں، ہم سعودی عرب سمیت تمام ممالک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو خوش آئند سمجھتے ہیں۔ سی پیک گیم چینجر ہے اور شراکت داری کو خوش آمدید کہتے ہیں۔چین کے سفیر نے بھی کہا تھا کہ ہم ایران کو سی پیک میں خوش آمدید کہیں گے۔

سفیر ایران نے اپنے سہ روزہ دورے کے بعد پریس کانفرنس کی اور کہا عالمی طاقتیں مسلم ممالک کے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھا کر انہیں غیر مستحکم کرتی ہیں، اس عالمی سازش کو ناکام بنانے کے لئے ہمیں متحد ہونا پڑے گا۔

ایران اور پاکستان دو ہمسایہ ممالک ہیں اور بعض قوتیں ان تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہیں اور سرحد پار سے حملے اسی منصوبہ کا حصہ ہیں،مزید کہا کہ ایران کسی بھی دہشت گرد گروہ کو سپورٹ نہیں کرتا، ہمیں مشترکہ دشمن کو پہچاننا ہو گا۔ پاکستان اور ایران کو مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لئے متحد ہونا پڑے گا اور ایران امریکہ کے کسی بھی دباؤ سے خوفزدہ نہ ہو گا۔ سی پیک گیم چینجر ہونے کے ساتھ ساتھ امن کا پیغام بھی دے رہا ہے، کسی بھی مسلم ملک کی پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو ایران خوش آمدید کہے گا۔ سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کی پاکستان کے ساتھ شراکت داری کا خیر مقدم کریں گے۔ایران پاکستان کا ہمسایہ ہونے کے باعث، بلوچستان، سیستان، بلوچستان ایران کے لئے بہت اہم ہے۔ گیس اور بجلی کے منصوبوں کی تکمیل سمیت نومنتخب حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔

بلوچستان کی ایک قومی اور دو صوبائی نشستوں پر الیکشن کمیشن پاکستان نے دوبارہ انتخاب کا حکم جاری کیا ہے۔ حلقہ این اے238 کے لئے اسرار شرمن اور حلقہPB-5 سے آزاد امیدوار سردار لونی اورPB-21 سے عوامی نیشنل پارٹی کے زیرک خان اچکزئی کی نشست پر دوبارہ انتخاب کا حکم جاری کیا ہے۔سردار مسعود خان لونی نے2018ء کے انتخاب میںPB-5سے انتخاب لڑا تھا اور وہ اس نشست پر13322ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے اس کے بعد انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے باپ کے امیدوار سردار در محمد ناصر تھے،انہوں نے 8887 ووٹ لئے۔جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار سردار یحییٰ خان ناصر تھے،انہوں نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور ان کے ووٹ 5881 تھے۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے 238 پر سردار اسرار شرمن جیت گئے تھے۔ انہوں نے اس نشست پر42938 ووٹ لئے تھے۔دوسرے نمبر پر جمعیت علمائے السلام (ف) کے مولوی امیر زمان تھے۔انہوں نے اس نشست پر38457 ووٹ لئے تھے اور تیسرے نمبر پر سابق وفاقی وزیر سردار یعقوب خان ناصر تھے۔

انہوں نے تیسری پوزیشن پر25792 ووٹ حاصل کئے تھے،ہارنے والوں نے دعویٰ دائر کیا تھا اور اُن کے دعوے کو قبول کر لیا گیا اور دوبارہ انتخاب کا حکم جاری کیا۔اب مستونگ میں صوبائی نشست پر سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم خان رئیسانی کھڑے ہیں۔ 2018ء کے انتخاب میں اس نشست پر ان کے چھوٹے بھائی تھے،جو دہشت گردی کا شکار ہوئے اور مارے گئے۔

اب اس نشست پر نواب رئیسانی اور کمال خان کا مقابلہ ہے اور خضدار میں بی این پی مینگل کے سردار اختر نے نشست خالی کی تھی اب اس نشست پر شفیق مینگل نیشنل پارٹی کے حمایت یافتہ مدمقابل ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -