آہ……ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فرعون

آہ……ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فرعون
آہ……ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فرعون

  



میرا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے۔ وطن ِ عزیز میں ساڑھے چھ دہائیاں گذارنے کے دوران میرا ضلع ہی میرا سب سے بڑا سرمایہ افتخار رہا۔ میرے بچپن میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خانی آمریت کو للکارا تو پورے مغربی پاکستان میں کراچی کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ واحد ضلع(اس وقت ضلع لائل پور کی تحصیل) تھا، جس نے فوجی آمر کے مقابلہ میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ محترمہ اور مادرِ ملت کے حق میں ووٹ دیا۔ کچھ اور بڑا ہوا تو نظریاتی طور پر متنوع بڑے لیڈروں مولانا مودودی (رائٹ) اور مولانا بھاشانی (لیفٹ) کی طرف سے عظیم الشان کانفرنسیں، جلوس اور ریلیاں نکالنے کے لئے ٹوبہ ٹوک سنگھ کے انتخاب نے یہاں کے روشن خیال اور اسلام پسند دونوں طرح کے نظریاتی لوگوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے۔ کچھ سال کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ کے انتہائی نیک نام اور قابل پولیس آفیسر سردار محمد چودھری صوبہ پنجاب کے آئی جی بنائے گئے تو اس ضلع کی نیک نامی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کا شمار پاکستان کی تاریخ کے سب سے قابل پولیس سربراہان میں کیا جاتا ہے۔

میرے تو وہ حقیقی ماموں تھے، لیکن دیکھا جائے تو پورے صوبہ کے ماموں تھے کہ کوئی بھی بے آسرا شخص ان کے پاس اپنا مسئلہ لے کر جاتا تو نہ صرف اس کی شنوائی ہوتی،بلکہ فوری ایکشن کی وجہ سے اس کا مسئلہ حل ہو جاتا، اور ان کا دفتر پنجاب کے ہر شہری کے لئے کھلا تھا۔ ان جیسے عوامی پولیس سربراہ نے پورے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ پچھلے آئی جی امجد جاوید سلیمی کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ سپر ہیوی ویٹ بیوروکریٹ مہر جیون خان سمیت بہت سے نیک نام اور قابل بیوروکریٹس کا تعلق بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع سے رہا ہے۔ مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق ہونے کی وجہ سے ساری عمر جتنا فخر رہا ہے، گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے اس سے زیادہ شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے کہ نظریاتی طور پر اتنے بلند اور سیاسی و انتظامی ہیوی ویٹس کے ضلع کو کس کی نظر لگ گئی۔

نئے پاکستان میں تو روزانہ کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ اس سے بہتر تو پرانا پاکستان ہی تھا جہاں اور کچھ نہیں تو کم از عوام کی عزت نفس کو اتنی ٹھوکریں تو نہیں ماری جاتی تھیں۔ مجھے نئے پاکستان کی سمت کا تعین ابتدائی دِنوں میں ہی ہو گیا تھا جب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے سرکاری دفتر میں پرائیویٹ عدالت لگا کر ایک پرائیویٹ شخص اقبال جمیل گجر کے سامنے پاکپتن کے ڈی پی اور رضوان عمر گوندل کو مجرموں کی طرح پیش کیا گیا۔یہ اقبال جمیل گجر کو غیر قانونی سہولت اس لئے دی گئی، کیونکہ وہ خاتونِ اول اور ان کے سابق خاوند خاور مانیکا کے فیملی فرینڈ ہیں۔ وزیراعلیٰ کے سرکاری دفتر میں لگی اس پرائیویٹ عدالت کے پرائیویٹ جج نے پی ایس پی افسر کی معطلی کا فیصلہ صادر کیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے من و عن عملدرآمد کیا۔ اسی طرح لاہور میں تھانہ غالب مارکیٹ کی پولیس نے جب نئے پاکستان کے ایک سینئر صوبائی وزیر محمود الرشید کے بیٹے کے خلاف پرچہ دینا چاہا تو آئی جی پنجاب محمد طاہر خان کو دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال کر پھینک دیا گیا، جس کے بعد پولیس اصلاحات کے لئے مقرر کئے نیک نام ترین سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی نے بھی استعفا دے دیا اور یوں نئے پاکستان میں مثالی پولیس کا ڈرامہ ختم ہوا۔ سانحہ ساہیوال کو بھی دہرانے کی ضرورت نہیں کہ عمران خان اور عثمان بزدار کے پنجاب میں اب یہی کچھ ہے، لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیش آئے حالیہ واقعات سے میری آہ نکل گئی ہے اور ضلع سے تعلق میرے افتخار کی بجائے شرمندگی میں بدل گیا ہے۔ آہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ……نئے پاکستان کے فرعونوں نے ضلع کی تاریخی میراث پاؤں تلے روند کر رکھ دی ہے۔

پنجاب کے چھتیس اضلاع میں سے ایک ٹوبہ ٹیک سنگھ، جو زرخیز بھی ہے اور مردم خیز بھی، زراعت میں بھی ضلع کا ایک منفرد مقام ہے، ایک اور منفرد اعزاز اس ضلع کو یہ ملا کہ اس میں دو موٹروے گذر رہی ہیں۔ عوام کی اکثریت محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والی ہے۔ البتہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جب ان کی عزت تار تار ہوتی ہے تو یہاں لوگوں میں غم و غصہ بھی واضح نظر آتا ہے۔ چند ہفتہ پہلے 1122کی ایمبولینس ایک جاں بلب مریض کو لے کر تیزی سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی طرف جا رہی تھی۔ پوری دُنیا میں ایمبولینس کو راستہ دیا جاتا ہے اور گاڑیاں ایک سائیڈ پر ہو جاتی ہیں تاکہ جتنی جلدی ممکن ہو ایمبولینس مریض کو ہسپتال کے ایمرجنسی شعبہ میں پہنچا دے۔ کئی جانیں جلد ایمرجنسی پہنچنے سے بچ جاتی ہیں اور بہت سی جانیں راستے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کی یہ ایمبولینس بھی اگر بروقت ہسپتال پہنچ جاتی تو مریض کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ راستہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب کی شاہی سواری جا رہی تھی۔ ایمبولینس نے جب بادشاہ سلامت کو اوورٹیک کیا تو وہ جلال میں آ گئے کہ کسی کی یہ ہمت کیسے ہوئی کہ حکمران سے آگے نکلے۔ ہمارے ڈپٹی کمشنر عوام کے خادم نہیں بلکہ ضلع کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ ایمبولینس کے آگے نکلنے پر ڈپٹی کمشنر نے ایمبولینس کا پیچھا کیا اور اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے گیٹ کے قریب روک لیا۔

اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے عملہ نے ایمبولینس ڈرائیور کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور سڑک پر اسے مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ابھی اس ایمبولینس ڈرائیور کی سرعام ٹھکائی کے منظر لوگوں کے دلوں سے محو نہیں ہوئے تھے کہ ڈپٹی کمشنر کی فرعونیت کے اگلے مناظر سامنے آگئے۔ یہ مناظر سوشل میڈیا پر اتنے وائرل ہو چکے ہیں کہ پاکستان میں شائد ہی کوئی ایسا ہو جس نے نہ دیکھا ہو کہ ڈپٹی کمشنر نے وکیلوں کے بار روم کی لائبیریری میں پرائیویٹ عدالت لگائی ہوئی ہے اور دو معزز سرکاری ملازمین سے زبردستی معافی منگوائی جا رہی ہے۔ لاقانونیت کے اس مظاہرہ نے سارے پاکستان اور خصوصاً میرے جیسے ٹوبہ ٹیک سنگھ والے کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں۔ اگر کسی کو شرم نہیں آئی تو غالباً وہ نئے پاکستان کے حکمران ہیں۔ مَیں اس واقعہ کی تفصیل اِس لئے نہیں لکھ رہا کہ احسن نامی وکیل کی بیوی کے لئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے سے انکار پر سرکاری ہسپتال کے عملہ پر جو بیتی، ان پر جھوٹا مقدمہ بنا کر بارہ دن حوالات میں بدترین تشدد کیا گیا اور اس کے بعد وکلاء لیڈروں نے بار روم میں ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس سربراہ کو اپنے پاس طلب کر کے جس طرح معافیاں منگوائیں، یہ میڈیا اتنا زیادہ دکھا چکا ہے کہ تفصیل دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا تو پرانا پاکستان کیا، انگریز کی غلامی کے دور اور اس سے بھی زمانہ جاہلیت میں بھی ناقابل تصور تھا۔ نئے پاکستان کو کیا اب زمانہ جاہلیت کا پاکستان سمجھا جائے یا پتھر کے دور کا ایک بد قسمت ملک۔

انگریز دور میں انگریز حکمران تھا اور ہم لوگ غلام۔

حکمران بھی ایسا کہ اپنے آپ کو فرعون سے بھی زیادہ طاقتور سمجھتا اور غلاموں کوقدم قدم پر کچل دیتا، لوگوں کوکچلنے سے بھی زیادہ اس کی توجہ ان کی عزت نفس کو مسل کر رکھ دینے میں ہوتی۔ بات بے بات عوام کو ان کی ’اوقات‘ میں رکھتا تاکہ کوئی سر اٹھاکر چلنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ انگریز سے آزادی ملنے کے بعد بھی عوام آزاد نہ ہو سکے اور حکمران طبقہ انہیں آج بھی اپنا غلام سمجھتا ہے۔ آئے دن ملک کے کسی نہ کسی حصہ سے حکمرانوں کی رعونت کی کوئی نہ کوئی مثال سامنے آ جاتی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں میں ایسے واقعات ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہوئے جہاں ضلع کے ڈپٹی کمشنر میاں محسن رشید اور ضلعی پولیس سربراہ وقار شعیب قریشی نے ثابت کیا کہ انگریز دور کی فرعونیت آج بھی اسی آب و تاب سے قائم ہے۔ بڑی پوسٹ پر چھوٹا آدمی ہو یا سفارش سے بھرتی کیا گیا تحصیلدار صوبہ کے گورنر کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر بنا دیا جائے تو اس کا فرعون بن جانے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ صوبہ کا گورنر بھی ایسا کہ برطانیہ میں سیاست کرے تو ایک پتہ تک نہ ہلا سکے، لیکن پاکستان واپس آ کر سیاست کرے تو اقربا پروری اور اپنے بندے لگوانے کے نئے ریکارڈ قائم کر دے، جس میں یہ بھی نہ دیکھا جائے کہ تحصیلدار بھرتی کیا گیا شخص پورے ضلع کا مالک بن بیٹھے اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر کچلنا شروع ہو جائے۔

تحصیلدار بھرتی ہوابھی گورنر پنجاب چودھری سرور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سابق ایم این اے اور تحریک انصاف کے ضلعی صدر چودھری اشفاق کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر لگا دیا گیا۔ اگر ملک کے سسٹم درست طریقہ سے کام کر رہے ہوں تو کیا اس طرح کی اندھیر نگری ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ چودھری سرور بھی برطانیہ کی سیاست چھوڑ کر پاکستان کی سیاست میں اسی لئے گھس گئے ہیں کہ وہاں تو وہ ایک چپڑاسی یا خاکروب تک نہیں لگوا سکتے،لیکن یہاں پورے ضلع کا بادشاہ اپنی مرضی سے لگواتے ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی گورنر تھے، لیکن چونکہ اس دور میں وہ اپنی من مانیاں نہیں کر پا رہے تھے اس لئے وہاں سے نکل کر تحریک انصاف میں چلے گئے۔ اس حکومت میں میرٹ کے علاوہ ہر چیز ممکن ہے اس لئے چودھری سرور صاحب کی پانچوں اب گھی میں ہیں۔ ویسے بھی یہ عمران خان کے نئے پاکستان ہی میں ممکن تھا، جہاں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں، صرف ذاتی دوستوں، عزیزوں اور اپنے بندوں کو عہدوں پر لگایا جاتا ہے۔ عمران خان کے قریبی دوست اور فنانسرز زلفی بخاری، انیل مسرت، صاحبزادہ عامر جہانگیر، نعیم الحق اور ان جیسے بہت سے دوسرے صرف ذاتی دوستی کی وجہ سے کابینہ اور اہم عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ یہی عمل صوبوں میں بھی جاری ہے۔ نئے پاکستان اور نئے پنجاب میں جو ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے کہ فیصلے سرکاری نہیں،بلکہ طاقتور لوگوں کی نجی عدالتوں میں ہوتے ہیں،لیکن میری آہ تو اپنے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے فرعونوں کی وجہ سے نکلی ہے۔

مزید : رائے /کالم