مجتبیٰ رفیق یوم تکبیر نے نوکری کی خواہش چھوڑ دی 

مجتبیٰ رفیق یوم تکبیر نے نوکری کی خواہش چھوڑ دی 
 مجتبیٰ رفیق یوم تکبیر نے نوکری کی خواہش چھوڑ دی 

  

مجتبیٰ۔ رفیق ہمارے بڑے پیارے دوست ہیں جی ہاں مجتبیٰ رفیق کراچی کا نوجوان ہے اور مجتبیٰ رفیق وہ نوجوان ہے  جس نے بہت چھوٹی عمر میں ایسا کارنامہ انجام دیا جسکی مثال دنیا میں کم ملتی ہے جی ہاں مجتبیٰ رفیق ایسا نوجوان جس نے اٹھائیس مئی کے دن کو یوم تکبیر کا نام دیا جی ہاں یوم تکبیر وہ دن ہے جس روز حکومت پاکستان نے چاغی کے مقام پہ دھماکے کئے اور اس وقت وزیراعظم جو تھے وہ میاں نواز شریف تھے جنھوں نے ملک بھر سے اٹھائیس مئی کے دن کو قومی دن بنانے کے حوالے سے نا مطلب کئے اور بہت سے لوگوں نے خط لکھے اور نام تجویز کئے اور جب نام منتخب ہوئے تو ایک نام یوم تکبیر بھی رکھا گیا اور یوم تکبیر کا نام مجتبیٰ رفیق نے تجویز کیا اور جب مجتبیٰ رفیق نے نام تجویز کیا تو وہ اسوقت چھوٹا بچہ تھا اسکو نام رکھنے پہ تعریفی اسناد بھی پیش کی گئی اور  جب وہ چھوٹا بچہ مجتبیٰ رفیق پڑھ لکھ کے بڑا ہوا  تو اس کو خواہش ہوئی نوکری کی لیکن کہیں نوکری نہ ملی بہت سے لوگوں نے مجتبیٰ کو نوکری کے لارے تو لگائے لیکن نوکری نہ ملی اور  نوکری کی آس میں جینے والے کراچی کے نوجوان مجتبیٰ رفیق نے نوکری  کی  فکر کرنا ہی چھوڑ دی۔

جی وہ اس لئے کہ مجتبیٰ نے نوکری کی بجائے اپنا ہی کاروبار شروع کرنیکا فیصلہ کیا اور جناح کیمیکل کے نام سے اپنی کمپنی بنا لی اور کپڑوں اور برتن دھونے کے لئے صابن اور محلول بنانے کا آغاز کر دیا گزشتہ دنوں میری مجتبیٰ سے بات ہوئی تو بہت خوش لگ رہا تھا خوشی کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ اپنا کام شروع کیا ہے اور جب سے کام شروع ہوا ہے پریشاں ی بھی کم ہو گئیں اور والدین تو والدین سب دوست احباب بھی خوش ہیں اور یقینا ہمیں بھی خوشی ہوئی کہ چلو ہمارے دوست کی کچھ پریشانیاں کم ہوئیں اور دعا تو ہماری سب دوستوں کے لئے ہے کہ اللہ پاک سب دوستوں کی پریشانیاں ختم کرے اور انھیں خوش و خرم زندگی نصیب فرما  آمین ثم آمین تو اسی دعا کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں آپ سے تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید :

رائے -کالم -