اسلام میں عورت کو مرد سے طلاق لینے کا مکمل حق ہے ،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

اسلام میں عورت کو مرد سے طلاق لینے کا مکمل حق ہے ،چیئرمین اسلامی نظریاتی ...

  

لاہور(حافظ عمران انور،دیبا مرزا )خواتین کو مردوں سے طلاق لینے کا حق اسلام نے دیا ہے اور اس حوالے سے نکاح فارم میں تفویضطلاق کاخانہ موجود ہوتا ہے جس کو بالعموم زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔آئندہ نکاح خواں کی یہ ذمہ دارہ ہو گی کہ وہ دلہن کو تفویض کر دہ حق کے حوالے سے مکمل آگاہی دے تاکہ وہ اپنا یہ حق کسی بھی وقت استعمال کر سکے ،ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں عورت کو مرد سے طلاقلینے کا مکمل حق حاصل ہے اوراس حوالے سے نکاح فارم میں خانہ موجود ہوتا ہے لیکن عمومی طور پر اس کا نہ تو دلہا اور نہ ہی دلہن کو پتہ ہوتا ہے ۔ہمارے پاس یہ تجویز آئی ہے کہ کوئی ایسی صورت بنا دی جائے کہ جو نکاح خواں ہو کہ وہ باقاعدہ تفویض نکاح کے حوالے سے دلہا اور دلہن کو نکاح کے وقت ہی آگاہ کریں کہ آپ کے حقوق اور اختیارات میں تفویض طلاق بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ موجودہ حالات میں اس وقت بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ تین طلاقیں بیک وقت دینے کے حوالے سے بھی مسائل بڑھ رہے ہیں اور اس حوالے سے مختلف افراد کی جانب سے اسلامی نظریاتی کونسل کو شکایات موصول ہو رہیں ،وہ جذباتی پن میں طلاق دے دیتے ہیں اب اس کا حل نکالا جائے تو اس صورت حال سے نکلنے کے لئے ہم نے حکومت کے لئے ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے جس پر اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے علمائے کرام اور عائلی قوانین کے ماہر وکلاء سے تجاویز لے کر اس ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس حوالے سے اسلامی نطریاتی کونسل کا اجلاس 30اکتوبر کو ہو گا جس میں نکاح کے وقت کچھ ذمہ داری نکاح خواں کی بھی ہو گی کہ وہ دوران نکاح دلہا اور دلہن کو تفویض طلاق کے حوالے سے آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔دوسری طرف اس اہم مسئلے پر جما عت اسلا می خواتین ونگ کی صدڈا کٹر سمیعہ را حیل قا ضی نے نکا ح نا مہ میں مجوزہ تبدیلو ں میں عورت کا ’’ ڈائریکٹ طلا ق‘‘ دینے کے قا نون کے حوالے سے ’پا کستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہے کہ اگر چہ شریعت میں اس کی اجازت ہے لیکن خا ندان کے استحکا م کے لئے طلا ق کا حق مرد کے پا س ہی ہو نا چاہیے ،چو نکہ عورت جذ با تی ہو تی ہے اور با ت با ت پر طلا ق کا تقا ضا کر تی ہے اس لئے گھروں کو محفوظ رکھنے کے لئے اور معاشرتی اقدار کو متوازن رکھنے کے لئے یہ حق مرد کے پا س ہی اچھا لگتا ہے اس لئے اللہ نے بھی اس کے لئے مرد کو ہی حق دیا ہے ۔للہ نے اسلا م میں مرد اور خواتین دونو ں کے حقوق کو برا بری کی سطح پر وا ضح کر دیا ہے ۔ بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں ہمیں عورتوں کو مرد کے تا بع بنا یا گیا ہے چو نکہ مرد میں فیصلہ کر نے کی قوت ذیا دہ ہو تی ہے اور وہ جذ با تی رو میں فیصلہ کر نے سے اجتنا ب کر تا ہے اس لئے اس کو طلا ق کا حق حا صل ہے ۔نکا ح نا مہ میں عورت کو طلا ق لینے کی شق تو پہلے ہی مو جو د ہے لیکن نکا ح کے وقت ہی اگر مرد اس کو ’’حق طلا ق‘‘ دے دیتا ہے تو پھر وہ جب چا ہیے طلا ق لے لے لیکن ایسا کر نے سے اس شیطا نی عمل کو بڑھا وا ملے گا کیو نکہ اللہ کو یہ عمل سخت نا پسند ہے ۔ انہو ں نے کہا ویسے بھی نکا ح کے آغا ز میں ہی ایسے عمل سے خا ندا ن کا استحکا م خطرے میں پڑ جا تا ہے، عورت کو محفو ظ گھر دینے کے لئے اس حق کو مرد کے پا س ہی رہنا چا ہیے ۔

طلاق حق

مزید :

کراچی صفحہ اول -