عید میلاد النبیؐ موجودہ دور کے اثرات! 

عید میلاد النبیؐ موجودہ دور کے اثرات! 
عید میلاد النبیؐ موجودہ دور کے اثرات! 

  

 حضور سرور کائنات، فخر موجودات، رحمت اللعالمین ختم الرسل، خاتم النبین حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت بہت جوش و جذبے سے منایا گیا، چراغاں ہوا، میلاد کی محافل منعقد کی گئیں اور جلوس بھی نکالے گئے۔ پورا ملک درود سلام کی صداؤں سے گونج رہا تھا، مساجد میں اللہ سے عفو و درگزر کے لئے عرض کی گئی اور ردبلا کی دعائیں مانگی گئیں۔ شہر میں لنگر بھی تقسیم ہوئے، میں بھی معمول کے مطابق بچوں کے ساتھ شادباغ اپنی بڑی صاحبزادی کی طرف گیا۔ میرے داماد ندیم بشیر نے اپنی روایت کے مطابق پٹھوروں کا انتظام کیا جو دو مختلف کڑاہوں میں تلے جا رہے اور سڑک پر کرسی میز کا انتظام تھا لوگ جن میں سبھی عمر کے افراد شامل تھے۔ آکر تازہ تازہ کھاتے تھے۔ اس بار اضافہ میری صاحبزادی سمیرا ندیم کی طرف سے تھا کہ آئس کریم کی مشین بھی موجود تھی اور یوں آئس کریم بھی تیار کر کے تقسیم کی جا رہی تھی اس کے لئے خالص دودھ اور خالص ہی اشیاء کا اہتمام کیا گیا تھا۔

خیال تو تھا کہ آج ذرا ہٹ کر شمالی علاقہ جات اور خصوصاً نتھیا گلی کے بارے میں اپنی یادیں تازہ کروں گا لیکن وحدت روڈ سے شاد باغ تک کے سفر نے مجبور کیا ہے کہ اپنے تاثرات بیان کروں، ہر سال جشن میلاد النبیؐ کے موقع پر یہ راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ اس بار جب نہر سے علامہ اقبال روڈ کی طرف مڑے اور گڑھی شاہو کے چوک کی طرف جانے لگے تو پہلا جھٹکا لگا کہ سجاوت تو ضرور تھی لیکن محسوس ہوا کہ گزشتہ سالوں کی نسبت کم ہے پھر ایک جگہ ایک بڑا کیمپ لگا ہوا تھا جہاں تبرک بھی تقسیم کیا جا رہا تھا میں ذرا حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے بعد کہیں ایسا سلسلہ نظر نہ آیا۔ البتہ اردگرد نظر ڈالی تو مسجد اور دوکانوں پر روشنیاں نظر آ گئیں ایسی ہی کچھ صورت حال سوامی نگر سے چوک ناخدا اور وسن پورہ روڈ کی تھی کہ مکانوں اور دوکانوں پر سجاوت اور روشنیاں تھیں، تاہم بازار جو سجاوٹ کی مثال ہوتے تھے وہاں روشنیوں کی چھت والا اہتمام نہیں تھا اور تقسیم تبرک کے مقام بھی کم ہو گئے ہوئے تھے۔

وسن پورہ (تاج پورہ پارک کے بالمقابل) جامع مسجد اور مزار شمیم شاہ کے باہر بہت بڑا سٹیج تھا اور یہاں کیک تقسیم کیا جا رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ لینے اور کھانے والے کم پڑ جائیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا کہ بہت اہتمام سے گتے کی پلیٹوں میں کیک کے ٹکڑے رکھے گئے اور متعدد لوگ تقسیم کرنے والے تھے جب سٹیج پر نظر ڈالی تو احساس ہوا کہ واقع بڑی بڑی ٹرے کیکوں سے بھری ہوئی تھیں اور شمار سے بھی زیادہ تھیں، معمول تو یہ بھی تھا کہ پورے راستے میں کئی جگہ تبرک کے پنڈال ہوتے، تاج پورہ پارک اور پھر شادباغ کی دو تین پارکوں میں باقاعدہ دعوت کا سماں ہوتا تھا جہاں بریانی، سالن کے ساتھ کھلائی جاتی تھی۔ اس بار یہ بھی نظر نہ آیا اگرچہ دودھ والی سبیل کا اہتمام موجود تھا ایسا نہیں کہ اگر یہ اہتمام نہیں تو کچھ نہیں تھا۔ گلیاں زیادہ سجائی گئی تھیں اور انہی گلیوں کے حضرات نے تبرک کے مختلف انتظامات کئے تھے، حتیٰ کہ کشمیری چائے اور آلو کے فرائیڈ چپس بھی تقسیم کئے جا رہے تھے۔

میں اور میرا صاحبزادہ عاصم چودھری صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے گئے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ پھر بعض حضرات سے دریافت بھی کیا۔ یہ انکشاف افسوسناک تھا کہ لوگوں کی مجموعی معاشی حالت بھی اس کی ذمہ دار ہے تو انتقال آبادی بھی وجہ ہے۔ یہاں سے لوگ دوسری آبادیوں میں منتقل ہوئے کہ شہری سہولتوں کی بجائے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، اسی طرح دوکان داروں کی تبدیلی سے پرانی روایت متاثر ہوئی کہ پہلے بازاروں کی انجمن تاجران مل کر اہتمام کرتی تھیں اب شاید اتفاق رائے میں گڑبڑ ہوئی۔ ایک ذمہ دار شخص نے کہا مہنگائی نے متاثر کیا۔ بجلی بہت مہنگی ہے جبکہ آمدنی کم اور اشیاء کے نرخ کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ اور قدرتی طور پر یہ تقریب (علاقائی طور پر) بھی متاثر ہوئی، تاہم جلوس معمول کے مطابق تھے اور نعرہ رسالتؐ اور درود شریف بھی پڑھا جا رہا تھا، جب میں نے ذرا سوشل میڈیا پر دھیان دیا تو حیرت انگیز انکشاف تھا بعض دیدہ دلیر حضرات ٹریفک میں رکاوٹ پر اعتراض کر رہے تھے اور بعض نے ملاؤں کو نشانہ بنایا ہوا تھا۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر بھی بہت بڑی اکثریت عقیدت کے پھول ہی برسا رہی تھی، تاہم میرا خیال ہے کہ بالائی طبقے کی آزاد خیالی اور نام نہاد سول لائزیشن بھی اس کی ذمہ دار ہے، ایسے مغرب زدہ لوگ تو کئی واہیات اعتراض بھی کرتے پائے گئے۔

بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ اگر اس بار کچھ ایسا ہوا تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے عید میلاد النبیؐ سرکاری طور پر منائے جانے کی تقریبات منعقد کی گئیں تو چراغاں بھی پہلے کی نسبت بہتر اور زیادہ ہوا۔ میں نے اپنے سابقہ دو کالموں میں عید میلاد النبیؐ کے قدیمی جلوس اور تقدس کے بارے میں عرض کی تھی اس بار یہ مشاہدہ ضرور ہوا کہ جلوسوں میں عمومی طور پر پاکیزگی کا خیال رکھا گیا اور زیادہ جلوسوں میں پیدل چلنے والوں کی ٹولیاں زیادہ تھیں، شادباغ سے واپسی عشاء کے بعد رنگ روڈ کے ذریعے ہوئی تو آج کے نوجوانوں کو دیکھا جو  اس مبارک تہوار کے روز بھی اپنی دلچسپیوں میں مگن تھے اور ٹولیوں کی شکل میں مل کر ”ون ویلنگ“ کے مختلف مظاہرے کر رہے تھے۔ حالانکہ ٹریفک معمول سے زیادہ تھی۔ حیرت یہ ہوئی کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں تھی۔ ایسا احساس ہوا کہ پولیس اہل کاروں کی ان مقامات پر زیادہ ضرورت تھی جہاں سے جلوس برآمد ہو کر گزر رہے اور جن مقامات پر محافل ہو رہی تھیں۔  بعض حضرات کی طرف سے یہ بھی بتایاگیا کہ جگہ جگہ ٹریفک جام کے منظر بھی تھے کہ وارڈن حضرات بھی معمول کی ڈیوٹیوں پر نہیں تھے۔

میں نے یہ سب دکھی دل سے لکھا کہ ہم اور ہماری قوم کس مقام پر کھڑے ہیں، کہ اس یوم مقدس پر بھی دنیاداری کو ترک نہیں کر پائے جہاں تک موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کا تعلق ہے تو ان کی ذمہ داری ان کے والدین پر عائد ہوتی ہے کہ یہ خود سے موٹر سائیکل تو خریدنے سے رہے، والدین لے کر دیتے یا انہی کی موٹر سائیکلیں لے کر یہ نکلتے ہیں۔ آخر وہ ان کو روکتے ٹوکتے کیوں نہیں۔ جب حادثات ہوتے ہیں تو پھر اندازہ ہوتا ہے کہ کیا غلطی ہو چکی، اس وقت ازالے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔

میں تو یہی عرض کر سکتا ہوں کہ علماء کرام، والدین اور حکام سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس یوم مبارک کا تقدس پوری طرح بحال رکھیں اور پھر پیدائش رسولؐ منانے کا مقصد تو یہ ہونا چاہئے کہ ہم تعلیمات نبی اکرمؐ پر عمل کریں۔ عہد کریں اور زندگیاں اسوہ حسنہؐ کے مطابق ڈھال لیں اللہ ہم سب کو توفیق عنایت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -