سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی  کیس ٹرائل کورٹ بھجوانے کا حکم 

 سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی  کیس ٹرائل کورٹ بھجوانے کا حکم 

  

   ملتان (خصو صی  ر پو رٹر)  لاہور ہائیکورٹ ملتان کے دو ججز پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی 

(بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

شیر علی گورچانی کی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے مقدمہ میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ٹرائل کورٹ میں سماعت کے لیے بھجوانے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ نیب حکام نے شیر علی گورچانی، انکی اہلیہ روپ علی گورچانی، والد سردار پرویز اقبال گورچانی اور بھائیوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے سے متعلق ریفرنس بنا رکھا ہے جس پر احتساب عدالت ملتان نے پیٹشنر شیر علی گورچانی اور انکی بیوی روپ علی کے علاوہ والد اور بھائیوں کی جائیدادیں ضبط کرنے سے نیب کو روک دیا تھا تاہم نیب لاہور نے انکی بیوی کے نام لاہور کے رہائشی مکان کی ضبطگی کنفرم کردی تھی جبکہ شیر علی گورچانی کا جام پور میں قائم میر بس اسٹینڈ جو نجی کمپنی کے استعمال میں ہے اسے نیلام کیے جانے کی کاروائی شروع کی جو رواں سال 8 مارچ کو ہونا تھی۔ نیب کو اس اقدام سے روکنے کے لئے پیٹشنر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس پر شیر علی گورچانی کی جانب سے سینئر قانون دان رانا آصف سعید اور نعیم خان عدالت عالیہ میں پیش ہوئے تھے۔نیب حکام کے مطابق سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی کے موجودہ اثاثے ان کی آمدن سے کہیں زیادہ ہیں اور وہ اس کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہے جبکہ ملزم کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ان کا تعلق اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن سے ہے ان کے خلاف انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے۔ جبکہ انکی اہلیہ کا اپنا ذریعہ آمدن ہے اس لیے نیب کو جائیدادیں ضبط کرنے سے روکا جائے۔  

حکم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -