مسلمان تعلیمات نبوی ؐپر عمل کرکے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں 

مسلمان تعلیمات نبوی ؐپر عمل کرکے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں 
مسلمان تعلیمات نبوی ؐپر عمل کرکے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں 

  

قومی رحمت للعالمینؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت محمدؐ کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے مثالی نمونہ ہے۔حضرت محمدؐ رحمت للعالمین ہیں۔ وہ سب انسانوں کے لئے رحمت بن کر آئے۔ مسلمان تعلیمات نبوی ؐپر عمل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبیؐ کی سیرت کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے۔ رسول پاکؐ دنیا میں تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی سوچ اور فکر سے انقلاب لائے تھے۔

ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر مہذب معاشرے کے لئے مثالی نمونہ بنی۔ رسول پاکؐ نے معاشرے میں اچھے برے کی تمیز رکھی اور اخلاقی معیار بلند کیا۔ ہمارے پیارے نبی ؐ نے اپنی سیرت مبارکہ کے ذریعے انصاف کا درس دیا۔ ریاست مدینہ فلاحی ریاست تھی۔ اس ریاست نے نچلے طبقہ کی ذمہ داری لی اور ان کو اوپر اٹھایا۔ جب ریاست لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرتی ہے تو لوگ جڑ جاتے ہیں۔ انسانیت اور انصاف سے قوم مضبوط ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے غریبوں کی دیکھ بھال، انصاف کی بالادستی، بلند اخلاقی اقدار، بدعنوانی کی روک تھام اور خاندانی نظام کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ اسلامی اقدار پر عملدرآمد کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ 

عمران خان نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ وہی قوم قانون کی حکمرانی قائم کر سکتی ہے جو اعلیٰ اخلاق کی حامل ہو،جہاں قانون نہ ہو، کمزور کو انصاف نہ ملے،ایسے ملک میں جنگل کا قانون ہوتا ہے۔ مسلمان اعلیٰ اخلاقیات، ایمانداری اور سچائی کے علمبردار تھے۔ عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی تھی۔قانون سے کوئی بالاتر نہیں تھا۔ بلند اخلاق اور انصاف پسند ممالک نے ترقی کی۔ 

حضرت محمدؐ نے مثالی نمونہ پیش کرکے مسلمانوں میں قائدانہ خصوصیات پیدا کیں۔ آپؐ صادق اور امین تھے۔ آج بھی لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہئے جو ایماندار، سچا اور انصاف پسند نہیں ہوتا اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی، صادق اور امین ہونے پر عزت ہوتی ہے۔ اسلام نے بتایا کہ زندگی، عزت اور رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس سے ان کا خوف ختم ہو گیا اور کم وقت میں بڑے مسلمان لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کی قیادت کی۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ صرف ہمیں اپنی سمت درست رکھنا ہو گی، جس راستے پر 74 سال پہلے چلنا تھا اس سفر کا اب آغاز ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے باعث چیلنجز بڑھ چکے ہیں۔ ہمارے بچوں کے پاس موبائل فون ہیں۔ ہم ان کو معلومات تک رسائی سے نہیں روک سکتے، لیکن ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو نیکی اور برائی کے راستے سے متعلق آگاہی دینی ہے۔ بچوں میں اپنی ثقافت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لئے کارٹون سیریز شروع کی جائیں گی۔ نوجوانوں میں غیر جنسی جرائم کا بڑھنا خطرناک ہے۔ برطانیہ میں غیر اخلاقی فلموں اور فحاشی بڑھنے سے خاندانی نظام پر اثر پڑا۔ ہمیں اپنے خاندانی نظام کو بہتر بنا کر اس کا تحفظ کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے لوگوں اور دنیا کو حضرت محمد ؐ کی حیات طیبہ اور تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لئے رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی قائم کی۔ یہ اتھارٹی دنیا کو اسلامی انقلاب سے روشناس کرائے گی اور سیرت نبوی کے بارے میں نوجوانوں کی رہنمائی کرے گی۔ قومی رحمت للعالمینؐ اتھارٹی کا چیئرمین انتہائی تجربہ کار، ماہر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو گا۔ اتھارٹی کا مقصد نوجوانوں کو حضرت محمد ؐ کی سیرت طیبہ سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ یہ اتھارٹی بیرون ملک بھی روابط قائم کرے گی۔سکولوں میں 8ویں سے 10ویں تک سیرت النبی نصاب میں شامل کی گئی ہے۔ سکالرز کے ذریعے سکولوں میں اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ سیرت النبی سے متعلق مذہبی سکالرز کے ذریعے آگاہی پیدا کی جائے گی۔ ٹیلیویژن پر پروگرام ہوں گے۔ اس اتھارٹی کے تحت انٹرنیشنل سیل ہو گا، جس کے ذریعے عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر دانشمندانہ مؤقف پیش کیا جائے گا۔جب حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہم اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں،جبکہ وہ لوگ اسلامو فوبیا کو آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔

امہات المومنینؓ کی زندگیاں طالبات کے لئے مشعل راہ ہیں جن پر چل کر وہ اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ اسلام میں حصول علم کے لئے بہت تاکید کی گئی ہے۔ قوموں کی ترقی میں علم کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے۔اس وقت تقریبا اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے میدان میں لا کر انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنا موجودہ حکومت اور سوسائٹی کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

خاتم النبیینؐ کی سیرت طیبہ زندگی پر چودہ سو سالوں میں اس کے ہر پہلو پر، ہر زمانے میں، دنیا کی ہر زبان میں کئی ضخیم کتب لکھی گئیں لیکن پھر بھی سیرت محمد مصطفٰی ؐ کے اسرار ختم نہ ہوئے۔یوں تو یہ آپ ؐ کی تربیت ہی تھی کہ عرب کے بدو دنیا کی تہذیب یافتہ اور متمدن قوم بن گئی۔مسجد کے منبر سے لے کر سیاست کی مسند تک، معیشت کے بازاروں سے لے کر معاشرہ اور خاندان تک آپ ؐ نے زندگی کے ہر پہلو پر کامل راہنمائی فرمائی۔اور یہ اصول اس قدر جامع ہیں کہ ان سے بہتر اور کوئی ضابطہ حیات ہو ہی نہیں سکتا۔ہر میدان کی طرح آپؐ نے اپنے اصحاب کی نہ صرف اخلاقی تربیت کی،بلکہ اخلاق حسنہ کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ حضور نبی اکرم ؐ کے اسوہئ حسنہ کی پیروی کر کے ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلامی احکامات کے مطابق حصول علم اور اس پر عمل ہی وہ واحد راستہ ہے،جو ہمیں حصول پاکستان کی حقیقی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -