سری لنکن کرکٹ بورڈ پر بھارت کا دباؤ؟

سری لنکن کرکٹ بورڈ پر بھارت کا دباؤ؟

  



دسمبر میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آئی سی سی کی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دو میچوں کی سیریز کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا اور سری لنکن کرکٹ بورڈ نے یہ دورہ وعدے کے مطابق کرنے کی بجائے سینئر کھلاڑیوں کی رضا مندی سے مشروط کر دیا ہے۔اس سے قبل ایک روزہ اور ٹی20 میچوں کی سیریز ختم ہونے کے بعد سری لنکن ٹیم کی واپسی کے ساتھ ہی کرکٹ سری لنکا کے صدر شامی سلوا نے الزامات لگا دیئے تھے اور کہا کہ ان کی ٹیم کو ہوٹل سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، حتیٰ کہ وہ خود دو روز تک رہے تو ہوٹل تک ہی محدود تھے۔اس کے جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے دُکھ کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کئے گئے،جس کی تعریف آئی سی سی نے بھی کی، اس کے علاوہ سری لنکن کھلاڑیوں کی دیکھ بھال میں بھی کسر نہیں چھوڑی گئی،ان کے لئے کئی ظہرانے اور عشائیے بھی ترتیب دیئے گئے تھے،خود سری لنکن کھلاڑیوں نے دلچسپی نہیں لی،بورڈ کے مطابق ٹیم نے واپس جاتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامات کی تعریف بھی کی۔ اب جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں،ان کے مطابق سری لنکن بورڈ پر مبینہ دباؤ بھارت کرکٹ بورڈ کی طرف سے ہے،حالانکہ یہ ٹیسٹ سیریز آئی سی سی پروگرام کا حصہ ہے اور ہوم سیریز ہے، اسے پاکستان ہی میں ہونا چاہئے۔سری لنکن ٹیم کی کراچی اور لاہور میں موجودگی اور کھیل کی وجہ سے حکومت نے جو حفاظتی انتظامات کئے ان کی وجہ سے کراچی اور لاہور کے عوام ٹریفک کی بدترین مشکلات سے دوچار ہوئے، عوام کے احتجاج کو سنا گیا،لیکن حفاظتی انتظامات میں کمی نہیں کی گئی، حالانکہ الحمد للہ ملک میں امن و امان کے حوالے سے اب انتظامات زیادہ بہتر ہیں،اگر اتنی پریشانی اور کثیر اخراجات بھی برداشت کئے گئے تو اس کا یہ صلہ نہیں ہونا چاہئے،جو سری لنکا دے رہا ہے، لوگ تو کرکٹ ہی سے بے زار ہو جائیں گے، اگر سری لنکا بورڈ بوجوہ ٹیم نہیں بھیجتا، تو پاکستان غیر جانبدار مقام پر نہ کھیلے اور اخراجات کلیم کرے۔

مزید : رائے /اداریہ