بزدارانہ طرز حکومت

بزدارانہ طرز حکومت
بزدارانہ طرز حکومت

  



مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں گورننس کے معاملات کبھی اتنے خراب رہے ہوں گے۔ پنجاب میں ایک عرصے تک انتظامی معاملات شائد مثالی تھے، میاں شہباز شریف اور چودھری پرویز الہیٰ کا انداز گورننس ایک جیسا نہ تھا مگر صوبے میں انتظامی معاملات مثالی تھے۔ پھر شائد اس صوبے کو کسی کی نظر لگ گئی۔ پنجاب کی بیوروکریسی اور پنجاب کے طرز حکومت کی اچھی مثالیں دی جاتی تھیں، مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں مگر اب یہ بد ترین طرز حکومت کی ہیں۔ پہلے ایڈمنسٹریٹو اور پولیس سروس دست و گریباں تھیں اب یہاں گورننس ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک وقت میں فیض احمد فیض نے عام آدمی کی طرف سے پولیس اور پٹوار کا رونا رویا تھا۔

ربا سچیا تْوں تے آکھیا سی

جا او بندیا جگ دا شاہ ایں توں

ساہڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں

ساہڈا نیب تے عالی جاہ ایں توں

ایس لارے تے ٹور کد پْچھیا ای

کیہہ ایس نمانے تے بیتیاں نیں

کدی سار وی لئی اْو رب سائیاں

تیرے شاہ نال جگ کیہہ کیتیاں نیں

کِتے دھونس دھونس پولیس سرکار دی اے

کِتے دھاندلی مال پٹوار دی اے

اینویں ہڈاں چے کلپے جان میری

جیویں پھاہی وِچہ کْونج کْرلاوندی اے

چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں

پولے کھاندیاں وار نئیں آوندی اے

مینوں شاہی نئیں چاہی دی رب میرے

میں تیعزتاں دا ٹکّر منگناں واں

مینوں تاہنگ نئیں محلاں ماڑیاں دی

میں تے جیویں دی نْکّر منگناں واں

میریاں منّیں تے تیریاں میں منّاں

تیری سونہہ جے اِک وی گل موڑاں

جے ایہہ منگ نئیں پْجدی تَیں ربّا

فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں

آج ایک عام آدمی تو تبدیلی کی ذلالت و خواری کی بھینٹ چڑھ ہی رہا تھا مگر اب سرکاری افسران اور اہلکار بھی رسوا ہو رہے ہیں۔ کسی دور میں افسروں کے پاس اوتھ کمشنر کے اختیارات ہوتے تھے، ان کی تصدیق کی ہوئی دستاویزات کو مصدقہ تسلیم کیا جاتا تھا اگرچہ تصدیق کے اختیارات آج بھی ان کو حاصل ہیں مگر ان کی توقیر تحریم تکریم زیرو ہو چکی ہے، انگریز دور میں تعلیم یافتہ اور کمیشنڈ افسروں کو بناء متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کے گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا اور اگر گرفتاری ضروری ہوتی تو ان کو ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی تھی۔آج اللہ تعالیٰ کا نیب، نیب کے ہاتھوں رسوا ہو رہا ہے، آج چھوٹے سے الزام پر بغیر تفتیش اور ملزم ثابت ہوئے بغیر ان کی آتما رول دی جاتی ہے، سرکاری افسر کی ذاتی طور پر کوئی حیثیت ہو نہ ہو مگر ریاست ان کو اپنی نمائندگی کا اختیار دیتی ہے۔ بنیادی طور پر سرکاری افسر حکومت کے نہیں ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، حکومتیں چند سال بعد تبدیل ہو جاتی ہیں مگر سرکاری افسر تب تک اپنے فرائض انجام دیتا ہے جب تک ریاستی قانون اس کی اجازت دیتے ہیں۔

حکومت کے بنائے گئے قوانین اور فیصلوں پر عمل درآمد کرانا بھی سرکاری افسروں کا فرض منصبی ہے اور اگر ان کا معاشرے میں کوئی مقام مرتبہ عزت و تکریم ہی نہیں ہو گی تو وہ حکومتی فیصلوں پر خاک عمل کرائے گا، سرکاری افسر چو نکہ ریاست کے ملازم ہوتے ہیں یا پبلک سرونٹ لہذٰا ان کو عزت و تکریم دینا حکومت کا فرض عین ہے مگر ملک کے طول و عرض میں سرکاری ملازمین کی حیثیت اب جو ہو چکی ہے وہ ڈھکی چھپی نہیں، یہاں سلیمان غنی جیسے محنتی افسروں کو پیرانہ سالی میں کسی ثبوت کے بغیر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ فواد حسن فواد،احد چیمہ، عثمان انور جیسے افسروں سے کیا برآمد ہوا؟ سالوں سے ان کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ بہت ہو چکا احتساب کا ڈرامہ۔ معاف کیجئے گا اب تو یہاں عدالتیں بھی خالہ جی کی ہیں۔ جس کا ایک ثبوت گزشتہ دنوں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دیکھنے میں آیا، جب محکمہ صحت کے دو ملازمین کو ہتھکڑی لگا کر ضلعی بار کے وکلاء کی ”عدالت“ میں پیش کیا گیا، ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتا ل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آنے والے وکلاء کی شان میں گستاخی کر بیٹھے۔ ضلعی ہسپتال کے ہیومن ریسورس افسر عدیل اور آئی ٹی آفیسر بشارت سے ان کی تو تو میں میں ہو گئی، وکلا نے جا کر بار کونسل میں دہائی دی، بار نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو شکایت کی، ڈپٹی کمشنر ضلع کا حکمران اور ڈی پی او پولیس کا ضلعی سربراہ، دونوں کا کام سرکاری ملازمین کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے مگر ان دونوں اعلیٰ افسران نے بھی اپنے عہدوں کے منافی کام کیا۔ اگر یہ دونوں افسر سرکاری ملازمین کی عزت وقار کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو ان کو عہدے پر براجمان رہنے کا کوئی حق نہیں۔

صلح صفائی اور وکلاء کی ہڑتال سے بچنے کیلئے اعلیٰ ضلعی افسروں کی طرف سے دونوں کو کسی تیسری جگہ لے جانے میں کوئی ہرج نہ تھا لیکن ان کو ہتھکڑی لگا کر وکلا کی عدالت میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ کس قانون اور ضابطہ نے ان ضلعی افسروں کو خود عدالت لگانے کی اجازت دی اور کس جرم میں ان تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین کو ہتھکڑی لگائی کیا وہ کوئی اخلاقی یا عادی مجرم تھے۔

ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی ہدایت پر بھاری پولیس نفری کیساتھ ہتھکڑی لگا کر ان کو وکلاء کی عدالت میں لایا گیا ان کو مجرموں کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونے پر مجبور کیا گیا، معافی نامہ بھی ان کو رٹایا گیا، ایک افسر نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی تو دوسرے کو بھی ساتھ کھڑے ایک پولیس انسپکٹر نے یہی الفاظ بولنے پر مجبور کیا، دوسرے افسر کے منہ سے نکل گیا کہ ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں نہ ہم زیادتی کرنا چاہتے تھے تو ایک وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ تم زیادتی کر بھی نہیں سکتے۔

تسلیم کہ ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور ان کے لوحقین یا تیمارداروں کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا، لیکن ایسا واقعہ شائد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہو گا کہ وہ دو پولیس افسر جن کا کام شہریوں کی جان مال عزت کی حفاظت کرنا ہے وہ دو سرکاری ملازمین کو اپنے ہی فیصلہ کے تحت مجرم بنا کر وکیلوں کی عدالت میں لے آئے، انتہائی توہین آمیز انداز میں، اس کا اختیار نہ تو ڈپٹی کمشنر کے پاس تھا نہ ڈی پی او کے پاس اور ہتھکڑی لگانے کا تو کوئی اخلاقی قانونی جواز بنتا ہی نہ تھا، اور جس تحقیر آمیز انداز سے معافی منگوائی گئی وہ بھی انتہائی غیر انسانی تھا۔اس واقعہ پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے تو نوٹس لے کر کچھ بھی نہیں کرنا۔ شاید چیف جسٹس آف پاکستان ہی کچھ کر سکیں۔ ورنہ ہر زور آور جتھہ دباؤ ڈال کر سرکاری ملازمین کو بے عزت کرتا رہے گا اور اگر سرکاری ملازمین کی رہی سہی عزت و وقار ختم ہو گیا تو پھر کوئی حکومت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے گی نہ ملک چل سکے گا۔ ایسی بزدارانہ طرز حکومت سے اللہ کی پناہ۔

مزید : رائے /کالم