رواں سال کون سی معیشت مثبت شرح نمو حاصل کرے گی؟

رواں سال کون سی معیشت مثبت شرح نمو حاصل کرے گی؟
رواں سال کون سی معیشت مثبت شرح نمو حاصل کرے گی؟

  

کووڈ-19 کی وبا اب بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یورپ اور لاطینی امریکی ممالک میں وبا کی دوسری لہر نے ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پہلے سے کساد بازاری کا شکار عالمی معیشتیں حالیہ لہر پر شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس صورت حال میں ایک اہم سوال دنیا بھر کے ماہرین معاشیات کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کیا رواں سال دنیا میں کوئی معیشت ایسی ہوگی جو مثبت شرح نمو حاصل کر پائے گی۔ 

اس سوال کا جواب آئی ایم ایف کی جانب سے حال ہی میں دے دیا گیا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی صدر کرسٹا لینا جارجیوا نے 15 تاریخ کو کہا کہ چین کی جانب سے نوول کورونا وائرس کی وبا کے خلاف سخت اقدمات اختیار کئے جانے کی وجہ سے چین میں معاشی نمو کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور چین رواں سال مثبت شرح نمو پانے والی واحد بڑی معیشت ہوگی اور یہ عالمی معیشت کے لئے ایک قوت محرکہ ہے۔ 

اسی روز ، جارجیوا نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسم خزاں کے سالانہ اجلاس 2020 میں ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا کہ آئی ایم ایف کی تازہ ترین "ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ" نے چین کی معاشی نمو کی پیش گوئی دو اہم عوامل کی بنیاد پر کی ہے۔ پہلا ، چین نے اس وبا کو قابو کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے اور دوسرا ، چین نے معاشی بحالی میں مدد کے لئے مضبوط مالی اور مالیاتی پالیسیاں نافذ کیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ چین نوول کورونا وائرس کی ویکسین کی عالمی تحقیق اور ترقی میں بھی حصہ لے رہا ہے ، جو اس وبا سے لڑنے میں عالمی اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے ۔ 

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے حال ہی میں "ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ" جاری کی ، جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ رواں سال عالمی معیشت میں4.4 فیصد کی کمی واقع ہو گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ چین رواں سال مثبت نمو حاصل کرنے والی دنیا کی واحد بڑی معیشت ہوگی۔چین کی معاشی نمو کی شرح 1.9 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے ، اس میں جون کی پیش گوئی سے 0.9 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ اگلے سال چین کی معاشی نمو کی شرح 8.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 

اسی طرح انیس اکتوبر کو چینی حکومت کی جانب سے رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے اقتصادی اعداد و شمار جاری کیے ۔نیو یارک ٹائمز نے چینی معہشت کے ان اعدادو شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا کہ " دنیا کے بیشتر علاقے بدستور کووڈ -۱۹ کے جال میں پھنسے ہوئےہیں ۔ چین نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وبا کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے بعد معیشت کی تیز رفتار بحالی کا حصول ممکن ہے "۔ چین کے قومی محکمہ برائے اعدادوشمار کے مطابق تیسری سہ ماہی میں چین کی معاشی شرح نمو چار اعشاریہ نو فیصد رہی ۔ رواں سال چینی معیشت کی شرح نمومنفی سے مثبت میں تبدیل ہوئی ہے اور معاشی سرگرمیاں مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین میں پہلی تین سہ ماہیوں میں روز گار کے نواسی لاکھ اسی ہزار نئےمواقع ملے ہیں ۔ اس طرح رواں سال کے اہداف کی تکمیل ہوئی ہے۔ اگلے مرحلے میں مانگ ، پیداوار اور منڈی سے ظاہر ہونے والے اعتماد اور قوت حیات سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں چین کی معیشت کی مستحکم بحالی کا رجحان برقرار رہے گا ۔ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ منڈی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے حد اضافہ ہوا ہے ۔ 

دنیا کی دوسری بڑِی معیشت کے لحاظ سے چینی معیشت کی بہتری عالمی معیشت کی بحالی کے لیے مفید ثابت ہو گی ۔ تازہ ترین عالمی معاشی آؤٹ لک میں ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے چین کی معاشی پیش گوئی کو 2020 تک بڑھا کر 1.9 فیصد کردیا۔چین کو توقع ہے کہ چینی معیشت وہ واحد بڑی عالمی معیشت ہوگی جس کی شرحِ نمو رواں سال مثبت رہے گی ۔اس کے علاوہ عالمی مالیاتی فنڈ کو امید ہے کہ اگلے سال چین کی معاشی نمو 8.2 فیصد تک پہنچ جائے گی ۔ 

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کی معیشت کی ترقی کے بہتر رجحان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن اس وقت عالمی سطح پر وبا کی صورتحال بدستور سنگین ہے ۔ بین الاقوامی ماحول غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے ۔ چین میں موثر مانگ اب بھی ناکافی ہے ۔ مختلف علاقوں ، شعبوں اور اداروں کے درمیان بحالی کی صورتحال غیر متوازن ہے ۔ ایسے میں معیشت کی مستحکم ترقی کی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا چاہیئے ۔ 

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -