آزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے خیبر پختونخوا پولیس کی تیاریاں شروع ،خیر آباد کے مقام پر اٹک پل کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیئے گئے

 آزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے خیبر پختونخوا پولیس کی تیاریاں شروع ،خیر آباد ...
 آزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے خیبر پختونخوا پولیس کی تیاریاں شروع ،خیر آباد کے مقام پر اٹک پل کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیئے گئے

  



نوشہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)نوشہرہ  جمعیت علما  اسلام ف کی حکومت کے خلاف 27اکتوبر کو آزادی مارچ اوراسلام آباد دھرنے کے اعلان کے بعد صوبائی حکومت کی واضح ھدایات پرآزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے کے پی پولیس نے تیاریاں شروع کر لی ہے،خیر آباد کے مقام پر اٹک پل کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیئے گئے،خیبر پختون خوا کو پنجاب سے ملانے والا گیٹ وے اٹک پل پر مزید کنٹینرز رکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

نجی ٹی وی’’جی این این‘‘ کے مطابق آزادی مارچ  سے نمٹنے کے لئے کے پی پولیس نے تیاریاں شروع کر لی ہے، خیر آباد کے مقام پر اٹک پل کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ دیئے گئے، خیبر پختون خوا کو پنجاب سے ملانے والا گیٹ وے اٹک پل پر مزید کنٹینرز رکھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔آزادی مارچ کے دوران جی ٹی روڈ کو خیر آباد کے مقام پر بند کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب گورنمٹٹ ہائیر سیکنڈری سکول خیر آباد میں پولیس کی نفری پڑاؤ ڈالے گی، اس سلسلے میں تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔آزادی مارچ کے شرکاء سے نمٹنے کے لئے تقریبا 1 ہزار پولیس اہلکاروں کی نفری خیرآباد اٹک پل پر تعینات کی جائے گی۔ ڈی پی او نوشہرہ کپٹن ر  منصور امان نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول خیرآباد ار ایچ سی کا دورہ بھی کیا ۔ دوسری جانب پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی وجہ سے نہ صرف سکول میں بچوں کی پڑھائی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ آرایچ سی میں آئے ہوئے مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق رشکی انٹرچینچ ،کرنل شیرخان،اور خیبرآباد اٹک پل کو بھی وزارت داخلہ کے حکم نامہ کے بعد مکمل طور پر بند کردیاجائے گا۔

دوسری طرف جمیعت علماء  اسلام ف کے جنرل سیکرٹری مفتی حاکم علی خان نے کہا کہ آزادی مارچ کے قافلے 31 تاریخ کو اسلام آباد پہنچے گی، ہم پرامن لوگ ہیں اور پر امن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، اگر  ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی یاہمارے اوپر تشدد کیا گیا تو پھر ہم بھی بھر پور جواب دینے کے لئے تیار ہونگے۔انہوں نے کہا کہ مدارس دینہ کے خلاف اصلاحات کے نام پر کریک ڈاؤن کیاجارہا ہے، مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ  سلیکٹڈ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگئی۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور