اپوزیشن پر سختی یا عوام کو ریلیف: فیصلہ کپتان کا

اپوزیشن پر سختی یا عوام کو ریلیف: فیصلہ کپتان کا
اپوزیشن پر سختی یا عوام کو ریلیف: فیصلہ کپتان کا

  

اے میرے پیارے کپتان اپوزیشن پر سختیوں کا کوئی فائدہ نہیں، اُلٹا اپنا نقصان کرنے کے مترادف ہے، سختی کرنی ہی ہے تو اس طبقے پر کریں جس نے گزشتہ دو برسوں سے مہنگائی کا عذاب نازل کر رکھا ہے جس نے مہنگائی کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لئے ہیں اور حکومت و عوام کو زچ کر کے رکھ دیا ہے۔ کپتان آئے روز یہ کہتے تو ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کر کے مال بٹورنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے آج تک کسی کو پکڑا نہیں ہے۔ ایک چینی چور ہی ان کے قابو میں آئے تھے، ان کے خلاف مضبوط تحقیقاتی رپورٹ بھی بن گئی تھی، مگر کپتان ان کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ بے خوفی سے مہنگی چینی بیچ رہے ہیں۔ ”اپوزیشن کے ساتھ سختی سے پیش آؤں گا“ کا بیانیہ انہیں کچھ نہیں دے سکے گا، نہ ہی عوام کو اس سے کوئی ریلیف ملے گا۔ اس کے برعکس ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جائے گی جو خود حکومت کے لئے بھی کوئی نیک شگون نہیں ہوتی۔ اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی حکمتِ عملی بدلیں، اپوزیشن کو بھلے کھلی چھوٹ دے دیں، مگر ذخیرہ اندوزوں، مہنگائی کرنے والوں اور راتوں رات اشیاء غائب کر کے ان کے دام دوگنا کرنے والے عوام دشمنوں کو قانون کے کٹہرے میں ضرور لائیں۔

پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ اور کراچی میں جلسوں کے بعد حکومتی کیمپوں میں ایک اضطراب واضح نظر آ رہا ہے، بدقسمتی سے وزیر اعظم سمیت تمام ورزاء اس اضطراب سے نکلنے کی بجائے اسے مزید بڑھا رہے ہیں، اپوزیشن کی توقعات کے عین مطابق کھیل کو آگے بڑھاتے جا رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے تئیں اپوزیشن کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ تحریک انصاف چونکہ پہلے کبھی حکومت میں نہیں رہی، اس لئے اسے یہ معلوم نہیں کہ اقتدار میں بیٹھ کر کس قدر احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ عام طور پر وقت کے حکمرانوں کا ایسے حالات میں بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مثبت مذاکرات کے لئے تیار ہیں، لیکن یہاں تو اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن پر سختیاں کریں گے، کوئی رعایت نہیں دیں گے…… دنیا کی نہیں تو کم از کم پاکستان کی ساری تاریخ ہی دیکھ لیں۔ کون سی تحریک سختیاں کرنے سے دبی ہے؟ اُلٹا اسے نئی زندگی مل جاتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جب جوش جذبات میں یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک ایک کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں گے تو ایسا وہ کس قانون کے تحت کہہ رہے ہیں؟ ان کے ایسے بیانات پر ان کے حواری تالیاں کس خوشی میں بجاتے ہیں؟ کیا وزیر اعظم کا یہ کام ہے کہ وہ پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں، کیا پولیس اور عدلیہ کو تالے لگ گئے ہیں جو تن تنہا وزیر اعظم نے یہ ذمہ داری اٹھالی ہے۔ یہ کوئی مغل شاہی نظام تھوڑی ہے کہ بادشاہ وقت جہاں جسے چاہے  جیل میں ڈال دے۔ یہاں تو پکڑنے کے بعد عدالت میں پیش کرنا پڑتا ہے اور عدالت مطمئن نہ ہو تو ملزم کو رہا کر دیتی ہے چاہے اسے وزیر اعظم نے ہی کیوں نہ بند کرایا ہو۔

اس وقت ملک میں سیاسی ملزم نہیں، بلکہ دیگر شعبوں میں اپنی کرپشن، لوٹ مار، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی مہنگائی اور ظلم و ستم سے جو لوگ عوام کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں، ان کی بیخ کنی وقت کی ضرورت ہے۔ کیا عجب صورت حال ہے کہ وہ تو دندناتے پھر رہے ہیں اور حکومت کے وزراء صرف اپنے سیاسی مخالفین کی طرف توپیں کئے بیٹھے ہیں۔ اپوزیشن حکومت کی جن نا اہلیوں کا ذکر کر رہی ہے، ان میں سب سے بڑی نا اہلی یہ ہے کہ وہ معیشت پر کنٹرول نہیں رکھ سکی اور مہنگائی اس کی بساط سے باہر ہو گئی ہے۔ صاف لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم کے بیانات ہوں یا وزراء اور مشیروں کے اپوزیشن پر حملے، سب کا مقصد عوام کی توجہ کو اس مہنگائی سے ہٹانا ہے جو اس وقت ملک کے اندر خانہ جنگی جیسی صورتِ حال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ کیا یہ حکمتِ عملی درست ہے کہ عوام کو لایعنی باتوں میں الجھا دیا جائے تاکہ وہ اس بارے میں سوچ ہی نہ سکیں کہ ان کی حالت کیا ہو چکی ہے؟ مجھے تو یہ احمقانہ حکمتِ عملی لگتی ہے، کیونکہ عوام کی زندگی میں اگر سکون اور ٹھہراؤ نہیں تو وہ حاکمِ وقت کی بات نہیں سنتے، بلکہ جو حاکم وقت کو للکارتا ہے، اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں …… آپ نوازشریف کو چور کہیں یا غدار،

مولانا فضل الرحمن کو اقتدار کا بھوکا کہیں یا دولت کا پجاری، بلاول بھٹو زرداری کو بچہ کہیں یا سیاسی نابالغ، مریم نواز کو اداروں کے خلاف محاذ آرائی کی مرتکب قرار دیں یا نظام کی باغی، حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اضطراب بڑھتا جائے گا، بے یقینی جنم لیتی رہے گی۔ اس ساری مہم کا اپوزیشن کو فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان کوئی نہیں، البتہ حکومت خسارے میں رہے گی، کیونکہ اس کا جواز اس وقت تک برقرار رہتا ہے، جب تک وہ اپنی اچھی گورننس کے ذریعے عوام کو مسائل سے نجات دلاتی ہے……پی ڈی ایم کے پہلے دونوں جلسے کامیاب رہے ہیں اس بات کو وزراء نہیں مانتے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ اسے اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں، تحریک کامیاب ہو یا ناکام، اپوزیشن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں دوسری طرف حکومت ہے جس کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، مگر اسے صرف ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ اپوزیشن پر سختیاں ڈھائے اسے بے اثر کر دیا جائے یہ بہت خطرناک راستہ ہے اور اس کی کامیابی بھی غیر یقینی ہے، البتہ عوام کو ریلیف پہنچانے کا راستہ دہرا فائدہ پہنچا سکتا ہے ایک طرف اپوزیشن کی تحریک بے اثر ہو سکتی ہے اور دوسری طرف عوام میں جو اضطراب پیدا ہو چکا ہے، اس میں ٹھہراؤ آ جائے گا۔ کپتان یہ راستہ آخر کیوں اختیار نہیں کر رہے؟

مزید :

رائے -کالم -