پولیس مورال کو دھچکے،مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ بھی جاری

پولیس مورال کو دھچکے،مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ بھی جاری
پولیس مورال کو دھچکے،مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ بھی جاری

  



حال ہی میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں حراست کے دوران چند ایک افراد کی ہلاکتوں کے باعث محکمے کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر کئی افسران کے تبادلوں کی خبریں بھی سرگرم رہیں اس سے پولیس کے مورال کو یقینا دھچکا ہی نہیں بیوروکریسی کے ماتحت کرنے کی خبروں سے زبر دست جھٹکا بھی لگا تاہم لاہور پولیس کی جانب سے مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے اسے فرق نہیں پڑا۔سی سی پی او لاہور بی اے ناصر نے چارج سنبھالا تو قومی الیکشن سمیت دو بار محرم الحرام عیدالضحی، عیدالفطر، عرس داتا حضور، ربیع الاول سمیت آئے روزغیرملکی انتہائی وی وی آئی پی شخصیات کے دورے اور سب سے بڑھ کر سری لنکن ٹی ٹونٹی سیریز جیسے اہم ایونٹ ان کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہ تھے۔لیکن انہوں نے ہرموقع پر پولیس کے مورال کو انتہائی بلندیوں تک لے جانے اپنی ٹیم اور سب سے بڑھ کر آئی جی پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو شاباش دلوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہر موقع پروزیر اعلی پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس کو لاہور پولیس کی معیاری کا میابی،نمایاں اور مثالی کوآرڈی نیشن کی تعریف کرتے ہوئے مبارکباد دینا پڑی۔ آج بھی کوئی سنگل کیس لاہور پولیس کے لیے چیلنج کی حیثیت نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کیس میں لاہور پولیس کو عدالت عظمی یاعدالت عالیہ نے طلب کر رکھا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور پولیس اس وقت تاریخی کامیابیوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور عالمی ادارہوں نے لاہور میں جرائم کی شرح میں کمی کی صاف لفظوں میں واضح تصدیق بھی کی ہے۔

قبل ازیں لاہور میں پولیس کی کامیابیوں کا اتنا شاندار سفر کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ایسا کیوں نہ ہو سکا، کیا پہلے قابل،محنتی،دیانت دار یا محب الوطن آفیسر نہیں تھے۔ہمارے پاس کسی کو فرشتہ صفت آفیسر قرار دینے کے لئے کوئی پیمانہ تو ہرگز موجود نہیں ہے البتہ اتنا ضرور کہیں گے جوتجر بہ یا پیشہ ورانہ مہارت بی اے ناصر نے ایک لمبے عرصے تک بیرون ملک کے دوران یو این او کمیشن سے حاصل کی ہیں یا جس قدر انھیں پولسینگ کی تھیوری پر عبور ہے، میری ناقص رائے کے مطابق یہ تجربہ پنجاب پولیس کے کسی اور آفیسر کے پاس نہیں ہے۔ ان کے تجربے کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لاہور میں کام کرنے والے دونوں پولیس آفیسران ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحیدکا شمار ان کے سٹوڈنٹ میں ہوتا ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کی جب دوبارہ بطور آئی جی پو لیس تعیناتی ہوئی اس دوران میڈیا کے کچھ نادان دوستوں نے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی کہ آئی جی پولیس اور سی سی پی اوکے درمیان فاصلے موجود ہیں جو کہ قطعی اور مکمل طور پر غلط بات تھی اور وہ بے بنیاد ثابت بھی ہوچکی ہے،

ایسے ہی نادان دانشوروں نے پہلے سی سی پی او اور بعد ازاں آئی جی پولیس کے تبدیل ہونے کو بھی قوی امکان قرار دیا جو کہ انہیں منہ کی کھانا پڑی، حقیقت یہ ہے کہ آئی جی پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اور سی سی پی او بی اے ناصر منفرد اور عہدساز شخصیات کے نام ہیں اور دونوں افسران کے درمیان محکمہ کے علاوہ بڑی ذاتی تعلق داری بھی موجود ہے۔عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کرکیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز پنجاب اور بی اے ناصر لاہور کے لئے اپنا دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور یہ رخصت کے دنوں میں بھی آرام نہیں کرتے، حساس معاملات اور اہم مواقعوں پر یہ دونوں افسران لیٹ نائٹ اور علی الاصبح بھی کام کی نگرانی کرتے پائے جاتے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان نے جب سے چارج سنبھالا ہے دلجمعی، محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی انتہا اور ریکارڈ قائم کردیاہے۔حقیقت میں یہ بھی ایک مثالی پو لیس آفیسر ہیں جہاں بھی گئے اپنی محنت ، لگن اور کامیابی کی یادیں ہی چھوڑ جاتے ہیں اپنے سینئر آفیسر کو جتنی ”عزت“ یہ دیتے ہیں میں نے دیگر آفیسران میں خوبی کا یہ جذبہ بڑا کم دیکھا ہے مگریہ سنیئر سے جنوں کی حد تک محبت کرتے ہیں۔

آپریشنل سربراہ کی زمہ داریاں نظم و ضبط عوام کی جان ومال اور قانون کے تقاضوں کی درست سمت میں عکاسی پیش کرناہے۔ آپریشنل ذمہ داریاں نبھانے کا ڈھنگ اشفاق احمد خان سے بہتر کو ئی نہیں جانتا۔ میں نے اپنی پچیس سالہ صحافتی زندگی میں اس سیٹ پر تعینات جو خود کو بڑے تمن خان آفیسر قرار دیتے رہے ماسوائے پروٹوکول کسی کو اتنی محنت کرتے نہیں دیکھا اشفاق احمد خان جب لاہور تشریف لائے تو ان کی رنگت سفید اور چہرے پر لالیاں نمایاں تھیں جو کہ مسلسل کام، کام، تھکاوٹ اور نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ ماند پڑ گئی ہیں یوم عاشور ہو یا ٹی ٹونٹی سیریز، شاہی جوڑے یا صدر مملکت کی لاہور میں آمد، داتا حضور کا عرس ہویا حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا جلوس ہر موقع پر انہیں فورسزکے درمیان چل کر کمانڈ کرتے پایا گیا ہے۔ملک کا قانون اس کے معاشرے کی آنکھ کان اور ناک ہوتے ہیں اسی طرح پولیس میں شعبہ انوسٹی گیشن کو قانون کی روح قرار دیا جاتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ انویسٹیگیشن لاہور پولیس کے سربراہ ڈاکٹر انعام وحید نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سسٹم کی روح ہیں ان کی ایمانداری اور محب الوطنی پر کسی کو شک نہیں وہ بھی ایک کامیاب پولیس آفیسر کے طور پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، ڈی آئی جی آپریشن کی طرح یہ بھی سی سی پی او لاہور کے انتہائی طاقتور بازو تصور کیے جاتے ہیں انوسٹی گیشن پو لیس نے اب تک ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی محنت اور لگن کی بدولت شہر میں کوئی سنگل کیس ایسا نہیں ہے جو چیلنج کی حیثیت رکھتا ہو،آج کوئی سنگل کیس بھی عدالت عظمی اور عدالت عالیہ میں زیر التوا نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کی خوبصورتی،تہذیب اور شعور کا اندازہ اس کی ٹریفک کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے لاہور میں آئے روز احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث جس طرح شہریوں کو ٹریفک کے مسائل کا سامنا رہتا ہے اس سے نبرد آزما ہونا چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کا ہی کام ہے کہ وہ ٹریفک کوبڑی کامیابی سے رواں دواں رکھے ہوئے ہیں اب تک انہوں نے خود کو سب سے کامیاب ٹریفک پولیس آفیسر کے طور پر منوایا ہے اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ان کی کارکردگی بھی دیگر افسران سے کم نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم