ہے کسی مرد کے پاس میرے سوال کا جواب؟

ہے کسی مرد کے پاس میرے سوال کا جواب؟
ہے کسی مرد کے پاس میرے سوال کا جواب؟

  

مرد کے نطفے سے عورت کی کوکھ میں جنم لینے والا وجود اگر عورت کا ہے تو مرد کے لئے یہ بات کسی تازیانے سے کم نہیں۔لیکن جب یہ وجود مرد کی صورت پیدا ہوتا ہے تو اسکی باچھیں کھل جاتی ہیں ،مردوں کی اس ذہنیت کو آج تک کوئی نہیں بدل سکا کہ یہ عورت ہی ہے جومردکو جنم دیتی ہے ،پھر اسے عزت کیوں نہیں دیتے ؟

مرد عورت کی کوکھ سے مرد کے ہی پیدا ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔عورت کی کوکھ میں جب دوسرا وجود پنپنا شروع کرتا ہے تو مرد اپنی نصف بہتر سے ایک ہی تقاضا کرتا ہے۔اور وہ ہے بیٹا پیداکرنے کا تقاضا۔۔عورت جب بیٹے کو جنم دیتی ہے تو معاشرہ اسے ایک مضبوط عورت تصور کرتا ہے۔بیٹے کی پیدائش عورت کے قدم سسرال میں مضبوط کر دیتی ہے۔ عورت جب بیاہ کر سسرال جاتی ہے تو شادی کے ابتدائی دنوں سے گھر کے افراد اٹھتے بیٹھتے ایک ہی بات با ور کروا رہے ہوتے ہیں کہ پہلا بچہ بیٹا ہی ہو۔ عورت جب ماں بننے کے مراحل سے گزرتی ہے تو اسے پورے نو ماہ ایک ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔اسکا سارا میڈیکلی نظام بدل جاتا ہے ۔بیٹا پیدا کرنے کا تقاضا عورت کو سولی پر لٹکا دیتا ہے۔ حمل کے ابتدائی ہفتوں میں الٹرا ساؤنڈ کروایا جاتا ہے تا کہ بچے کی جنس معلوم کروائی جا سکے۔اگر الٹرا ساؤنڈ میں بچے کی جنس معلوم ہو جائے تو عورت شوہر اور سسرال کے دباؤ میں آ کر اپنا بچہ ضائع کروانے پر بھی مجبور ہو جاتی ہے۔اگر عورت کے اوپرتلے بیٹیوں کی پیدائش ہو جائے تو نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے یا پھر مرد کی دوسری شادی کی صورت میں سوتن کا وجود برداشت کر نا پڑتا ہے۔

ایسا نہیں کہ یہ صرف ان پڑھ طبقے میں ہی ہوتا ہے بلکہ اس گھٹیا سوچ کا حامل پڑھا لکھا طبقہ بھی ہے۔ایسی سوچ کے حامل مردو ں کے لئے منٹو نے کیا خوب کہا ہے ’’بیٹی پیدا کرنا توکوئی نہیں چاہتا لیکن بستر پر عورت ہر کوئی چاہتا ہے‘‘منٹو تو یہ کہہ گئے لیکن ایک سوال تو آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے اور اس سوال کا جواب کسی مرد کے پاس موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عورتیں بیٹے ہی جنم دیتی رہیں تو پھر عورت کی کوکھ سے مرد کیسے جنم لے گا اور اگر مرد جنم نہ لے گا تو عورت پر ظلم کون کرے گا اسے بیٹی پیدا نہ کرنے کے طعنے کون دے گا؟ ہے کسی مرد کے پاس میرے سوال کا جواب؟

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -