حسد کی بیماری اور ہمارا معاشرہ

حسد کی بیماری اور ہمارا معاشرہ
حسد کی بیماری اور ہمارا معاشرہ

  

 کل شام ایک محفل میں بیٹھی ہوئی تھی، ایک صاحب کہنے لگے عمران خان کو سیاست کا کچھ نہیں پتا۔۔۔ خلائی مخلوق نہ ہوتی تو ہم پر یہ مسلط نہ ہوتا۔۔۔پھر بات دوسرے سیاست دانوں کی نااہلیوں سے ہوتی ہوئی قریبی حلقہ احباب تک آ پہنچی کہ فلاں کو کچھ نہیں آتا، ایسے ہی مشہور ہوا بیٹھا ہے۔۔۔ فلاں کو دیکھا ہے کہ کیسے چند سال میں اوقات ہی بدل گئی؟؟؟ٹوٹی موٹر سائیکل پر آتا تھا اب گاڑی مل گئی... یہ باتیں قریبا روز ہی کہیں سننے کو ملتی ہیں مگر آج میں ایک گہری سوچ میں پڑ گئی ہوں....

اچانک ذہن میں آیا کہ جب بھی میں سکول میں اول آتی تھی تو بڑی خوشی میں دوڑتے ہوئےدادی اماں کو جب بھی انعام میں ملا میڈل دکھاتی تو وہ بس چمکتی آنکھوں کے ساتھ ایک ہی جملہ کہتی تھیں. .."وتعز من تشاء وتزل من تشاء " اس وقت اتنا غصہ آتا تھا کہ ایک بار بھی اُنہوں نے میری محنت اور دن رات پڑھنے کےشوق کا اعتراف نہیں کیا.میں جب واپس آتی تو اماں پوچھا کرتی تھیں کہ گئی تو بہت چہکتی ہوئی تھی ایسے کیوں آئی ہو ؟ تو میرا ہمیشہ ہی یہ جواب ہوتا تھا کہ دادو کبھی صحیح مبارکباد ہی نہیں دیتیں...

آج سمجھ آیا کہ وہی تو ہمیشہ مکمل خوش ہوا کرتی تھیں اور میری ہر کامیابی پر اللہ کا فوری شکر ادا کرکے عاجزی میں جھک جاتی تھیں کیونکہ جس کو بھی عزت ملی ہے وہ اللہ ہی کی تو عطا ہے.. ہم کیسے بتا سکتے ہیں کون کتنا اہل ہے؟ اللہ نے ہر کسی کا حصہ رکھا ہوا ہے, نہ تو انسان کسی سے اس کا مقرر کیا ہوا مقام چھین سکتا ہے، نہ اس پر قابض ہوسکتا ہے، پھر کسی کی نالائقی کے تذکرے کرنے کا تو شاید کوئی جواز ہی نہیں ہے.

اس بارے میں آپ سوچنا شروع تو کریں آپ کے رونگتے کھڑے ہوجائیں گے... سوچئے اگر کسی ایسے انسان سے حسد کیا جائے جس کو اللہ نے عزت دی اور بار بار یہ کہا جائے کہ یہ شخص اس قابل ہی نہیں کہ اسے یہ مقام ملے تو واللہ یہ تو معاملہ خراب ہوجائے گا....نہیں نہیں میں عمران خان کی حمایت نہیں کر رہی....عام زندگی میں کسی بھی شخص کو ترقی کرتا دیکھ کر پیدا ہونے والے حسد کی نشاندہی کر رہی ہوں کہ یہ تو کفر کی حد تک جا سکتا ہے.. البتہ تنقید اور تذلیل میں بڑا باریک مگر واضح فرق ہے... تنقید جمہوریت کا حسن ہے جبکہ تذلیل حقوق العباد کو ضائع کرتی ہے.

اس بات کااِدراک مجھے ڈیجیٹل میڈیامیں آکر زیادہ ہوا...جب سینکڑوں لوگوں نےہر ویڈیو پر کمنٹس میں گالیاں دیں اورسوشل میڈیا سٹارز کے بارے میں جب میں نے ہر عام آدمی سے عجیب و غریب باتیں سنیں.... خاتون ہے تو کردار برا کہہ کر زہر اگلا جاتا ہے۔۔۔ مرد ہو تو اسکا شجرہ نسب کھول کر اسکے ماضی کے مالی حالات پر بحث چھیڑ لی جاتی ہے. ارے اللہ کے بندو! یہ اس ذات کی تقسیم ہے جو لاریب درست ہے.. اسکی تقسیم میں راضی بارضا ہو کر تو دیکھیں وہ آپ کو دو گنا زیادہ عزت بخشے گا, بے شک وہ ہر شے پر قادر ہے!

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

  

مزید :

بلاگ -