کشمیر، تقریر اور حقیقی تصویر

کشمیر، تقریر اور حقیقی تصویر
کشمیر، تقریر اور حقیقی تصویر

  



خدشات کیوں سر نہ اٹھائیں؟ مقبوضہ کشمیر کو نگلنے کے بھارتی اقدام کواڑھائی ماہ ہونے کو آ گئے۔ادھر ہم ہیں کہ خالی خول باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔مقام شکر ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں کرفیو اور بھارتی فوج کے مظالم کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس طرح پوری دُنیا کو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بد ترین صورتِ حال سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے۔ اس سب کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہ بھی سچ ہے کہ انٹر نیشنل میڈ یا کے برعکس عالمی برادری نے اس حوالے سے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔شاید وہ ہمارا رویہ دیکھ کر ایسا کر رہے ہیں۔اپنے میڈیا میں مثبت خبریں دینے کی پالیسی کے تحت ہم نے اندرون ملک یہ تاثرپیدا کر رکھا ہے کہ دُنیا کشمیر پر ہمارے موقف کی پذیرائی کر رہی ہے۔اقوام متحدہ میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کو سکندر اعظم کی کامیابی کے مترادف گردانا جا رہا ہے،حالانکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث سارا معاملہ ایک بے کار مشق بنی ہو ئی ہے۔

لگتا تو یہی ہے کہ ہمارے ہاں یہ بات اصولی طور پر طے کر لی گئی ہے کہ اس معاملے پر کسی صورت تصادم کی جانب نہیں جانا،دوسرا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ کرفیو اٹھتے ہی مقبوضہ کشمیر میں بھونچال آ جائے گا۔خون بہے گا تو دُنیا خود مداخلت کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ادھرکشمیری تاریخ کی بد ترین اذیت سے دو چار ہیں۔ کرفیو نے عوام کے معاملات زندگی درہم برہم کر کے انہیں ہر لحاظ سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ مقامی معیشت کو ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے، کرفیو،تشدد اور کاروبار کی بندش نے جینا مشکل بنادیا ہے،ہمارے مظلوم کشمیری بہن بھائی عملی امداد کے منتظر ہیں، مگر دور دور تک کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہم اپنے لوگوں میں نمبر بنانے کے لئے جتنے چاہے ڈنکے بجاتے جائیں حقیقت یہ ہے کہ مودی کے اقدام کے باعث مسئلہ کشمیر انٹرنیشنلائز تو ہوا، مگر ا س سے آگے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

پاکستان کا حقیقی دوست اور اسی مسئلے کا فریق ہونے کے باعث چین نے 5اگست کی بھارتی کارروائی پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا مگر اس میں ہوا کیا؟ایک خاموشی طاری ہو گئی اس سے بھی بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب چینی صدر کے دورہ بھارت سے پہلے پاکستان کی پوری سیاسی و عسکری قیادت بیجنگ گئی۔ یہ توقع پیدا ہوئی کہ چینی صدر بھارت جا کر مسئلہ کشمیر پرکسی نہ کسی طورپر بات کریں گے،دورہ ختم ہو اتو بھارتی ترجمان نے بتایا کہ اس دوران مسئلہ کشمیر پر سرے سے کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانا تھا۔چینی صدر نے وعدہ کیا کہ وہ بھارت کے تجارتی خسارے کوقابو میں لانے کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔چینی صدر کے اس دورے سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی نے چینی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان کا بیان بھی پیش کیا،جس میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔ مزید یہ کہ بھارت اور چین دونوں بڑی ترقی پذیر مارکیٹیں ہیں۔اپنے تمام ہمسایوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ برادر ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس معاملے پرجو رویہ اختیار کیا اس کا ذکر پرانا ہو چکا ہے۔ترکی اور ملائیشیا کھل کرسامنے آئے اور پاکستانیوں کے دِل جیت لئے۔ملائیشیا کے مہاتیر محمد کی تقریر پر بھارت اتنا سیخ پا ہوا کہ سالانہ اربوں ڈالر پام آئل کی درآمدات روکنے کے لئے اقدامات شروع کر دئیے۔

امریکہ نے اس مسئلے پر جو پالیسی اختیار کی وہ چکر بازی پر مبنی رہی۔عمران خان کے پچھلے دورے میں ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات چھیڑی تھی، ابھی اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔اس وقت سے اب تک امریکہ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور اتنا تو واضح کر ہی چکا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے،یعنی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت رائے شماری کا کوئی ذکرنہیں۔مودی ٹرمپ سے ملنے گئے تو امریکی صدر نے سب کے سامنے یہ کہہ دیا کہ مودی سمجھتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کو بخوبی کنٹرول کرلیں گے۔مقبوضہ کشمیر کو نگلنے کے بھارتی اقدام سے قوم کے اندر ایک اتفاق رائے اور اتحاد پیداہونے کی امید ہو چلی تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لا کر یہ چراغ روشن ہونے سے پہلے ہی گل کردیا گیا۔

بھارتی جارحیت کے فوری بعد مریم نوا زنے مظفر آباد میں احتجاجی جلسے کا اعلان کیا تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ آزاد کشمیر میں بڑا جلسہ پی ٹی آئی حکومت کے لئے اچھا شگون نہیں ہوگا۔چنانچہ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت گرفتار کر لیاگیا جب وہ اپنے اسیر والد نواز شریف سے ملاقات کر رہی تھیں۔آج اپوزیشن بہت سخت مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔مسلم لیگ(ن)،جے یو آ ئی اوردیگر جماعتوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کابھی یہی مؤقف ہے۔ بلاول بھٹو نے جمعہ کو سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ کشمیر کا سودا کرلیا گیا۔

ایسی فضا میں جب وزراء یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، تو حزب اختلاف کے رہنما فوری جواب دیتے ہیں کہ مسئلہ کشمیرہی تو اٹھانا ہے۔ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آخر نریندر مودی کو اسی دور میں اتنا بڑا اور سنگین قدم اٹھانے کی جرأت کیسے ہوئی؟ اپوزیشن جماعتوں کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اب آگے کیا ہوگا؟مقبوضہ کشمیر پاکستان سے دور کوئی الگ تھلگ علاقہ نہیں،بلکہ ہماراحصہ اور ہماری شہ رگ ہے۔ آج نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے پانی روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔ 5اگست کے بھارتی اقدام کا فوری اور عملی طور پر منہ توڑ جواب دینے کے لئے مختلف حلقوں کی طرف سے دباؤ اس لئے ڈالا جا رہاتھا کہ بد نیت بھارتی حکمران صرف یہیں تک نہیں رکیں گے، بلکہ ایسی کئی مزید حرکات کریں گے، جس سے پاکستان کی سا لمیت اور معیشت کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ہمارے دفتر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم کی پانی روکنے کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام جارحیت تصور کیا جائے گا۔ہم نہایت ادب سے ان سے پوچھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت کا حصہ بنانے کا اقدام جارحیت نہیں ہے کیا؟

ہمیں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے ہاں مثبت خبروں کی پالیسی کے تحت اسے بھی دوسرے رنگ میں پیش کیا جا رہاہے، لیکن سچ یہی ہے کہ ہمیں فروری 2020ء تک مہلت ملی ہے اور اب تک دکھائی گئی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار پائی، پھر بھی ہمیں مقبوضہ کشمیر کے لئے کچھ نہ کچھ تو لازماً کرنا ہے۔یہ دشمن کو نہ صرف سبق سکھانے، بلکہ نا پاک ارادے پورے کرنے کے لئے آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے بھی ضروری ہو چکا ہے۔ کشمیر سے متعلقہ خطرات سر پرمنڈلا رہے ہیں، عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بڑے مزے سے بتا رہے ہیں کہ کرتار پور راہداری کھلے گی کوئی روک سکتا ہے تو روک لے۔ ان کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ آخر روک کون رہاہے؟کیا مودی اس منصوبے کو ٹھپ کر کے پوری سکھ قوم کے مذہبی جذبات کو مجروح کر نے کا متحمل ہو سکتا ہے یقینا نہیں وہ اس معاملے پر بھی اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرے گا، بھارت کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات بھی قائم ہیں، فضائی حدود بھی کھلی ہوئی ہیں، اگر ہمیں مسئلہ کشمیر کو واقعی پوری دنیا کے فوکس میں لا کر بیرونی مداخلت سے حل کرنا ہے تو اپنی موجودہ پالیسی پر فوری نظر ثانی کرنا ہو گی۔ یہ تاثر بھی ختم کرنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر صر ف انسانی حقوق کی پامالی اور کرفیو کا ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت رائے شماری ہی واحد مطالبہ ہونا چاہئے،جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ اس بات پر بپھری ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ آزادی مارچ،احتجاج اوردھرنوں کے ذریعے کشمیر کا حساب مانگا جائے گا۔وطن ِ عزیز یوں تو ہمیشہ ہی تاریخ کے نازک موڑ پر رہا ہے، لیکن آئی ایم ایف کے شکنجے،عالمی اور علاقائی صورتِ حال، بھارتی اقدامات نے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیئے ہیں۔مضحکہ خیز بات ہے کہ جو اپنے ملک میں اپنے ہی ہم وطنو ں کے ساتھ ثالثی نہیں کر سکتے وہ ایران،امریکہ اور ایران،سعود ی عرب ثالثی کرواتے پھر رہے ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر کو نگلنے کے بعد پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہاہے اور ہماری عالمی سپورٹ سکڑ کر تین چارممالک تک محدو دہو گئی ہے۔ثالثی کے عمل میں عمران خان کو عالمی لیڈر بنانے پر تلے عناصر کو اچھی طرح سے پتا ہے کہ یہ کو ئی نئی بات نہیں،تقریباً ہر حکمران نے یہی عمل دہرایا ہے۔

خلیج کی صورتِ حال کا تمام تر دارومدار امریکی پالیسیوں پر ہے۔ امریکہ کو اپنے فوجی اور جنگی سازو سامان سعودی عرب بھجوا کر بھاری وصولیاں کرنا تھیں، یہ کا م بخوبی ہوگیا۔ کہنے کو تو ہم رضا کارانہ طور پر ثالثی کرارہے ہیں،مگریہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس حوالے سے ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا۔ ٹرمپ ہو یا کو ئی بھی اور امریکی صدر، انہیں جنگ سے کوئی دلچسپی ہے نہ ہی امن سے۔ان کی واحد ترجیح ا پنے مالی،سفارتی اور سٹرٹیجک مفادات کا تحفظ ہے۔ایسے میں مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر ثالثی کے لئے بھاگتے پھرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی عیار افسر کسی ما تحت کو جائز حق مانگنے پر حیلے بہانے سے دوسرے کاموں پر لگا دے۔

مزید : رائے /کالم