بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں 

 بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں 
 بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں 

  

 یہ خبر تو اب میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے کہ ایک بھارتی آبدوز 16اکتوبر کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی کہ ”پکڑی“ گئی۔ آبدوزوں کی محدودات (Limitations) میں ان کی یہ کمزوری بھی شامل ہے کہ اگر وہ پکڑی جائے تو اس کا مطلب تقریباً یہ لیا جاتا ہے کہ وہ غرقاب کر دی گئی ہے۔ 

کسی بھی ملک کی بحری حدود اس کے ساحل سے 22کلومیٹر دور ہوتی ہیں۔اس آبی علاقے میں اگر کوئی بھی بالائے آب یا زیرِ آب پلیٹ فارم (بحری جہاز)داخل ہو جائے تو متعلقہ ساحلی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دے۔ 22کلومیٹر کا یہ آبی علاقہ گویا اس ملک کا ساورن ساحلی علاقہ شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم ایک اور آبی علاقہ وہ بھی ہے جسے EEZ کا نام دیا جاتا ہے اور اس کی حدود 370کلومیٹر تک ہوتی ہیں۔ ان پانیوں میں اگر تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہو جائیں تو وہ ساحلی ملک کی مِلک (Property) شمار ہوتے ہیں۔ دنیا کے کئی سمندروں میں یہ دولت پائی گئی ہے اور اس سے متعلقہ ساحلی ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔علاوہ ازیں ان حدود میں کسی دوسرے ملک کو مچھلیاں پکڑنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی…… بھارتی آبدوز اسی EEZ میں پکڑی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کراچی سے 283ء کلومیٹر دور تھی کہ اس کا سراغ لگا لیا۔ پاک بحریہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس کے لانگ رینج میری ٹائم پیٹرول ہوائی جہازوں نے اس آبدوز کا سراغ لگایا۔ اگر پاک بحریہ کے اربابِ اختیار چاہتے تو اس آبدوز کو ایک خصوصی میزائل (Depth Charge) مارکر تباہ کیا جا سکتا تھا لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا…… ایسا نہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں اور پاک بحریہ نے 16سے 19اکتوبر تک یہ خبر بریک کیوں نہ کی ہم ان دو سوالوں پر ایک مختصر تبصرہ کرنا چاہیں گے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ پاک بحریہ نے یہ خبر اسی روز (16اکتوبر) کو بریک کیوں نہ کی کہ جب یہ آبدوز پکڑی گئی تھی۔ میرے مطابق اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو بھارتی ردعمل کا انتظار تھا۔ ممکن ہے بھارت یہ کہتا کہ اس کی آبدوز پاکستان کے بحری علاقے کی حدود میں نہیں تھی اور پاکستان کا یہ دعویٰ درست نہیں۔ اگر انڈیا نے 72گھنٹے تک اس کا کوئی ذکر نہیں کیا تو یہ خاموشی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آبدوز واقعی پاکستانی پانیوں میں تھی اور اس کا رخ پاکستان کے ساحلی علاقوں (کراچی، پورٹ قاسم، اوڑ مارا) کی طرف تھا۔

جہاں تک بھارتی عزائم کا سوال ہے تو یہ امر کسی تفصیل کا محتاج نہیں کہ انڈیا اس وقت سے ہی CPECکو ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے جب 2015ء میں اس کی شروعات ہوئی تھیں۔ انڈیا کی طرف سے یہ تیسری آبدوزی کوشش تھی۔ پہلی بار 2016ء میں، دوسری بار 2019ء میں اور اب تیسری بار 2021ء میں انڈیا کی طرف سے CPEC کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے کئی رخ ہیں۔ ایک یہ کہ آبدوز سے میزائل مار کر پاکستان کے کسی بھی ساحلی ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ 2015ء میں گوادر پورٹ کی تعمیر شروع ہو چکی تھی اور انڈیا یہ اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ گوادر پر آئندہ جو راڈار نصب کئے جائیں گے ان کی حدود کا کیف و کم کیا ہوگا۔ کیا وہ بحری آبدوزوں کو Detect کر سکیں گے اور اگر کر سکیں گے تو کتنی دور سے؟…… اور ممکن ہے اسی دوری کو ’ماپنے‘ کے لئے یہ آبدوزیں بھیجی جا رہی ہوں! مجھے یقین ہے کہ انڈیا آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔ اس کی خواہش یہ بھی ہوگی کہ پاکستانی راڈاروں کی لوکیشن اور صلاحیت معلوم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جائے!!

پاکستان اپنے میری ٹائم (سمندری) پیٹرول ہوائی جہازوں سے کسی بھارتی آبدوز کو نشانہ بنانے سے اس لئے گریز کرے گا کہ وہ ایسا کرکے ایک کھلی جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہے گا۔ اگر جنگ ہو جائے اور اس کا دائرہ پھیل جائے تو یہ بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف بات ہوگی۔ انڈیا تو یہ چاہتا ہے کہ گوادر کے آس پاس کوئی نہ کوئی چھیڑ خانی ہو تاکہ اس کی ’نوخیز‘ ساحلی تنصیبات کو برباد کیاجا سکے…… اور پھر نہ نومن تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی……

انڈیا کو یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان کی ساحلی راڈاری فاصلاتی اہلیت اور صلاحیت کس کینڈے کی ہے۔ جب سے CPEC کا آغاز ہوا ہے  اور جنوبی بلوچستان کے ان علاقوں کی ڈویلپمنٹ شروع ہوئی ہے انڈیا کے سینے پر سانپ (بلکہ کالے ناگ) رینگ رہے ہیں۔ پاک بحریہ کو زیادہ طاقتور اور زیادہ باصلاحیت بنانے کے لئے ماضی ء قریب میں چین نے جو معاونت کی ہے، اس کی خبریں آئے روز میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اس کی جوہری اور میزائلی قوت سے نہ صرف انڈیا بلکہ اس کے مغربی اربابِ تعاون بھی آگاہ ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انڈیا، پاکستان کی بحری حدود میں یہ ترک تازیاں اپنے مغربی ناخداؤں کے اشاروں پر کر رہا ہو۔ بحرہند مین امریکہ کے طیارہ بردار گھومتے رہتے ہیں۔ڈیگوگارشیا بھی کچھ ایسا دور نہیں۔ گمانِ غالب یہ بھی ہے کہ امریکہ اور انڈیا (آسٹریلیا کے ساتھ مل کر) ایک سہ گانہ آپریشن پلان بنا چکے ہوں کہ پاکستان کی گوادر پورٹ کو ملٹری بیس (عسکری مستقر) نہیں بننے دیا جائے گا۔ پاک بحریہ اور چینی بحریہ کے درمیان عسکری تعاون بھی روز افزوں ہے۔ اگر امریکہ، آسٹریلیا کو 8،10جوہری آبدوزیں بنا کر دے رہا ہے تو ان کی رسائی نہ صرف ساؤتھ چائنا سمندر تک ہو گی بلکہ کراچی اور گوادر تک بھی ہوگی اور یہ سہ گانہ اتحاد(انڈیا، امریکہ، آسٹریلیا) اس کوشس میں ہوگا کہ زیرِ آب راستوں کو کلیئر کرنے اور ان میں مستقبل کے زیر آبی منصوبوں کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کا بندوبست کرے۔

واقفانِ حال جانتے ہیں کہ دنیا کے تین بڑے سمندروں (بحرالکاہل، بحراوقیانوس، بحرہند) میں دوسری عالمی جنگ کے دوران (1939ء تا1945ء) لاتعداد بالائے آب اور زیر آب عسکری معرکے لڑے گئے۔ لیکن یہ معرکے بحرہند میں بہت ہی محدود تعداد اور سکوپ کے تھے۔ بحرہند کے ساحلی ممالک دوسری عالمی جنگ کی بحری لڑائیوں کا حصہ نہیں تھے۔ یہ لڑائیاں زیادہ تر بحرالکاہل اور بحراوقیانوس میں لڑی گئیں …… اب شاید وقت آ گیا ہے کہ بحرہند ان لڑائیوں کی آماج گاہ بنے۔ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی کوشش ہو گی کہ اگر افغانستان ہاتھ سے نکل گیا ہے تو چین اور پاکستان کو بحری اطراف کی جانب سے زیرِ خطر کر دیا جائے۔ 16اکتوبر 2021ء کو انڈین آبدوز کا پاکستانی پانیوں میں یہ ورود انہی کوششوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

ایک سوال یہ بھی ذہن میں آیا ہے کہ امریکہ اپنے طیارہ برداروں کی حفاظتی آبدوزوں کو پاکستانی پانیوں میں کیوں نہیں بھیجتا؟…… میرے خیال میں انڈین آبدوزوں کے یہ چکر اسی ”کارِ خیر“ کی ارلی کارروائی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

 آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

مزید :

رائے -کالم -