راستوں کی بندش آمرانہ ذہنیت،مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کیا گیا تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے:اسفندیارولی خان

راستوں کی بندش آمرانہ ذہنیت،مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کیا گیا تو حالات ...
راستوں کی بندش آمرانہ ذہنیت،مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کیا گیا تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے:اسفندیارولی خان

  



پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والی شاہراہ پر کنٹینرز لگانا آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،جمہوری سوچ رکھنے والے کسی بھی احتجاج کو روکنے کیلئے تشدد یا راستوں کی بندش کا راستہ اختیار نہیں کرتے،احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے،اگر مولانافضل الرحمان یا دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت نے آزادی مارچ کے خوف سے اسلام آباد سمیت پورے ملک میں راستے بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے،اٹک پل کو بند کرنے کیلئے کنٹینرز پہنچائے جاچکے ہیں،سلیکٹڈ حکمران اپنی کرسی جاتے دیکھ کر غیرجمہوری اقدامات پر اترآئے ہیں،جو بھی ہو کپتان کا گھر بھیجنا اٹل فیصلہ ہے جس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی میں جے یو آئی کارکنان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جلد سے جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کسی بھی اقدام اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچ لے،اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیج پرہیں اورکسی بھی فیصلے سےپہلے تمام رہنماؤں کواعتماد میں لینےکےفیصلےسےآزادی مارچ مزیدمضبوط ہوگا،  کپتان نے اپنی پہلی تقریر میں اپوزیشن کو احتجاج کیلئے کنٹینر دینے کا وعدہ کیا،تھا اب وقت آگیا ہے کہ کپتان اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کرے۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے انصار الاسلام کے ڈنڈوں سے پریشان حکومت ہر مسئلے کو بزور ڈنڈا حل کرنا چاہتی ہے،خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز پر لاٹھیاں برسائی گئیں،تاجروں پر اسلام آباد میں ڈنڈے برسائے گئے ،اگر یہی رویہ سیاسی کارکنان کے ساتھ اپنایا گیا تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ کیونکہ سیاسی کارکنان بھی پھر حکومتی وار کا جواب دیں گے اور اُن حالات کی ذمہ داری پھر حکومت پر عائد ہوگی۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور