حساب کیجئے: کیا کھویا اور کیا پایا؟

حساب کیجئے: کیا کھویا اور کیا پایا؟
حساب کیجئے: کیا کھویا اور کیا پایا؟

  



دھرنے اور آزادی مارچ میں اب صرف 6دن باقی رہ گئے ہیں لیکن ہمارا میڈیا گزشتہ 26دنوں سے اسی موضوع کی جگالی کئے جا رہا ہے۔ سویلین اور فوجی مبصر ٹاک شوز میں نمودار ہو کر اپنی اپنی ہانک رہے ہوتے ہیں۔ اینکر حضرات و خواتین نے تو اپنا ٹائم پورا کرنا ہوتا ہے کہ یہ ان کی روزی روٹی کا سوال ہے لیکن مبصروں اور تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اب ”لفافہ خور“ نہیں رہی۔ لفافہ تھمانے والے تقریباً سبھی اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ شائد از راہِ مجبوری ہارنے والے گھوڑوں پر شرطیں لگا رہے ہیں۔ مولانا ہیں کہ پستہ قد ہونے کے باوصف، سروقد بننے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ڈنڈا بردار فورس کھڑی ہو چکی ہے اور اس کی ٹریننگ جاری ہے، لیکن معاملہ ہنوز صرف لیفٹ رائٹ تک محدود ہے۔ مولانا سلامی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر اپنے سامنے سے گزرنے والی ”ڈنڈا رجمنٹ“ کی سلامی لیتے ہیں تو ان کی جسمانی حرکات و سکنات وہی رہتی ہیں جو کسی نیوز کانفرنس کے دوران ہوتی ہیں۔ مجھے 30برس کی فوجی نوکری میں کسی بھی زیرِ تربیت رنگروٹوں کو اتنا ڈھیلا ڈھالا مارچ پاسٹ کرتے دیکھنے کا کوئی منظر یاد نہیں جو اس ”مولانائی رجمنٹ“ کا دیکھنے میں آ رہا ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ چلو دھرنا اور آزادی مارچ تو جمہوری روایات کا حصہ ہیں لیکن یہ ڈنڈا بردار رجمنٹ کا مارچ پاسٹ کیا ہے اور یہ کون سی پولیٹیکل رجمنٹل روائت ہے؟……

اب تو 27اکتوبر کو صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، اگر اس رجمنٹ کو استعمال کرنا ہے تو اس کی ٹریننگ کا اگلا مرحلہ کیا ہے اور کب شروع ہو گا؟ یہ ڈنڈے تو بانس بازار سے عام مل جاتے ہیں۔ زرد رنگ کی وردیوں کے تھان بھی کسی ٹیکسٹائل مل سے ارجنٹ آرڈر پر بنوائے جا سکتے ہیں۔ وردیوں کی سلائی بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ اگر کمی ہے تو شائد پاؤں کے بوٹوں (Footwear) کی ہے۔ مختلف طرح کے چپل، بوٹ اور سلیپرز وغیرہ بازروں میں عام دستیاب ہیں۔ وہ کم از کم یک رنگ اور یک قسم ہونے چاہئیں۔ مولانا کے ڈنڈا فورس کمانڈر (وہ جو بھی ہیں) کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ ”دشمن“ پر حملہ اور اس سے دفاع کے وقت یہ Footwear کا مسئلہ نہایت اہم ہوتا ہے اور اگر پسپائی اختیار کرنی پڑے تو اور اہم تر ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس ڈنڈا فورس کی پسپائی اورپس قدمی کے امکانات جم کر دفاع کرنے یا دھاوا بولنے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس لئے بوٹوں اور چپلوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے!

پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے۔ اگلے روز علماء و فقہا کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ ”مولانائی حملے“ کا سامنا کیسے کرنا ہے۔وعظ و تلقین اور مذاکرات و گفتگو کا موقع تو گزر گیا۔ مولانا کی ڈنڈا بردار فورس کے دھاوے کا جواب اس کانفرنس میں کسی نے بھی نہیں پوچھا اور نہ کسی نے دیا…… میرے خیال میں نشستند و خوروند و برخاستند کے علاوہ اس سرکاری علماء کانفرنس نے کچھ بھی نہیں کیا…… خدا معلوم یہ آئیڈیا کس وزیرِ با تدبیر کے ذہنِ رسا سے پھوٹا تھا۔اگر حکومت مولانا کے آزادی مارچ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے تو اس کا پلان اے اور پلان بی دونوں سامنے آنے چاہئیں۔ شائد یہ دونوں پلان اس لئے ہنوز پردۂ اخفاء میں رکھے گئے ہیں کہ بوقتِ ضرورت ان کو لانچ کرکے ناگہانیت (Surprise) کے جنگی اصول (پرنسپل آف وار) سے استفادہ کیا جائے گا۔ معلوم ہو رہا ہے کہ پلان اے (A) میں پولیس کو استعمال کیا جائے گا اور پلان بی (B) میں آرمی کو آئین کے زیر دفعہ 245 کال کیا جائے گا۔ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ 27اکتوبر کی نوبت نہیں آئے گی۔ لیکن مین سٹریم کی دونوں سیاسی پارٹیوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں کہ کسی نہ کسی طرح عوام کو مشتعل کیا جائے، مار دھاڑ ہو، دوچار لاشیں گریں، میڈیا کی سونامی تخلیق ہو اور پلان اے فیل ہو جائے۔

جہاں تک پلان بی کا تعلق ہے تو یہ سویلین حکومت کے علاوہ فوج کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مولانا بار بار فوج کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہے۔ لیکن خود ان کو اور ان کے سہولت کاروں کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ فوج کی آئینی حدود میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر امن و امان کا مسئلہ زیادہ بگڑتا معلوم ہو اور معاملات ہاتھ سے نکلنے لگیں تو طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتاہے۔ اپوزیشن کا اکٹھا ہونا، پاکستان میں کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا۔لیکن زیڈ اے بھٹو کے دور میں اپوزیشن کے اجتماعی ردِ عمل کا جوابی ردعمل کیا ہوا تھا، یہ بھی سب کو معلوم ہے۔لیکن آج پاکستانی فوج وہ نہیں چاہے گی جو 5جولائی 1977ء میں ہوا تھا۔ لیکن فوج جس طرح آج سویلین قیادت کے ساتھ یک جان دو قالب ہو چکی ہے اس تناظر میں عسکری لیڈرشپ یہ بھی نہیں چاہے گی کہ اس کی سبکی یا جگ ہنسائی ہو اور ملک میں وہ کیفیت پیدا ہوجائے جو ملک دشمن قوتیں اور ایجنسیاں چاہتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے ابھی اس سلسلے میں فوجی قیادت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور اگر کی بھی ہو گی تو وہ منظر عام پر نہیں آئی(او رنہ ہی آنی چاہیے) لیکن فوج کو درج ذیل باتوں کی خبر تو ہے:

1۔ مولانا کے دھرنے اور آزادی مارچ کا پلان کس کے دماغ کی اختراع ہے؟

2۔اس احتجاجی تحریک کو کون فنانس کر رہا ہے؟

3۔اس رقم کا حجم کیا ہے، کس ذریعے / وسیلے سے آ رہی ہے اور کون اسے تقسیم کر رہا ہے؟

4۔دھرنے کی منزلِ مقصود کیا ہے؟

ان ساری تفصیلات کا علم فوج کو ہے۔ یہ بات بعید از وہم و گمان ہے کہ فوج کے متعلقہ ادارے اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے (اور بالضرور ہے) تو 6ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کو ٹھکانے لگانے اور اس غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے حکومت اور فوج کو کس لمحے او رکس دن کا انتظار ہے؟ فوج کے لئے انتہائی قدم اٹھانا کوئی ایسا مشکل نہیں۔ مشرقی اور مغربی بارڈرز پر نظر رکھتے ہوئے فوج کو چاہیے کہ وہ ملک کی آبادی کو اعتماد میں لے اور وہ تمام خفیہ راز طشت ازبام کرے جو اس دھرنے اور آزادی مارچ کے پشتبان روبکار لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نجانے ہمارے یہ ادارے (بالخصوص پاک فوج) کس دن کا انتظار کر رہی ہے!…… الیکٹرانک میڈیا کے کئی چینل فوج اور حکومت کی بات سن رہے ہیں ان کو فعال کیا جائے اور اگر فعال ہیں تو مزید فعال کیا جائے۔ وہ تمام چینل جو ملک میں گڑبڑ پھیلانے کا ایجنڈا اپنے سامنے رکھتے ہیں ان کو لگام دی جائے۔ کوئی جمہوری معاشرہ اپنے عوام کو اس قسم کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوتے دیکھ کر صم ً بکم ً ہو کر نہیں بیٹھ سکتا۔ وقت بہت کم ہے اور کم بہت زیادہ ہے۔

یہ تو ایک عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں کئی کالی بھیڑیں بھی ہیں لیکن نہ تو ان کے نام سامنے آتے ہیں اور نہ ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے۔ جن کے نام سامنے آ چکے ہیں ان کو اپنا دامن صاف کرنے کا موقع دینا چاہیے اور یہ انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ حکومت جُوں کی رفتار سے رینگ رہی ہے اور مسائل ہیں کہ بگٹٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے موضوع پر کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنانے کے عزائم ظاہر کئے جاتے ہیں، پرائس کنٹرول مجسٹریٹ مقرر کئے جانے کی ”افواہیں“ اڑائی جاتی ہیں۔ لیکن گراؤنڈ پر کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ طرزِ عمل حکومت کے خلاف فرسٹریشن کا باعث بنتا ہے، اس رجحان کو کب ”گرفتار“ (Arrest)کیا جائے گا؟

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

دنیا ہے تیری منتظرِ اے روزِ مکافات

وزیراعظم کی پارٹی انتخابی مہم کے دوران اس روزِ مکافات کا بڑا ڈھنڈورہ پیٹا کرتی تھی، لیکن اب اس کی صدائے بازگشت بالکل خاموش ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دو تین برسوں میں مہنگائی کی شرح کم ہونا ”شروع“ ہو جائے گی اور بس!……

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

میری نظر میں یہ دھرنا اور یہ آزادی مارچ ایک قسم کا فوج کے حق میں یا (اس کے خلاف) ایک ریفرنڈم ہے۔ فوج اگر اپنا بھرم اور اپنی شہرت برقرار رکھنی چاہتی ہے تو اسے یہ ریفرنڈم جیتنا ہو گا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین روزانہ کی بنیاد پر (27اکتوبر تک) ملاقاتیں اور کانفرنسیں ہونی چاہئیں۔ اپوزیشن کی یہ تحریک اگر ”مدرسہ ریفارمز“ کے خلاف ہے تو اس پر ٹاک شو منعقد ہونے چاہئیں۔ ایسا کرنے کے لئے فیڈرل اور صوبائی سطح پر اضافی میڈیا بجٹ کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ذرا اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر حکومت نے اپنی طرف سے ’لفافہ کلچر‘ ختم کر دیا ہے تو وہ کون سے ادارے اور ذرائع ہیں جو اس کلچر کو سپورٹ کر رہے ہیں؟…… حکومت کو یا تو وہی کلچر از سر نو شروع کر دینا چاہیے یا ان ”اداروں اور ذرائع“ کو ختم کر دینا چاہیے جو ’لفافہ کلچر‘ کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آج کی دنیا، میڈیا کی گرفت میں ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے اشتہار بند کرکے حکومت نے کتنے ارب بچائے ہیں اور کتنے ارب کا نقصان کر لیا ہے، اس کا حساب کتاب کیجئے۔ اور گزشتہ 14ماہ میں کیا کھویا اور کیا پایا اس کا حساب کرنے کا یہ لمحہ ضائع نہ کیجئے!

مزید : رائے /کالم