عمران خان، نواز شریف کی محبت کا دم بھر سکتے ہیں 

عمران خان، نواز شریف کی محبت کا دم بھر سکتے ہیں 
عمران خان، نواز شریف کی محبت کا دم بھر سکتے ہیں 

  

دہلی میں 1857ء کے دوران وہ افراتفری پھیلی کہ غالب کے خطوط میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ یہ شعر بھی اسی پس منظر میں لکھا گیا ہے۔

روز اس شہر میں اک حکم  نیا ہوتا ہے

 کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے

 مسلمانانِ بر صغیر نے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد مملکت خداد پاکستان تو حاصل کیا لیکن آج بھی ہماری سیاسی کشمکش غالب کے لکھے مذکورہ بالا شعر سی ہے حکمرانوں کی جانب سے روز کوئی ’شگوفہ‘ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس وقت ہرکوئی ایک ہیجانی کیفیت کا شکار اور ملک بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے عام آدمی خوف اور وسوسوں کے گرداب میں ہے وہ سمجھ ہی نہیں پا رہا کیا ہونے والا ہے کیا نہیں اس کے لئے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے مہنگائی نے تمام ریکارڈ مات کر دئیے ہیں اور حکمران نہ جانے کس ملکی بہتری کی بات کررہے ہیں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان جب سے اقتدار میں ہیں تب سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے‘ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ سب کو جیلوں میں ڈالیں گے لیکن کبھی انہوں نے عوام کی ڈھارس نہیں بندھائی عوامی ریلیف کے لئے اقدامات نہیں کئے شائد عمران خان کے لئے ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا وزیر اعظم بننا لیکن وزیر اعظم کے فرائض کیا ہیں اور اسکی ذمہ داریوں میں کیا شامل ہے انہیں اس کا علم نہیں ہماری فوج ہمارا فخر ہے فوج ہمیں مقدم ہے لیکن نواز شریف کی سوشل میڈیا پہ کی گئی تقریر وزیر اعظم صاحب نے سب کوبتادی اور جسے اسکا پتہ نہیں تھا وہ بھی جان گیا گویا وزیر اعظم صاحب سیاسی بصیرت سے عاری ہیں  

وزیر اعظم ٹائیگر فورس کنونشن میں ٹائیگر فورس سے خطاب کی بجائے نواز شریف کو پکارتے اور للکارتے رہے جیسے ان کا مقصد ملکی مسائل کا حل نہیں بلکہ نواز شریف ہے حالانکہ نواز شریف کو عدالتوں پر چھوڑکر جناب وزیر اعظم کو ملک میں بڑھتی بے روزگاری۔مہنگائی۔ لاقانونیت پہ توجہ دینی چاہئے وزیر اعظم کا مسند ان باتوں کو زیبا نہیں جو باتیں جناب عمران خان جوش خطابت میں کر جاتے ہیں شائد انہیں سنگینئی حالات کا علم نہیں وزیر اعظم صاحب نے فرمایا نئے پاکستان کے بعد اب نیا عمران خان ہوگا تو عالیجاہ نئے پاکستان میں تو عوام کے لئے دو قت کی روٹی کے لالے پڑ گئے عوام نے نیا پاکستان تو دیکھ لیااب نیا عمران خان بھی دیکھتے ہیں۔ 

ادھر پاکستانی سیاست کے اہم کردار شیخ رشید صاحب نے مسلم لیگ ن پر پابندی کی دھمکی تک دے دی ہے شیخ صاحب کا یہ کمال ہے کہ وہ تقریبا ہر حکومتی جماعت کے پہلو نشیں رہے ہیں یہ وہی شیخ صاحب ہیں جونواز شریف دور میں وزارتوں سے حظ اٹھا چکے ہیں۔ مشرف صاحب کے عہد میں بھی اقتدار سے فیض یاب ہوچکے ہیں اور اب پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی وزارت سے استفادہ کررہے ہیں ۔ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف’جلا دو۔ مرو۔ مارو‘ عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ یہ کلام کس کا تھا اور آج یہ صاحب ملک وقوم کے بہی خواہ ہیں ان دنوں ان کا شمار عمرانی سلطنت کے بہی خواہوں میں ہوتا ہے جو کبھی جناب عمران خان کو فرماتے تھے تم ہو کون؟ ایک معمولی کپتان۔ اور جناب عمران خان انہیں اپنا چپراسی رکھنے کے روادار نہ تھے اور آج جناب عمران خان اور جنابِ شیخ ایک دوسرے پہ صدقے واری جاتے ہیں۔ بابر اعوان کو چور کہا گیا ا ور انہیں ہی اپنا وکیل بھی رکھ لیا۔پرویز الہی صاحب کو سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا آج وہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہیں توکیا خبر کل جناب عمران خان۔میاں نواز شریف صاحب کی محبت کا دم بھرتے بھی دکھائی دیں کیونکہ سیاست میں وزیراعظم صاحب نے واضح طور پر یو ٹرن کو متعارف کروایا اور اس کو ایک کامیاب رہنما کے لیے ضروری قرار دیا۔عمران خان کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا لہذا انہوں نے ایسے ایسے یوٹرنز لئے کہ لوگ حیران رہ گئے۔

عمران خان صاحب نے الیکشن سے پہلے عوام سے اپنے خطابات میں جو بلند و بانگ دعوے کئے اور اعلانات فرمائے پھر ان سے مکر بھی گئے 50 لاکھ گھر۔200 ارب منہ پر مارنا۔یک کروڑ نوکریاں انتہائی کم قیمت یونٹ بجلی 45 روپے لٹر پیٹرول۔باہر سے لوگ کام ڈھونڈنے پاکستان آئیں گے۔ بھیک مانگنے پرخود کشی۔ باہر پڑا سارا پیسہ واپس لائیں گے۔کشمیر آزاد کرائیں گے۔غریب کو روزگار فراہم کریں گے۔ کاروبار وافر اور علاج فری ہوں گے۔ جمعہ کو چھٹی ہوگی۔ایمنسٹی اسیکم نہیں دوں گا۔ نواز شریف کے استعفے تک شادی نہیں کروں گا۔پروٹوکول نہیں لوں گا۔سائیکل پر وزیر اعظم ہاؤس جاؤنگا۔وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی بناؤں گا۔گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چڑھاؤں گا۔پیٹرولیم اور گیس کی قیمتیں نہیں بڑھاؤں گا۔ٹیکس نہیں لگاوں گا اور نہ جانے کیا کیا۔عمران خان صاحب کے ناقدین یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ لندن کے مئیرکی الیکشن کمپین میں حصہ لیتے خان صاحب نے یہودی زیک گولڈ سمتھ کو لندن کی مسجد میں اپنا بھائی کہا اور اس کے لیے ووٹ مانگے حالانکہ اس کے مقابلے میں ایک مسلمان صادق خان الیکشن میں کھڑا تھا اور پھر عمران خان کی مخالفت کے باوجود جیت بھی گیا۔

صادق خان بس ڈرائیور کا بیٹا ہے جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے جبکہ زیک گولڈ سمتھ ارب پتی جیمز گولڈ سمتھ کا صاحبزادہ جمائما کا بھائی اسی لئے ان ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف عمران خان مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب یہودیوں کے مددگار بھی ہیں یہ تو خان اعظم کے ناقدین کے شکوے ہیں ہمیں جناب وزیر اعظم سے یہ گذارش کرنی ہے کہ کئی روز سے اسلام آباد میں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ اپنے حقوق کے لئے دھرنا دینے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز پر پولیس تشدد کی بجائے ان کے مطالبات پورے کئے جائیں کہ ریاست مدینہ میں تو حقدار کو اسکا حق ملتا ہے حق تلفی نہیں کی جاتی ۔

مزید :

رائے -کالم -