’’شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی بلکہ ۔ ۔ ۔‘‘ بالی ووڈ میں می ٹو مہم زور پکڑنے کیساتھ ہی معروف اداکارہ شلپا شندے بھی میدان میں آگئیں، ایسی بات کہہ دی کہ کئی اداکاراؤں کیلئے منہ دکھانا مشکل کردیا

’’شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی بلکہ ۔ ۔ ۔‘‘ بالی ووڈ میں می ٹو مہم زور ...
’’شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی بلکہ ۔ ۔ ۔‘‘ بالی ووڈ میں می ٹو مہم زور پکڑنے کیساتھ ہی معروف اداکارہ شلپا شندے بھی میدان میں آگئیں، ایسی بات کہہ دی کہ کئی اداکاراؤں کیلئے منہ دکھانا مشکل کردیا

  

ممبئی(شوبز ڈیسک)بھارت میں ان دنوں جہاں ’’می ٹو‘‘مہم اپنے عروج پر ہے ، ٹی وی کی معروف اداکارہ شلپا شندے نے ایک حیران کن انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی۔

بھارتی نشریاتی ادارے سے خصوصی بات کے دوران شلپا شندے نے بولی وڈ میں جاری ’’می ٹو‘‘ مہم پر کھل کر بات کرتے ہوئے ان اداکاراؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اب اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں،شلپا شندے کا کہنا تھا کہ یہ عمل بالکل غلط ہے کہ جب خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، تب وہ خاموش رہیں اور اب کافی دیر بعد بول رہی ہیں۔بعد میں بات کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی تنازع کو جنم دے رہی ہیں اور لوگ ان کا اعتبار بھی نہیں کریں گے ۔

شلپا شندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں آنے والی نئی لڑکیوں کو جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے تاہم وہ اس دوران یہ سمجھ نہیں پاتیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟انہوں نے کئی ایسی نئی لڑکیوں کو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں دیکھا ہے جو کیریئر کے آغاز میں انتہائی مختصر کپڑے پہن کر ڈائریکٹر و پروڈیوسرز کے پاس جاتی ہیں۔شلپا شندے نے دعویٰ کیا کہ بولی وڈ میں کوئی ‘ریپ‘ یا زبردستی نہیں ہوتی تمام باتیں ایک سمجھوتے کے تحت ہوتی ہیں۔ شلپا شندے کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں سمجھوتے کے تحت کچھ لو اور کچھ دوکی بنیاد پر چیزیں ہوتی ہیں۔ ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کے الزامات لگانے والی اداکاراؤں کو اس وقت آواز بلند کرنی چاہیے جب ان کے ساتھ نازیبا واقعہ ہو.

مزید :

تفریح -