افغانستان میں عام انتخابات ،دہشتگردی کے 192واقعات، سکیورٹی اہلکاروں سمیت 25شہری جاں بحق، 100سے زائد زکمی

افغانستان میں عام انتخابات ،دہشتگردی کے 192واقعات، سکیورٹی اہلکاروں سمیت ...

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات میں 25 افراد ہلا ک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کیلئے سخت سکیورٹی انتظامات میں گزشتہ روزملک بھر میں پولنگ ہوئی تاہم سکیورٹی وجوہات اورایک روزقبل دہشت گرد حملے میں صوبائی پولیس چیف جنرل عبدالرازق کی ہلاکت کے باعث صوبہ قندھار اور غزنی میں پولنگ ملتوی رہی۔اس کے علاوہ سکیورٹی کے پیش نظر پاک افغان سرحد بھی آج تک کیلئے بند ہے۔افغان حکام کا بتانا ہے ملک بھر میں جاری انتخابی عمل کے دوران حملوں میں 25 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے، حملوں میں زیادہ تر ہلاکتیں دارالحکومت میں ہو ئیں ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جن میں 10 شہری اور 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔افغان صوبے غور میں شدت پسندوں کے حملے میں 4 پولیس اہلکار جبکہ قندوز میں مارٹر حملے میں 2 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔تفصیلات کے مطابق افغانستان میں افغانستان میں جمہوری عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ، کابل میں پولنگ اسٹیشن کو دھماکے سے اڑادیا گیا جس سے 5 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔افغانستان میں پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کے دوران بھی دہشتگردسرگرم رہے۔ انتخابی مہم کے آغاز سے لے کر اب تک مختلف واقعات میں ایک سو تیس افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے جن علاقوں میں پولنگ نہیں ہوسکی وہاں آج اتوار کو پولنگ ہوگی۔افغان وزیر داخلہ ویس برماک کے مطابق دن بھر دہشت گردی کے192 واقعات رونما ہوئے جبکہ سترہ سو دھمکیا ں موصول ہوئیں۔ دن بھر سکیورٹی اہلکار فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک افغان سپاہی اوردس پولیس اہلکارجان کی بازی ہار گئے جبکہ سترہ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوئی جو چار بجے تک جاری رہی تاہم دیر سے کھلنے وا لے پولنگ اسٹیشنز کو مزید 4 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم افغان شہر یوں کی بڑی تعدادنے خراب حالات کے باوجود ملک بھر میں حق رائے دہی استعمال کیا۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تفصیلات کے مطابق دارالحکومت کابل، صوبہ غور ، قندھار سمیت دیگر علاقوں میں انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشتگردی کے درجنوں واقعات کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کابل اور صوبہ غور میں شدت پسندوں کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر تعینات اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کرکے مز ید 20ہزار اہلکار تعینات کردئیے گئے تھے ،افغان دفتر خارجہ کے ترجمان نجیب دا نش کا کہنا تھا افغانستان میں ہونیوالے عام انتخابات کے دورا ن 3 2 صوبوں میں 20ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ، افغانستان میں زیر التوا پارلیمانی انتخابات کے موقع پر دن کے آغاز میں پولنگ شروع ہونے کے کئی گھنٹے بعد تک متعدد پولنگ اسٹیشنز بند نظر آئے تا ہم بعد میں افغان عوام نے گھروں سے نکل کر ووٹ کا حق استعمال کیا لیکن ووٹر رجسٹریشن فہرستوں کی عدم دستیابی اوربائیومیٹرک ووٹر ویری فکیشن ڈیوائسز میں خرابیوں کی شکایات کی وجہ سے پولنگ سست روی کا شکاررہی ۔افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ عبدالبدیع سید نے ووٹنگ میں تاخیر پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا ووٹنگ کے وقت کو بڑھا دیا جائے گا۔تین سال سے زائد عرصے تک تاخیر کا شکار رہنے والے پارلیمانی انتخابات میں لگ بھگ 90لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔طالبان اپنی حالیہ دھمکی میں ووٹرز پر زور دیاتھا وہ اپنی جانوں کی حفاظت کیلئے بناوٹی اور ڈرامائی عمل کا بائیکاٹ کریں۔ افغان صوبے قندھاراورغزنی کے علاوہ افغانستان بھرمیں پارلیمانی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے پرامن انعقاد کیلئے ملک بھر میں 54 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے جبکہ امریکی اور نیٹو فوج سمیت فضائیہ بھی ہائی الرٹ رہی ۔الیکشن کمیشن کے مطابق مرکزی پارلیمان کی 232 نشستوں کیلئے 25 سو امیدوار میدان میں تھے ، جن میں 4 سو 47 خواتین امیدواربھی شامل تھیں ۔

افغان انتخابات

مزید :

کراچی صفحہ اول -