مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی

مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی
مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی

  



سیالکوٹ( صباح نیوز)مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی ہوکر بارہ ہزار ایک سو 67کیوسک رہ جانے کی وجہ سے ہیڈمرالہ کے مقام پر دریا سے نکلنے والی اہم نہر مرالہ راوی لنک مکمل بند کردی گئی اور دوسری نہر اپرچناب میں پانی انتہائی کم ہوکر چار ہزار سات سو کیوسک رہ گیا جس سے لاکھوں ایکٹر رقبہ پر کاشت شدہ فصلوں کو پانی کمی کی وجہ سے نقصان پہنچا جہاں کسان وکاشتکار ٹیوب ویلوں کا پانی استعمال کرنے لگے۔

1960ء میں پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں ہونے والے سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت دریائے چناب میں ہر لمحہ55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہونے کے باوجود بھارت نے دریائے چناب کا پانی مقبوضہ کشمیر میں تعمیر شدہ بگلیہارڈیم پرروک لیا تھا جس کی وجہ سے دریائے چناب کا ستانوے فیصد حصہ خشک ہوگیااور ہیڈمرالہ کے مقام سے نکلنے والی دونہروں اپر چناب اور مرالہ راوی لنک میں پانی کی کمی کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا ،اور پانی کمی کی وجہ سے ایک نہر مرالہ راوی لنک مکمل بنداور دوسری نہراپرچناب میں پانی کا بہائو انتہائی کم کرکے چار ہزار سات سو کیوسک کردیا گیا ۔

ترجمان ایری گیشن کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے آکر دریائے چناب میں شامل ہونے والے دودیگر دریاؤں مناور توی کے ایک ہزار ایک سو سات کیوسک پانی اور دریائے جموں توی کے ایک ہزار سات سو باون کیوسک پانی کے شامل ہونے سے دریائے چناب کے ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی مجموعی آمد پندرہ ہزار چھبیس کیوسک رہی تاہم دریائے چناب کے اپنے پانی کی آمد بارہ ہزار ایک سو67کیوسک رہی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /سیالکوٹ