آخری بار آئی ایم ایف جا رہے ہیں:اسد عمر ،مسئلہ شرائط کا ہے :عمران خان،سیاستدانوں کی اکثریت مجرم،اتنے ثبوت ہیں بچ نہیں سکتے :وزیر اعظم

آخری بار آئی ایم ایف جا رہے ہیں:اسد عمر ،مسئلہ شرائط کا ہے :عمران ...

  

اسلام آباد(آئی این پی،آن لائن،صباح نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاستدانوں میں سے اکثر مجرم ہیں اور اتنے ثبوت موجود ہیں کہ یہ مجرم بچ نہیں سکتے۔صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مسئلہ نہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کامسئلہ ہیں، عوام پر پہلے ہی بہت بوجھ ڈال چکے ہیں، مزید نہیں ڈالنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔انہوں نے کہا کہ میں کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا اور آخر تک جاؤں گا، کسی چور، ڈاکو اور مجرم کو نہیں چھوڑوں گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ اپوزیشن حقیقی اپوزیشن نہیں ہے، موجودہ اپوزیشن اپنی جائیدادیں بچانے کیلئے اکٹھی ہوئی ہے۔عمران خان نے شہبازشریف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نیلسن منڈیلا بننے کی کوشش کررہے تھے۔عمران خان نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ ہمارے اقدامات عارضی ہیں یا مستقل بنیادوں پر ہیں۔ جنہوں نے ڈاکے ڈالے ہمیں ان تک پہنچنا ہے اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے اعلان پر قائم ہوں، چھ ماہ میں معاشی معاملات بہتر کرلیں گے جبکہ پچاس لاکھ گھروں کا منصوبہ بھی ضرور پورا کریں گے۔ہمارے لئے انتظامی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔ پاکستان میں پیسہ تب آئے گا جب استحکام آئے گا۔ چین اور سعودی عرب سے اچھی خبریں آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کیلئے ایف آئی اے کو متحرک کیا ہے ۔ آئی ایم ایف کی شرائط بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ اسلئے متبادل آپشن پر بھی غور کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیب کا کوئی کیس ہمارے دور میں نہین بنا اپوزیشن کی جانب سے نیب اور حکومت کا گٹھ جوڑ کا تاثر دینا گمراہ کن ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا سینیٹر فیصل جاوید ، افتخار درانی ، نعیم الحق اور دیگر رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب اور چین کے حوالے سے مشاورت کی گئی اس موقع پر وزیر اعظم نے ملک کی معاشی صورتحال مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا وزیر اعظم نے حکومتی کارکردگی اور 100روزہ پلان کا جائزہ لیا اجلاس میں ’’غربت مٹاؤ‘‘ پروگرام کے خدوخال پر بھی غور کیا گیا وزیر اعظم نے پارٹی کی تنظیم نو کے امور پر بھی مشاورت کی۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان سے برطانوی صحافیوں کے وفد نے بھی ملاقات کی ۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر کیا وزیر اعظم نے ملکی معاشی صورتحال پر بھی گفتگو کی اور برطانیہ میں پاکستانیوں کی جائیدادوں پر بھی بات چیت کی وزیر اعظم نے آزادی صحافت کے فروغ کے اقدامات سے وفد کو آگاہ کیا وزیر اعظم کے 100روزہ پلان پر بریف کیا وزیر اعظم نے کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔دوسری طرف وزیر اعظم کے 2روزہ دورہ سعودی عرب کے لیے 16رکنی وفد کو حتمی شکل دے دی گئی ہے وزیر اعظم 22-23اکتوبر کو ریاض میں عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے 3وفاقی وزراء اور 2مشیر وفد میں شامل ہوں گے خارجہ، خزانہ اور اطلاعات کے وزراء وفد میں شامل ہوں گے مشیر تجارت، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ اور سیکرٹری خارجہ وفد میں شامل ہوں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ہوں گے۔سعودی عرب کے دورے میں وزیراعظم عمران خان کو مشیر تجارت عبدالرازق داد، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف اورسیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی بھی معاونت حاصل ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ سعودی عرب کے دوسرے دورے سے واپسی پر چین کا پہلا سرکاری دورہ بحیثیت وزیراعظم پاکستان کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان

کراچی(آئی این پی)وزیر خزا نہ اسد عمر نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے ماحول کو مجموعی طور پر بہترکرنا ہے، دسمبر کے آخر تک آئی ایم ایف سے قرض منظوری کی توقع ہے، یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، کاروبار میں اتار چڑھا ؤ آتے رہتے ہیں،حکومت کے پاس فروری 2019 تک کی ادائیگیوں کے ذخائر موجود ہیں، ہمارے منشور میں ایز آف ڈوئیگ بزنس شامل ہے، وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ میڈیا میں معیشت پر بہت طوفان نظر آرہا ہے مگر ایسا نہیں اور کوئی ایسی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی میں بروکرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کیلئے بھر پور اقدامات ہوں گے، سٹاک مارکیٹ میں بہترین گروتھ ہے، بہترین نتائج کے لیے محنت جاری رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کاروبار کرنا بہت مہنگا کردیا ہے، ادراک ہے، کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مجموعی طور پر بہتر بنانا ہے، کیپیٹل مارکیٹ کی بہتری کے لیے بھی کام کریں گے، مارکیٹ ریگولیٹ ہونی چاہے اوور ریگولیٹ نہیں، کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ میڈیا میں معیشت پر بہت طوفان نظر آرہا ہے، ایسا نہیں ہے کوئی ایسی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر ہوگیا ہے لیکن خسارہ کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا۔اسد عمر نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، 7 سے 8 ماہ میں ڈالر کی قدر میں 26 ،27فیصد کمی ہوگی، معاملات کنٹرول میں آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ قرضہ لینا گناہ نہیں اس پر سیاست بہت ہوتی ہے، 15 ارب روپے اس سال قرضے واپس کرنے پر استعمال کریں گے ۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں، مجھے 21 کروڑ پاکستانیوں کو بچانا ہے، امپورٹرز نے اتنا پیسا کمایا جس کی کوئی حد نہیں ہے، امپورٹرز نے روپے کی قدر کم ہونے سے انونٹری پر اربوں روپے کمائے۔ان کا کہنا تھاکہ اس سال 12 ارب ڈالر کا فنانسنگ گیپ ہے، مارکیٹ میں سرمایہ کاری ٹیکسیشن کی وجہ سے کم ہے تو اسے ٹھیک ہوناچاہیے۔اسد عمر کہاکہ 100 دن پلان میں پانچ سالوں کی منصوبہ بندی کرنی ہے، خیبرپختونخوا کی منصوبہ بندی دوسرے صوبوں سے بہتر ہوگی جب کہ 50 لاکھ گھر نجی کمپنیاں بنائیں گی، سیاحت اور تعمیرات کے شعبوں میں کام سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، نوکریاں حکومت نہیں دے گی بلکہ پیدا کرے گی۔

اسد عمر

مزید :

کراچی صفحہ اول -