ماضی کے حکمرانوں کو اقتدار اپنے ہاتھ رکھنے کا شوق تھا ،میئر کراچی

ماضی کے حکمرانوں کو اقتدار اپنے ہاتھ رکھنے کا شوق تھا ،میئر کراچی

  

کراچی (سٹاف رپورٹر) مئیر کراچی وسیم اختر نے کہاکہ آج ملک کا جو بھی حال ہے وہ ماضی کی قیادت پر سوالیہ نشان ہے۔ماضی کے حکمرانوں کو اقتدار و اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنے کا شوق تھا جو کام گلی محلے کے کونسلر کے کرنے کے تھے وہ پارلیمنٹ کے اراکین کو دے دئے گئے اس کے نتیجے میں شہر کچرے کے ڈھیر اور شہری پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہیں جس معاشرے میں جمہوریت کے بنیادی ادارے ہی کمزور ہوں وہ معاشرہ جمہوری کہلانے کا مستحق نہیں اور نہ ہی وہاں ترقی ہو سکتی ہے ۔ ہمارے حکمران اپنی جمہوری ذمہ داریاں پوری کرتے تو ہم آج مضبوط جمہوری معاشرہ اور ترقی یافتہ پاکستان ہوتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ینگ ڈیموکریٹ پاکستان کے زیراہتمام پروگرام پنچایت میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مئیر کراچی نے کہا کہ جب تک گلی محلے کے عوام کو بااختیار نہیں بنایا جاتا کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ماضی کی قانون سازی سے ملک و قوم کو اسی لئے فوائد حاصل نہیں ہوئے کہ ایوانوں میں عوام کے حقیقی نمائندے نہیں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے نمائندے تھے جنہوں نے انہی کے حقوق کا تحفظ کیا اور آج غریب عوام کو نہ علاج کی سہولت ہے نہ تعلیم نہ کوئی اور بنیادی سہولیات حاصل ہیں۔ انہوں نے ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کو کراچی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ خدمت کے جذبے کو لے کر سیاست میں آئیں خواہ کسی بھی پارٹی میں ہوں میرٹ پر فیصلہ کریں اور میرٹ کی حمایت کریں انہی نوجوانوں سے لیڈر شپ پیدا ہو گی جو ملک کو آگے لے جائے گی۔ہماری ترجیحات کا تعین درست نہیں تھا اب نوجوانوں کو اس کو درست کرنا ہے اور ملک کو ترقی دینے کے لئے نوجوان ہی انقلاب کی نوید ہیں۔

مئیر کراچی

مزید :

صفحہ آخر -