مذاکراتی ٹیم اور احتجاج کے رنگ ڈھنگ

مذاکراتی ٹیم اور احتجاج کے رنگ ڈھنگ

  



اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لئے قائم کی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا استعفا ناممکن بات ہے،وزیراعظم نے مذاکرات کے لئے سینئر لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے، اب اپوزیشن میں سے جس کے جو مطالبات ہیں وہ بتا دے ہم غور کریں گے، آج بھی کچھ لوگ کمیٹی میں ناموں پر اعتراض کر رہے ہیں،مگر ہم نے سنجیدگی ظاہر کرنے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو شامل کیا ہے،چودھری پرویز الٰہی سپیکر پنجاب اسمبلی بھی کمیٹی میں شامل ہیں اُن کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن ریاست کے ستونوں پر حملہ نہ کریں اگر کوئی نظام توڑنا چاہتا ہے تو پھر اسی طرح جواب ملے گا،ہم برداشت نہیں کریں گے ہم نے اپنے کارڈ اوپن کر دیئے ہیں پھر یہ نہ کہیں کہ حکومت یہ کر رہی ہے، لگتا ہے اپوزیشن کا ایجنڈا کچھ اور ہے،یہ سب کشمیر کا معاملہ دبانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔2014ء میں تحریک انصاف کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے دھرنے کی ”وجہ اور تھی“۔تمام راستوں کے بند ہونے پر دھرنا دیا تھا،ہم نے اُس وقت بھی مذاکرات کئے تھے، پانامہ معاملے پر کمیشن کا معاملہ ہم نے مانا تھا، کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔وہ وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

ایک ہی دن میں آٹھ آٹھ وفاقی وزراء کی پریس کانفرنسوں اور بیانات سے مترشح ہونے لگا ہے کہ حکومت اب مذاکرات میں ”سنجیدہ“ ہے تاہم اب بھی اس کا رویہ بیک وقت گاجر اور چھڑی والا ہے،مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، بعض اقدامات بھی چغلی کھاتے ہیں کہ اپوزیشن کو پابندیوں سے بھی ڈرایا جا رہا ہے۔وفاقی کابینہ سے مراسلے کے ذریعے مشاورت کے بعد جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رضا کاروں کی تنظیم ”انصار الاسلام“پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے یہ پابندی آئین کے آرٹیکل256 اور ایکٹ1974ء کے تحت لگائی جائے گی اور صوبوں کو کارروائی کا اختیار دیا جائے گا تاہم جمعیت علمائے اسلام(ف)کا موقف ہے کہ”انصار الاسلام“ مسلح جماعت نہیں،رضا کاروں کا کام پولیس سے مل کر جلسے جلوسوں کی سیکیورٹی دیکھنا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ حکومت کو اقتدار چھن جانے کا خوف ہے۔

”انصار الاسلام“ مسلح تنظیم ہے یا اس کی حیثیت ان رضا کاروں جیسی ہے، جو سیاسی جماعتوں میں پہلے سے موجود ہیں اور ہر سیاسی اجتماع یا بڑے جلسوں کے موقع پر ایسے رضا کار نظر آتے ہیں۔ البتہ مولانا کے ذہن ِ رسا نے اس میں ندرت یہ پیدا کی ہے کہ رضا کاروں کو باقاعدہ ڈھیلی ڈھالی وردیاں بھی پہنا دی ہیں اور یہ رضا کار اپنے قائد کو سلامی بھی دے رہے ہیں،حکومت نے اگر آئین کے آرٹیکل کے تحت ان رضا کاروں پر پابندی لگائی تو معاملہ لازماً اعلیٰ عدالتوں میں جائے گا،جو یہ فیصلہ کریں گی کہ کیا آئین ایسے رضا کاروں پر پابندی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں، کیونکہ محض رضا کاروں کو ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنا دینے سے،جس سے وہ دور ہی سے پہچانے جائیں کہ وہ رضا کار ہیں، اُسے ”مسلح تنظیم“ نہیں بنا دیتا، خیر اگر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی نوبت آتی ہے اور اس دوران ڈیزل جیسی پھبتیاں بھی حسب سابق دہرائی جاتی ہیں تو پھر ابھی سے معلوم ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا ہو گا،لیکن جیسا عموماً ایسی صورت حال میں ہوتا ہے دونوں طرف سے تلخ کلامی بھی ہو گی اور ایسے بیانات بھی آئیں گے جیسے شیخ رشید نے آج ہی کہا ہے کہ علماء نے جب بھی تحریک چلائی ملک میں مارشل لا لگ گیا،اب مولانا، شیخ صاحب کے اِس بیان سے ڈر کر تو اپنا پروگرام ملتوی کرنے والے نہیں اور نہ ہی ماضی میں ایسی تحریکیں چلانے والوں نے اس وقت کے وزیراعظم یا وزراء کے بیانات پر اپنا احتجاج منسوخ کیا تھا،اِن کالموں میں اتنی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں ہونے والے سیاسی احتجاجوں اور تحریکوں کے محرکات اور اُن کے نتائج و عواقب کا جائزہ لیا جائے،لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسے احتجاج عموماً اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہی رہے چاہے اُن کی شکل وہ نہ تھی جو احتجاج کرنے والے چاہتے تھے، البتہ ان احتجاجوں سے اتنا ضرور ہوا کہ وہ حکومتیں رخصت ہو گئیں،جن کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ اس کی جگہ لینے والا نظام وہ نہ تھا جو احتجاجیوں کو مطلوب تھا،ویسے بھی کسی بھی سیاسی تحریک کے نتائج سو فیصد وہ نہیں نکلتے جو تحریک شروع کرنے والوں کے ذہن میں ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک کے دوران اور بعد میں ایئر مارشل(ر) اصغر خان جو امیدیں لگائے بیٹھے تھے ان میں سے ایک بھی پوری نہ ہوئی،یہاں تک کہ انہیں گھر میں طویل نظر بندی کا دور گزارنا پڑا،ویسے بھی مولانا فضل الرحمن تو اُسی طرح وزیراعظم کا استعفا لینے نکلے ہیں،جس طرح عمران خان، نواز شریف سے استعفا طلب کر رہے تھے، پرویز خٹک بھلے سے کہتے رہیں کہ اُن کی جماعت کے دھرنے کا مقصد اور تھا،لیکن کیا کوئی اِس امر سے انکار کر سکتا ہے کہ وزیراعظم سے استعفے کی طلبی کے مطالبے میں تو پوری پوری یکسانیت ہے،ہاں وہ یہ کہتے تو زیادہ حقیقت پسندانہ بات ہوتی کہ جس طرح عمران خان، نوازشریف سے استعفا لینے میں ناکام ہوگئے تھے اس طرح مولانا فضل الرحمن بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ اُن دِنوں عمران خان نے سینکڑوں مرتبہ اپنے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں ایک سال بھی دھرنا دینا پڑا تو وہ دیں گے، لیکن استعفا لئے بغیر واپس نہیں ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن تو کسی مدت کا تعین نہیں کر رہے،اُن کا استعفے کا مطالبہ ہے اور وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کرنے کے لئے آنے والی کمیٹی استعفا ساتھ لے کر آئے،اس کا جواب تو پرویز خٹک نے دے دیا ہے کہ استعفا ناممکن ہے، اب دیکھنا ہو گا کہ مذاکرات کی بساط بچھتی ہے یا نہیں اور اگر بچھتی ہے تو اس پر کھیل کس طرح شروع ہوتا ہے اور کون کس کو مات دیتا ہے،بیانات کی چاند ماری سے اگر کچھ حاصل ہونا ہوتا تو حکومت مذاکرات کے لئے اتنی ”ہائی پروفائل“ کمیٹی تو نہ بناتی۔

مولانا کے احتجاج کی نوعیت کیا ہو گی اور اس میں اور عمران خان کے دھرنے میں کیا کیا مماثلتیں ہوں گی اور کیا کیا فرق ہوگا یہ تو کسی کو معلوم نہیں،کیونکہ اس معاملے میں مولانا نے ابھی کسی کو اعتماد میں نہیں لیا،جن کو لیا ہو گا وہ بھی اس سلسلے میں لب کشائی پر آمادہ نہیں،فی الحال تو اتنا معلوم ہے کہ رضا کاروں کی تنظیم پر پابندی لگے یا نہ لگے، مولانا بہرحال اسلام آباد آ رہے ہیں اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں،اُن کا یہ مطالبہ حکومت بار بار رد کر رہی ہے،لیکن اس اجتماع نے کوئی نہ کوئی رنگ تو بہرحال دکھانا ہے،دیکھنا ہو گا کہ یہ رنگ کیسا ہے اور اس کے ڈھنگ کیسے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ