احتجاجی آزادی مارچ، دھرنا اور حکومتی رد عمل

احتجاجی آزادی مارچ، دھرنا اور حکومتی رد عمل
احتجاجی آزادی مارچ، دھرنا اور حکومتی رد عمل

  



ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت موجود ہے وزیر اعظم عمران خان ان کی کابینہ کی موجودگی میں تاجر برادری اپنے مسائل کے حل کے لئے اور حکومت کے خلاف شکایات کے ازالے کے لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ تاجر برادری نے وزیر اعظم عمران خان سے کہنے والی باتیں آرمی چیف سے کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ ملک کی موجودہ معاشی بد حالی میں جہاں حکومتی پالیسیوں کا کردار ہے وہاں زیادہ بڑا کردار نیب کا بھی ہے۔ نیب کے احتساب کا سارا زور اور توجہ حکومت کے سیاسی مخالفین پر مرکوز ہے حکومت میں بیٹھے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت پیدا نہیں ہو رہی، یا پھر نیب ان کے معاملات کو جان بوجھ کر نہیں چھیڑ رہی کیونکہ اگر خلاصہ کھل گیا تو پھر چمڑی بھی اتر سکتی ہے اب نیب کے سربراہ صفائی پیش کریں یا پریس کانفرنس میں وضاحتیں دیں، اس کا کوئی فائدہ اسے نہیں پہنچ سکے گا مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنے کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا کے دور دراز سے احتجاج میں شرکت کرنے والے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو ضروری ہدایات اور طریقہ کار سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید اور صوبائی وزراء کے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو جیل بھجوانے کے خواب پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے پہلے سو دن اور پھر ایک سال گزرنے کے بعد بھی وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں ابھی تو صرف 13 ماہ گزرے ہیں اور عوام تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، ابھی صبر کریں اور انہیں وقت دیں وزیر اعظم اور حکومت کے چار سال باقی ہیں سیاسی مخالف جماعتوں کے رہنما تو شاید مخالفت برائے مخالفت میں کہہ رہے تھے لیکن اب توعوام بھی کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک حکومت درست سمت کا ہی تعین نہیں کر سکی، یوٹرن بھی کسی کام نہیں آ رہے اس طرح تو منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتے یہاں تو وزراء اپنی سلیکشن اور صلاحیت ہی درست ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں اور محکمے مالیاتی ڈسپلن قائم نہیں کر سکے، ان حالات میں صبر کرنا فضول پریکٹس ہو گی اس صورت حال میں مولانا فضل الرحمن اسلام آباد آ رہے ہیں تو ان کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف پارٹی اجلاسوں میں اہم فیصلے کر رہے ہیں میاں نواز شریف سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے دونوں جماعتیں ”آزادی مارچ“ کی حد تک تو متفق دکھائی دیتی ہیں۔

دھرنے کی سیاست پر تحفظات رکھتی ہیں نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کو ایک خط کے ذریعے آزادی مارچ اور دھرنے کے حوالے سے مکمل سیاسی اور اخلاقی تعاون کا یقین دلا دیا ہے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ دھرنے اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) چند ماہ کے اندر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ سکتی ہیں کیونکہ حکومت 13 ماہ کی بجائے 18 ماہ گزار چکی ہو گی اور حکمرانوں کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہوگا جوں جوں احتجاجی آزادی مارچ اور دھرنے کا وقت قریب آ رہا ہے وہ جماعتیں جو خاموش بیٹھی تھیں ان کے اسلام آباد پہنچنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی نے بھی مولانا فضل الرحمن کے احتجاجی آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہوئے اس موقع پر خود احتجاج میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے حکومت اور اس کی کابینہ کے ارکان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے 35 علماء اور احتجاجی آزادی مارچ دھرنے کے لئے فنڈز فراہم کرنے والے افراد کو حراست میں لینے کا بندوبست ہو رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...