ہائیکورٹ،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی  جے آئی ٹی کیخلاف دائر درخواستوں  کی مزید سماعت آج تک ملتوی

ہائیکورٹ،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی  جے آئی ٹی کیخلاف دائر درخواستوں  کی مزید ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹرجسٹس محمد امیر بھٹی،جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس مس عالیہ نیلم،جسٹس شہباز رضوی،جسٹس سردار احمد نعیم،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 7رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف دائر درخواستوں کی مزید سماعت آج 21اکتوبر صبح 10بجے تک ملتوی کردی۔فاضل بنچ کے روبرو عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے ملزم پولیس کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے دوسری جی آئی ٹی بنانے کے حوالے سے کیس نمٹایا،پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ جے آئی ٹی بنا رہے ہیں،ملزمان میں سے کسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر نہیں کی،فاضل بنچ کے رکن مسٹرجسٹس ملک شہزاداحمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا ایک معاملے پر دوسری جے آئی ٹی بن سکتی ہے یا نہیں،سپریم کورٹ میں اس نکتے پر تو بات ہی نہیں ہوئی،بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ یہ تو سپریم کورٹ کا اختیار ہے، ہائیکورٹ سپریم کورٹ سے نہیں پوچھ سکتی،چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں استغاثہ جواد حامد نے دائر کیا ہے،سپریم کورٹ میں معاملہ متاثرہ بچی بسمہ امجد نے اٹھایا تھا،آئندہ سماعت پر اس نقطے پر بھی دلائل دیں،کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملزم پولیس کی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں،اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں ایک واقعہ کی دوسری جے آئی ٹی بنائی جا سکتی ہے،ماڈل ٹاؤن سانحہ میں 3 ہزار لوگوں کو نامزد کیا گیا،پورے پاکستان میں اس واقعہ کے خلاف 58 مقدمات درج ہوئے،مسٹرجسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے معاملہ لارجر بنچ کو بھجوایا تھا،پانچ رکنی بنچ نے کہا تھا کہ بہت سارے قانونی سوالات ہیں جنہیں لارجر بنچ کو دیکھنا چاہیے،ہم سب سپریم کورٹ کے فیصلے کے پابند ہیں،صرف یہ بتایا جائے کہ سپریم کورٹ میں کیس کا میرٹ کیا تھا،اس کیس میں سپریم کورٹ کا تو کوئی حکم نہیں ہے،پنجاب حکومت نے خود سپریم کورٹ میں نئی جے آئی ٹی بنانے کا جواب دیا،عوامی تحریک کے وکیل نے کہا کہ متاثرہ بچی بسماء نے نئی جے آئی ٹی بنانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیاسپریم کورٹ نے متاثرہ بچی کی درخواست پرنوٹس لیا،سپریم کورٹ میں تمام فریقین پیش ہوئے عدالت نے یکطرفہ کاروائی نہیں کی،سپریم کورٹ نے بسماء امجد کی درخواست پرکاروائی کی تھی،دیکھنا یہ ہے کہ بسماء امجد نے اپنی درخواست میں مانگا کیا تھا،بسماء امجد نے غیرجانبدار اورشفاف انکوائری کا مطالبہ کیا تھا،بسماء امجد نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست میں سب کچھ واضح کیا تھا،درخواست میں کہا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ، وزیرقانون اورآئی جی کے ایماء پرسانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا،موجودہ درخواست گزاروں کے وکیل اعظم نذیر تارڑسپریم کورٹ پیش ہوئے تھے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

مزید :

صفحہ آخر -