سعودی صحافی جمال خاشقجی کے دادا شاہ عبدالعزیز آل سعود کے معالج

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے دادا شاہ عبدالعزیز آل سعود کے معالج
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے دادا شاہ عبدالعزیز آل سعود کے معالج

  

لندن (ویب ڈیسک)پاکستان میں سعودی عرب کے اسلحے کے سوداگر عدنان خاشقجی کا نام اجنبی نہیں ہے۔ خاشقجی خاندان اپنی امارت، اعلیٰ تعلیم اور گوں نا گوں صلاحیتوں کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف سعودی عرب، مشرقی وسطی بلکہ کئی مغربی ممالک میں بھی نمایاں رہا ہے۔تاہم حالیہ دنوں میں خاشقجی خاندان کا چرچہ بین الاقوامی ذرائغ میں زیادہ آ رہا ہے اور اس کا سبب ہے سعودی صحافی اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد جمال خاشقجی کی ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں دو اکتوبر کو ان کی پراسرار حالات میں ہلاکت ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق جمال خاشقجی اسلحے کے سوداگر عدنان خاشقجی کے بھتیجے تھے۔ عدنان خاشقجی کے اثاثوں کی مالیت ان کے اپنے عروج کے زمانے میں 40 ارب ڈالرز کے قریب بیان کی جاتی ہے۔بات دنیا کی شہر آفاق فلموں کی ہو یا کاروبار کی، ادب کی ہو یا صحافت اور سیاست کا ذکر ہو، خاشقجی خاندان کے کسی نہ کسی فرد کا ذکر اس میں آ جانا کوئی حیرانی کی بات نہ ہو گی۔لیڈی ڈیانا کے ساتھ اپنی دوستی کی وجہ سے شہرت پانے والے دودی الفاید کی والدہ، سمیرا، خاشقجی خاندان سے تھیں۔سمیرا خاشقجی جمال خاشقجی کی پھوپھی اور عدنان خاشقجی کی بہن تھیں۔ ان کی شادی مصر کے معروف بزنس مین محمد الفاید سے ہوئی تھی۔ اس طرح جمال خاشقجی دودی الفاید کے قریبی رشتہ دار بھی بنتے ہیں۔سمیرا خاشقجی ایک ترقی پسند لکھاری بھی تھیں اور ایک میگیزین کی ایڈیٹر بھی رہیں تھیں۔استنبول میں سعودی قونصل خانے میں مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے صحافی جمال خاشقجی سنہ 1958 میں مدینے میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے جو دو نسل پہلے سعودی عرب میں جاکر آباد ہوگیا تھا۔

عرب ممالک اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کی ولایتیں یعنی صوبے تھے اور یہ خطہ ابھی تیل کی دولت سے آشنا نہیں ہوا تھا۔جمال خاشقجی کے دادا اور عدنان خاشقجی کے والد، محمد خاشقجی ایک ڈاکٹر تھے اور سعودی عرب کے پہلے بادشاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمٰن آل سعود کے شاہی معالج تھے۔محمد خاشقجی نے سعودی عرب کو اپنا وطن تو بنا لیا تھا لیکن ان کا آنا جانا پورے عالمِ عرب میں تھا۔ ان کے بچے عرب دنیا کے مختلف شہروں میں پیدا ہوئے۔ مثلاً عدنان خاشقجی مکے میں پیدا ہوئے تو عدنان کی ایک بہن سھیرخاشقجی، قاہرہ میں پیدا ہوئیں، جکبہ دودی الفاید کی والدہ سمیرا لبنان میں پیدا ہوئیں۔خاشقجی خاندان کے تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس خاندان کے تقریباً ہر فرد نے مغرب کے اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ڈگریاں حاصل کیں اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔جمال خاشقجی کی ایک کزن اور عدنان خاشقجی کی بیٹی، نبیلہ اس وقت امریکہ میں ایک کامیاب بزنس وومین ہیں جو اداکارہ بھی رہیں ہیں۔ وہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ نبیلہ نے جیمز بانڈ فلم کی سیریز ’نیور سے نیور اگین‘ میں بھی معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ نبیلہ بیروت میں پیدا ہوئی تھیں۔

خاشقجی خاندان کے ایک اور فرد، اور جمال کے کزن، عماد خاشقجی، فرانس کے ایک بہت بڑے بزنس مین ہیں جنھوں نے وہاں لینڈ ڈویلپمنٹ کے کاروبار میں کافی نام اور منافع کمایا۔ ان کی معروف تعمیرات میں فرانس کا تاریخی اور روایتی طرز پر بنایا گیا ’شیتو لوئی ششدہم‘ محل بھی شامل ہے۔جمال کی ایک اور پھوپھی، سھیر خاشقجی، جو اب امریکہ میں مقیم ہیں، ایک معروف ناول نگار بھی ہیں جن کا انگریزی کا ایک ناول ’میراڑ‘ سن 1996 میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول نے سعودی معاشرے کے شاہی جاہ و جلال اور شان و شوکت کے پیچھے چھپی ہوئی حرم کی زندگی کو بے نقاب کیا۔سھیر نے اس ناول کے ذریعے آج کی سعودی عورت کی شخصی آزادی کے لیے جد و جہد کو بھی اجاگر کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جمال خاشقجی کے نظریات پر عورتوں کے حقوق کی چھاپ بہت زیادہ نظر آتی تھی۔

خاشقجی خاندان بزنس کے میدان میں بہت عروج حاصل کرنے کے ساتھ تعلیم، ابلاغ اور دانشوری کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ اس لحاظ سے خاشقجی خاندان کو سعودی شاہی سیاست اور قبائلی معاشرے میں تبدیلی کے ایک موثر عامل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔مبصرین کے مطابق، خاشقجی خاندان جیسے کئی اور پڑھے لکھے اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نسل اب سعودی بادشاہت میں اپنا حصہ مانگ رہی ہے۔ یہ نسل سعودی معاشرے کا وہ باشعور طبقہ ہے جو ایک قدامت پسند، مذہبی اور قبائلی معاشرے کو جدید دنیا کی اقدار کے برابر لانا چاہتا ہے۔موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے بظاہر اسی طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا اور بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کا عمل شروع کیا تھالیکن جمال خاشقجی کی پراسرار ہلاکت کے بعد ان اصلاحات کی حیثیت اسی قدامت پسند، مذہبی اور قبائلی معاشرے پر ایک ملمّہ سازی سمجھی جارہی ہے۔

مزید :

برطانیہ -