قومی اسمبلی: حکومت کا اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں خراب ہونے کا اعتراف 

قومی اسمبلی: حکومت کا اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں خراب ...

  

 

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں حکومت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتالوں پمز اور نرم میں ایم آر آئی مشینیں خراب ہونے کا اعتراف کر لیا، ایم آر آئی مشینیں  خراب ہونے پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا، قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ ایم آر آئی مشینیں پمز اور نرم ہسپتال میں موجود ہیں مگر وہ اس وقت کسی نقص کی وجہ سے فعال نہیں ہیں مگر جلد از جلد فعال ہو جائیں گی، سندھ میں شعبہ صحت کے حالات بہت خراب ہیں،سندھ کو فوری طور پر صحت کارڈ شروع کرنے چاہئیں،سندھ میں کتے کے کاٹے کی دوائیاں نہیں مل رہیں، اسلام آباد کے اندر تمام آبادی کوصحت کارڈ دینے کا دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پنجاب کی بھی تمام آبادی کوکور کیا جا رہا ہے، مارچ 2022 تک پنجاب کی تمام آبادی کو بھی کارڈ  مل جائے گا ،خیبر پختوانخوا کی ساری آبادی کو کارڈ مل چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی صدارت میں ہوا، وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت وفاقی حکومت نے تھرپارکر کی تمام آبادی کو اپنی طرف سے صحت کارڈ دیا ہے، وہ سب سے پسماندہ ضلع تھا۔ سندھ حکومت سے بار بار درخواست کی جارہی ہے کہ وہ بھی اس پروگرام میں شامل ہو، ابھی تک ان کی طرف سے ہمیں کوئی مثبت جواب نہیں آیانوشین حامد نے کہا کہ اسلام آباد کے اندر تمام آبادی کوصحت کارڈ دینے کا دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پنجاب کی بھی تمام آبادی کوکور کیا جا رہا ہے، مارچ 2022 تک  پنجاب کی تمام آبادی کو بھی مل جائے گا،خیبر پختوانخوا کی ساری آبادی کو مل چکا ہے، سندھ میں شعبہ صحت کی صورتحال بہت خراب ہے،سندھ کو فوری طور پر صحت کارڈ شروع کرنے چاہئیں، بلوچستان حکومت سے بات ہوئی ہے دسمبر 2021 کے آخر تک صحت کارڈ کا سلسلہ بلوچستان میں شروع ہو جائے گا۔ 

قومی اسمبلی 

مزید :

صفحہ آخر -