نیب بڑے افسروں کوملزم نہیں بناتا،اس کیس میں بدنیتی تونیب کی بھی نظرآرہی ہے،سپریم کورٹ کے ریلوے سٹاف یونیفارم خریدنے میں خوردبردسے متعلق کیس میں ریمارکس

نیب بڑے افسروں کوملزم نہیں بناتا،اس کیس میں بدنیتی تونیب کی بھی نظرآرہی ...
نیب بڑے افسروں کوملزم نہیں بناتا،اس کیس میں بدنیتی تونیب کی بھی نظرآرہی ہے،سپریم کورٹ کے ریلوے سٹاف یونیفارم خریدنے میں خوردبردسے متعلق کیس میں ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے میں سٹاف یونیفارم خریدنے میں خوردبردسے متعلق کیس میں ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن افسر عابدعلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کردی،عدالت نے ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن افسرعابدعلی کوبری کردیا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب بڑے افسروں کوملزم نہیں بناتا،بڑے افسران کی رضامندی کے بغیرکچھ بھی نہیں ہوسکتا،نیب نے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کوکیوں ملوث نہیں کیا؟ اس کیس میں بدنیتی تونیب کی بھی نظرآرہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکستان ریلوے میں سٹاف یونیفارم خریدنے میں خوردبردسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب بڑے افسروں کوملزم نہیں بناتا،بڑے افسران کی رضامندی کے بغیرکچھ بھی نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ نیب نے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کوکیوں ملوث نہیں کیا؟اس کیس میں بدنیتی تونیب کی بھی نظرآرہی ہے،ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن افسربہتری کیلئے کام کرتے ہوئے خودپھنس گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نے ایک سال میں 2 بارٹرانزیکشنزکرائیں،ملزم نے یونیفارم کی مدمیں 12 کروڑروپے کی خوردبردکی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملزم سے متعلق نیب کے پاس واضح ثبوت موجودنہیں،2020 میں ریفرنس بنا،ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 10 سال سزاسنائی تھی،سپریم کورٹ نے ریلوے میں سٹاف یونیفارم خریدنے میں خوردبردسے متعلق کیس میں ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن افسرعابدعلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کردی،عدالت نے ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن افسر عابدعلی کوبری کردیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد