آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں منفی ریمارکس نے شکوک و شبہات پیدا کئے

آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں منفی ریمارکس نے شکوک و شبہات پیدا کئے
آئی ایم ایف پروگرام کے بارے میں منفی ریمارکس نے شکوک و شبہات پیدا کئے

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے نہ جانے کے مسئلے پر کنفیوژن کا شکار کیوں ہے؟ وزیر اعظم اور وزراء کے بیانات میں باہم ربط کیوں نہیں ہے، وہ ایک بات کرتے ہیں اور ان کے وزراء کوئی دوسری بات کر رہے ہوتے ہیں بعض اوقات ایک ہی وزیر اپنی بات کے مختلف پہلو سامنے لا رہا ہوتا ہے اور اس کی مختلف تشریحات کر رہا ہوتا ہے۔ اسد عمر جب وزیر نہیں تھے تب بھی اپنی جماعت کے اہم رہنما تو تھے اس لئے ان کے اس وقت کے فرمودات کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا، وزیر اعظم تو خیر بعض اوقات ایسی بات کر دیتے ہیں جس پر انہیں یوٹرن بھی لینا پڑتا ہے، جب وہ انتخابی مہم چلا رہے تھے تو کہا کرتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کرلیں گے اللہ معاف فرمائے یہ ایسا کلمہ ہے جسے مذاق میں بھی منہ سے نہیں نکالنا چاہئے چہ جائیکہ آپ ایسا دعویٰ کر دیں آئی ایم ایف سے قرضہ لینا کوئی جرم نہیں ہے اور اگر واقعتاً اس سے کوئی ریلیف مل رہا ہو اور مشکل میں پھنسی ہوئی گردن کے گرد کسی ہوئی رسی کی گرہ ڈھیلی ہو جائے تو آخر ایسے قرض میں حرج ہی کیا ہے، پھر ایک اور پہلو بھی ہے جس پر ٹھنڈے دل سے غور کی ضرورت ہے آئی ایم ایف سے لئے ہوئے قرضے کے نتیجے میں اگر ایک بھی ڈھنگ کا پراجیکٹ لگ جائے اور اس سے کسی نہ کسی طریقے سے آمدنی شروع ہو جائے تو ایسا قرضہ زحمت نہیں رہتا، معیشت کے لئے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ نیا قرضہ لے کر پرانے قرض کی قسط اتارنے لگیں یا پرانے قرضوں کا سود دینے لگیں تو پھر ایسا قرضہ بوجھ ثابت ہوتا ہے، غالباً اسی لئے پہلے سے کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف جو قرضہ دے گا اسے پرانے قرضے اتارنے کے لئے استعمال کرنے نہیں دیا جائیگا۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ آئی ایم ایف سمیت عالمی قرضوں کو ایک ایسی برائی کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو نہ جانے معیشت کے لئے کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے حالانکہ کوئی بھی قرضہ بذات خود مضر نہیں ہوتا مضرت جو بھی پیدا ہوتی ہے وہ اس کے درست یا غلط استعمال سے پیدا ہوتی ہے ایک معمولی مثال کافی ہو گی۔ لاہور کی نہر کے کنارے روشنیاں لگانے کے لئے باہر سے قرضہ لیا گیا کھمبے لگائے گئے، ان پر مرکری لائٹس بھی لگا دی گئیں لیکن اب یہ ٹیوب لائٹس جلائی نہیں جا رہیں معلوم نہیں یہ بھی کسی قسم کی کفایت شعاری کی نذر ہو گئی ہیں کیونکہ ایسا تو بہرحال نہیں ہو سکتا کہ کئی کلومیٹر کے علاقے میں سینکڑوں لائٹس ایک ہی وقت میں خراب ہو گئی ہوں اس لئے اندازہ یہی ہے کہ یا تو ان لائٹوں کو جلانے کے اخراجات سے بچنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے یا لیسکونے بل کی ادائیگی وغیرہ نہ ہونے پر اس کے کنکشن کاٹ دئے ہیں، وجہ جو بھی ہو اب سوال یہ ہے کہ قرض دینے والے اداروں نے لائٹس لگانے کے لئے قرض تو دے دیا، تنصیبات بھی ہو گئیں کیا اب انہیں روشن رکھنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑے گا اور متعلقہ ادارے ان لائٹوں کو صرف اس لئے نہیں جلائیں گے کہ ان کے پاس انہیں روشن رکھنے کے لئے فنڈز نہیں ہیں ہمارا مخمصہ دراصل یہ ہے کہ ہم نے اپنے لوگوں کو باور کرا رکھا ہے کہ ان قرضوں اور بھیک میں کوئی فرق نہیں، یہ عالمی سا ہو گا۔دراصل قرض دیکر ملکوں کی خود مختاری کو گروی رکھ لیتے ہیں، اب آپ ایک دلچسپ صورتحال ملاحظہ فرمائیں امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے صرف چین کا کھربوں ڈالر کا قرض امریکہ نے ادا کرنا ہے۔ کیا چین نے قرض دے کر امریکہ سے کوئی شرائط منوائی ہوئی ہیں جو امریکہ کی خود مختاری کے خلاف ہوں، ایسا قطعاً نہیں اگر ایسا ہوتا تو صدر ٹرمپ چین سے آنے والی امریکی درآمدات پر کڑی پابندیاں نہ لگا سکتے، امریکہ سپر طاقت ہے قرضے بھی اپنی شرائط پر لیتا ہے، چند برس پہلے یونان جیسا ملک قرضے کے معاملے پر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تھا اور پوری یورپی یونین کو اس کا ساتھ دینا پڑا تھا اس لئے ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ عوام کو حقیقی تصویر دکھا دیں اور یہ بھی واضح کر دیں کہ یہ قرضہ کوئی خیرات نہیں ہے یہ ہم نے پہلے والے قرضوں کی طرح سود سمیت واپس کرنا ہے۔

اب اسد عمر کے تمام متضاد بیانات جمع کر لئے جائیں تو عجیب تصویر بنتی ہے پہلے انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، پھر انہوں نے کہا کہ اگر ہم گئے تو کیا یہ کوئی پہلی مرتبہ ہو گا، پھر انہوں نے کہا آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہیں، اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ شاید آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، پھر وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فصلہ کر لیا گیا ہے اب اسد عمر کہتے ہیں کہ ہم آخری مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔آئی ایم ایف کا ایک پروگرام تین سال کے لئے ہوتا ہے اور اسد عمر کے بقول دسمبر میں قرضہ مل جائیگا اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرض لینے کی صورت میں ہم یہ قرض تین سال یعنی 2021ء کے دسمبر تک واپس کرنے کے پابند ہوں گے، اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آپ آئی ایم ایف کے ایک پروگرام سے نکلیں اور اگلے ہی دن نیا پروگرام لینے چل پڑیں موجودہ حکومت کی مدت اقتدار 2023ء تک ہے، اس لئے وہ اپنی مدت میں صرف ایک بار ہی آئی ایم ایف سے قرضہ لے سکتی ہے اب یہ تو عالم الغیب ذات کو ہی علم ہے کہ 2023ء میں کون سی پارٹی اقتدار حاصل کرتی ہے فرض کریں تحریک انصاف عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتی تو 23ء میں اس کا بوریا بستر گول ہو جائیگا اور اگر اس وقت بھی ہماری معیشت کو کسی قرضے کی مجبوری ہوئی تو ممکن ہے آئی ایم ایف سے کوئی ا ور وزیر خزانہ مذاکرات کر رہا ہو، اس لئے اسد عمر کا تو یہ واقعی آخری پروگرام ہے۔

مزید :

تجزیہ -