پنجاب کوآپریٹو کے دفتر میں آگ لگنے کے ایوب اور سیٹھ اقبال ذمہ دار

پنجاب کوآپریٹو کے دفتر میں آگ لگنے کے ایوب اور سیٹھ اقبال ذمہ دار

  

لاہور( لیاقت کھرل) پنجاب کوآپریٹو کے دفتر میں لگائی جانے والی آگ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی جس میں پنجاب کوآپریٹو کے صدرمحمد ایوب اور سابق صدر سیٹھ اقبال اس منصوبہ بند آتشزدگی کے مرکزی کردار اور ان کے کہنے پر کوآپریٹو ملازم محبوب نے دوران تفتیش پٹرول چھڑک کر آگ لگانے جیسے پس پردہ حقائق کا انکشاف کیا ہے جبکہ دوران تفتیش ملزم علی رضا کی جانب سے کمپیوٹر زسے ہارڈ ڈِسکیں چوری کرنے کا انکشاف بھی سامنا آیا ہے۔ روزنامہ پاکستان کو پنجاب کوآپریٹو سوسائٹیز کے رجسٹرار آفس میں لگائی جانے والی آگ کی تفتیش اور تحقیقات کے حوالے سے موصول ہونے والی اندرونی کہانی میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کوآپریٹو کی رجسٹرار کرن خورشید کی جانب سے پنجاب کوآپریٹو سوسائٹیز کی اربوں روپے مالیت کی اراضی اور مارکیٹوں کو ’’اونے پونے‘‘ داموں فروخت اور کئی کئی سال من پسند افراد کو چند ہزار کے بدلے لیز اور کرائے پر دینے میں پائی جانے والی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کرنے پر اختلافات نے جنم لیا۔ جس پر صدر کوآپریٹو بینک محمد ایوب اور سابق صدر پنجاب کوآپریٹو سیٹھ اقبال نے پر رجسٹرار آفس میں آتشزدگی کا منصوبہ بنایا۔ جس کا ٹاسک سیٹھ اقبال کے چہتے ملازم محبوب کو سونپا گیا جسے پہلے ملازمت پر کنفرم کروایا گیااور بعد اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی اور اس کے ساتھ کمپیوٹر آپریٹر علی رضا کو کمپیوٹرز سے ہارڈ ڈِسکیں غائب(چوری) کرنے کا بھی ٹاسک دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو گزشتہ روزپیش کی جانے والی خفیہ رپورٹ میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ پنجاب کوآپریٹو کے صدر محمد ایوب اور سابق صدر سیٹھ اقبال سمیت 270 افراد نہیں بلکہ 289 افسروں اور ملازمین کے فنگر پرنٹس فرانزک لیب کو بھجوائے گئے۔ جس میں صرف ایک ملازم کمپیوٹر آپریٹو علی رضا کے فنگر پرنٹس میچ ہوئے ہیں ۔جس میں کمپیوٹر آپریٹر علی رضا سے تفتیش کی گئی تو اس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ پنجاب کوآپریٹو کے صدر محمد ایوب اور سابق صدر سیٹھ اقبال کے کہنے پر اُس نے کمپیوٹرز سے ہارڈ ڈِسکیں غائب (چوری) کی ہیں۔ جبکہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ایک اور ملازم حسن نے دوران تفتیش وقوعہ کی ویڈیو غائب کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ تفتیشی ٹیم کے ایک اعلیٰ پولیس افسرکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دونوں ملزمان سے ہارڈ ڈِسکیں اور ویڈیو برآمد کرلی گئی ہے جبکہ تفتیش کے دوران مرکزی ملزمان کے خلاف بے ضابطگیوں کی محکمانہ تحقیقات شروع کرنے پرآتشزدگی کا منصوبہ بنایا گیا۔ جس میں پنجاب کوآپریٹو کے گرفتار اعلی افسر اور دیگر مطلوب سابق اعلیٰ افسر سمیت بڑے افسران اور سیاسی افراد کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع اور ملوث ہونا متوقع تھا جس پر پنجاب کوآپریٹو کے بڑے اوراعلیٰ عہدوں پر فائز افسران نے آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی ۔ جبکہ اس حوالے سے تفتیشی ٹیم کے رکن ایس پی عمران کرامت بخاری کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم سیٹھ اقبال سمیت متعدد مطلوبہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاہم سیٹھ اقبال کے بارے معلوم ہوا ہے کہ اس نے سیشن کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت کروا رکھی ہے تاہم اصل بات اُس کی گرفتاری کے بعد سامنے آئے گی کہ آیا منصوبہ بند آتشزدگی میں دونوں اعلیٰ افسران مرکزی کردار ہیں یا دونوں میں ایک ہے، تاہم تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے جس میں حساس اداروں کی ٹیموں کی بھی مدد لی جا رہی ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس کیس میں ملوث مزید اہم ملزمان کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -