مثنوی مولانارومی

مثنوی مولانارومی
مثنوی مولانارومی

  

صوفیائے کرام نے تصوف کی تعریف یوں کی ہے کے علم، ادراک، ایمان اور دریافت کے مجموعے کو تصوف کہتے ہیں۔علم یہ ہوا کہ خدا موجود ہے ادراک یہ ہے کے اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اسس ؎ہستی کوسب سے بر تر واکبر سمجھنا اور اس پر اعتماد اور توکل رکھنے کو ایمان کہتے ہیں اور اسے عظیم وہرچیز پر مقدم و بلندو بالا سمجھنا اور پھر دنیاوی چیزوں کو تج کر اس کی حقیقت کو حرز جاں بنانا،اس کے اصراو رموز کو سمجھ لینا دریافت ٹھہری اس کو اگر اجمالاًاور عام فہم انداز میں کہیں تو کچھ یوں ہوگاکہ اللہ کی محبت میں دلوں کو صاف وشفاف کر کے اس کی محبت اورعظمت کو ہر چیز پر غالب سمجھنا اور دنیاوی چیزوں سے اجتناب کر کے صرف اللہ کی محبت اس کی حقیقت اور اس کی عبادت اور قدرت کو ہر شے پر مقدم سمجھنا تصوف کہلاتا ہے اور یہی صوفیائے کرام کی زندگی کے ہر سانس کا محور و مرکز رہا ہے  اور یہی فکر  ان پر طاری رہی ہے۔ڈھیلے ڈھالے موٹے کپڑے اور منکوں کی مالاپہننے والوں کولوگ صوفی کہتے ہیں مگر صوفی بننے کے لیے روحانی اور جسمانی طویل جدوجہد درکار ہوتی ہے جان،مال،اولاد،مرتبہ اور جاہ و حشمت سب کو اس عظیم کبریا کی محبت کے سامنے ہیچ سمجھنے والے ہی صوفی ہوتے ہیں۔

مولانارومی جن کا پورا نام جلالدین رومی ہے ایک جلیل القدر عالم تھے تاہم ابھی تک وہ حکمت اور تزکیہ نفس کی طرف مائل نہیں ہوئے تھے ایک واقعہ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرنے کا موجب بناہوا یوں کہ حضرت شمس تبریز ایران تبریزسے مولانا رومی کو ملنے کے لیے قسطنطنیہ آئے مولانا رومی اپنے مکتب میں تشریف فرما تھے جہاں بڑی تعداد میں کتابیں موجود تھیں حضرت شمس تبریز نے ان کتابوں کو اٹھا کر پانی میں پھینک دیا اس پر مولانا رومی نے رنج والم کے ساتھ ان سے کہا کہ حضر ت آپ نے یہ کیا کیا میری ساری زندگی کی محنت آپ نے پانی میں پھینک کر ضائع کر دی حضرت شمس تبریز مسکرائے اور انہوں نے وہی کتابیں صاف کر کے مولانا رومی کو واپس کرنا شروع کر دیں کتابیں بلکل اپنی اصل حالت میں تھیں اور انھیں پانی نے چھوا تک نہیں تھا یہ کرامت دیکھ کر مولانا رومی اسی لمحے حضرت شمس تبریز کے سامنے دوزانوں ہو کر باادب بیٹھ گے اور انہیں اپنا پیر ومرشد مان لیا اور اس کے بعد انہوں نے حکمت اور تزکیہ نفس کی طرف رجوع کیا اس موقعہ پر مولانا رومی نے فارسی کا یہ شعر کہا۔

  ٌ مولوی ہرگزنہ شد مولائے روم  ٌ 

 تاغلامِ شمس تبریزی نہ شد 

(مفہوم: مولوی رومی اس وقت تک مولانا روم نہیں بن سکتا تھا جب تک وہ شمس تبریزی کا غلام نہ بن جائے)

حضرت شمس تبریز وہ اولیاء اللہ ہیں جنہوں نے ایک موقعہ پر جبکہ انہیں بھوک لگی ہوئی تھی اور وہ گوشت کا ایک ٹکڑا بھوننا چاہتے تھے اور انہوں نے ایک اشارے پر سورج کو نیچے بلا لیا تھا ان کی اس کرامت کے بعد ان کا نام شمس تبریزی پڑ گیا۔

حضرت شمس تبریزی کے حلقہ ارادت میں شامل ہونے کے بعد مولانا جلال الدین رومی نے اپنی مثنوی تخلیق کی جو دنیائے تصوف میں ایک بلند وبالا مقام کی حامل ہے یوں تو امام غزالی کی احیاء العلوم،داتا گنج بخش علی ہجویری کی کشف المحجوب اور فریدالدین عطار کی تذکرۃ اولیاء اور بہاوالدین ذکریا کے پیر ومرشد کی تصنیف عوارف المعارف بھی عاشقانِ تصوف کے لیے روحانی خزانے سے مالامال ہیں لیکن مولانا روم کی مثنوی اپنی جگہ ایک الگ اور بلند پایہ تصنیف ہے جس کے بارے میں فارسی کے ایک شعر میں یوں تعریف کی گئی ہے۔

 ٌ مثنوی و معنوی و مولوی ٌ  

 ہست  قرآں در زبانِ پہلوی 

(مفہوم: مولانا روم کی مثنوی فارسی زبان میں قرآن ہے)

حضرت شمس تبریزی کے حلقہ ارادت میں آنے کے بعد مولانا رومی یکسر بدل گئے اور انہوں نے خالقِ حقیقی کی واحدانیت،اسرار ورموز اور اس کی حمد و ثناء کو حرزِ جاں بنا لیا اور خالقِ کائنات کے عشق میں ڈوب کر اپنی مثنوی میں قصے اور کہانیوں کی شکل میں رحمنٰ ورحیم کی ذات پاک کی عظمت و برتری کو اجاگر کیااوراللہ رب العزت کے ساتھ روح کے تعلق کا مثنوی میں یو ں اظہار کیا۔

 ٌ بشنو از نے چوں حکایت می کند ٌ

وزجدائی ہا شکایت می کند 

(مفہوم: جب بانسری بجتی ہے تو سمجھاجاتا ہے کہ ساز بج رہا ہے جبکہ بانسری کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ مجھے بانسوں بھرے جنگل سے کیوں جدا کیا)  بعینہ ہم زندگی دنیا کی دوسری مصروفیات،مادی ضروریا ت،دنیوی خواہشات اور رنگینیوں میں بسر کر رہے ہوتے ہیں جبکہ ہماری روح کو بھی یہی شکوہ ہوتا ہے کہ مجھے لوح محفوظ سے کیوں الگ کر دیا گیا جہاں میں اللہ کریم کی حمدوثناء میں مصروف تھی۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مثنوی مولانا جلال الدین رومی کا مطالعہ کرنے والے،اس کی روح کو سمجھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے علماء،فضلاء اور دانش وروں کی صف میں شمار ہوتے ہیں بلامبالغہ مثنوی مولانا روم ایک عظیم تصنیف ہے جو رہتی دنیا تک خداوندِکریم کی شانِ کبریائی، واحدانیت اور عظمتوں کی امین رہے گی۔

مزید :

رائے -کالم -