این جی اوز کو قانون کے تابع لانا ہو گا

این جی اوز کو قانون کے تابع لانا ہو گا
این جی اوز کو قانون کے تابع لانا ہو گا

  

غیر ملکی این جی اوز نے کئی ملکوں کو برباد کیا اب پاکستان ان کا خصوصی ہدف ہے۔حکومتی سطح پر بدانتظامی کی صورت یہ ہے کہ40فیصد تک تنظیمیں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ غیر ملکی تنظیمیں پاکستان آ کر کس کی اجازت سے کام کرتی ہیں۔

ویزے کے اجراء کے وقت مکمل سکروٹنی کیوں نہیں ہوتی۔ پاکستان کو غیر ملکی تنظیموں نے مقامی ایجنٹوں سے مل کر ہوٹل بنایا ہوا ہے، جس کا جی چاہتا ہے آ جاتا ہے اور اپنا کام ختم کر کے چلا جا تا ہے۔

این جی اوز کی اس سینہ زوری کی وجہ حکومت کی کمزور پالیساں ہیں۔کچھ مقامی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی مشکوک رہی ہیں۔یہ ایک ناقابلِ تردید زمینی حقیقت ہے کہ پاکستان میں 1985ء کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی فنڈز سے ایسی این جی اوز قائم کی گئیں، جن کا ایجنڈا فنڈ اور عطیہ فراہم کرنے والے ممالک کے ایجنڈے کو محض آگے بڑھاتے ہوئے قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی دیواروں میں رخنے پیدا کرنا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی نہ صرف اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان مخالف کارروائیوں میں مصروف ہیں،بلکہ انسانی حقوق اور دیگر خیراتی مقاصد کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کو بھی تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی این جی اوز کی بڑی تعداد پاکستان کے اندر اور باہر سازشی مقاصد کے لئے امریکی آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ یہ این جی اوز جہاں ایک طرف جاسوسی کا کام کرتی ہیں وہاں دوسری طرف مقامی طور پر مذہبی ، لسانی اور سیاسی منافرت پیدا کر رہی ہیں۔

کچھ این جی اوز دنیا بھر سے ریٹائرڈ فوجی افسران، ولنز اور کرمنلز کو اپنے آپریشنز کے لئے بھرتی کرتی ہیں۔ کرائے کی یہ فوج دولت سمیٹنے کے لئے ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کو خصوصاً اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ یہ غریب ممالک میں ایک این جی او اور فلاحی تنظیم کے طور پر کام کرتی اور لوگوں کی خدمات انہیں خوابوں کی سرزمین امریکہ بھجوانے کے نام پر بھرتی کرتی ہے۔

یہ ہمیشہ ہی قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک میں پہنچ کر بے سہارا ، مگر مضبوط لوگوں کو انتخاب کرتی اور انہیں ملازمتیں دیتی ہے۔ عراق اس کی محض ایک مثال ہے، جہاں اس نے عراقی لوگوں کو بھرتی کر کے انہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا۔ عراقی اس شیطان صفت تنظیم سے بہ خوبی آگاہ ہیں اور فلوجہ میں انہوں نے بلیک واٹر کے ایجنٹوں کو ہلاک کر کے ان کی نعشیں دریائے فرات کے کناروں پر لٹکا دی تھیں۔ یہ ایجنٹس فوڈ کنٹریکٹرز کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

غیر ملکی سرمائے کے بل بوتے پر کام کرنے والی ان این جی اوز نے فیس سیونگ کے لئے حقوق نسواں، آزادی نسواں،چائلڈ لیبر، شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے معتبر عنوانات کے پردے میں وطن دشمنی اور اقدار شکنی کا شرمناک اور مذموم کھیل شروع کر رکھا ہے۔یہ این جی اوز 18برس بعد آج بھی کھلم کھلا غیر ملکی اور بالخصوص بھارتی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں۔

انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں کو بھی شکایت رہی ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمائے پر پلنے اور چلنے والی این جی اوز عطیات کا غلط استعمال کرتی ہیں اور جن انسانی بہبود کے شعبوں میں کام کرنے کے لئے انہیں فنڈز دیئے جاتے ہیں۔ ان پر اِنہیں صرف کرنے کی بجائے انہیں ذاتی تعیشات اور اللے تللوں پر اُڑا دینے کے جرم کی مرتکب ہوتی ہیں۔

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے خفیہ اداوں کی طرف سے دی جانے والی رپورٹس کی روشنی میں پاکستان میں کام کرنے والی انٹرنیشنل این جی اوز کی رجسٹریشن سے متعلق پالیسی وضع کی تھی کہ کوئی بھی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم اس وقت تک پاکستان میں کام نہیں کریں گی،جب تک وہ اپنے آپ کو نئی پالیسی کے تحت رجسٹرڈ نہیں کروا لیتی۔یہ پالیسی یکم اکتوبر 2015ء میں منظور اور نافذ کی گئی تھی۔

یہاں ایک بات قابل غور بھی ہے کہ بعض این جی اوز صرف اسلام آباد کے لئے رجسٹرڈ تھیں وہ بغیر اجازت بلوچستان پہنچ جاتی تھیں۔ پنجاب میں کام کرنے والی این جی اوز خیبر پی کے اور قبائلی علاقہ جات تک جاپہنچیں۔ انہیں کھلی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

این جی اوز کو فنڈنگ بے شک بیرون مُلک سے ہوتی ہے، لیکن کام تو وہ یہاں کر رہی ہیں،جو رجسٹرڈ ہوگی اور چارٹر کے اندر کام کرے گی وہی این جی او یہاں کام کر سکے گی۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر اقوام متحدہ نے دو این جی اوز کی مشاورتی حیثیت ختم کردی ہے۔

افریقن ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ لنک اور افریقن ٹیکنیکل ایسوسی ایشن پاکستان کے خلاف غلط بیانی کے لئے پلیٹ فارم مہیا کررہی تھیں۔ پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی این جی اوز کمیٹی میں اٹھایا تھا۔ پاکستان نے شکایت کی تھی کہ یہ این جی اوز مہران بلوچ کے ساتھ کام کررہی تھیں اور انہیں پاکستان کے خلاف الزامات لگانے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کررہی تھیں۔

2015ء کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے بلاامتیاز غیر ملکی اور ملکی این جی اوز کی سکروٹنی کی جائے، رجسٹریشن ناگزیر ہے اسکے ساتھ کڑی نگرانی کا بھی اہتمام کیا جائے، جس طرح بعض تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا، ان پر بھی پابندی عائد کی جائے، ان کے دفاتر کوسیل کیا جائے۔ ان کو موصول ہونے والے فنڈز کی تحقیقات کی جائیں کہ وہ کس مد اور مصرف میں صرف ہوتے رہے۔

مزید :

رائے -کالم -