جعلی پیرکیس، متاثرہ لڑکی 24دن بعد نشتر میں جاں بحق: خاموشی سے سپرد خاک 

جعلی پیرکیس، متاثرہ لڑکی 24دن بعد نشتر میں جاں بحق: خاموشی سے سپرد خاک 

  

   ٹبہ سلطان پور (سٹی رپورٹر)جعلی پیر کیس متاثرہ لڑکی 24دن موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعدنشترہسپتال ملتان میں دم توڑگئیں نمازجنازہ کے بعدخاموشی کے ساتھ سپردخاک کردی گئی رشتہ داروں اورسیاسی پریشرجعلی پیرکے ہمراہی گجربرادری کے پانچ ملزمان نے مدعی مقدمہ کے ساتھ صلح کے لیے جدوجہدکرنے لگ گئے پولیس نے دفعہ302لگاکرتفتیش مزیدتیزکردی تفصیل کے مطابق 24دن قبل (بقیہ نمبر52صفحہ7پر)

تھانہ ٹبہ سلطان پور کے نواحی علاقہ در پور پل کے قریب رہائش پذیر گجر برادری کے محمداقبال گجر،محمدرضوان گجر،منورگجر،لیاقت گجراوراشرف گجرنے لاہور کے رہائشی جعلی پیرمعصوم امام سے ملی بھگت کر کے جن نکالنے کے لیے ذہنی معذوربیمار لڑکی ماہ نورکے ورثہ سے 50000روپے میں ڈیل کروائی اورجعلی پیرمعصوم امام نے دس من کے  قریب لکڑیاں جلا کر آگ کی شدیدطپش سے ذہنی معذور لڑکی ماہ نور کو جلا دیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ ٹبہ سلطان پور میں درج کیا گیا اور متاثرہ لڑکی ماہ نور کو نشتر ہسپتال ملتان داخل کروا دیا گیا تھا جو کہ 24 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد گزشتہ روز نشتر ہسپتال ملتان میں دم توڑ گئی ہے جس کا نماز جنازہ خاموشی کے ساتھ گزشتہ صبح 8بجے گھرمیں ادا کر کے سپرد خاک کر دیا گیاجبکہ تھانہ ٹبہ سلطان پور کی پولیس نے مقدمہ میں قتل کی دفعہ 302لگاکرتفتیش مزیدتیزکردی  ہے دوسری جانب رشتہ داری اور سیاسی پریشر کے باعث متاثرہ لڑکی کے بھائی عدنان گجر کو  گجربرادری کے  5ملزمان اقبال گجر،رضوان گجر،لیاقت گجر،منورگجر،اوراشرف گجرصلح کے لیے مجبورکرنے میں مصروف عمل ہیں اور خاموشی کے ساتھ مقدمہ خارج کروانے میں لگ گئے ہیں یہ بھی معلوم ہواہے کہ تھانہ ٹبہ سلطان پور پولیس کے ساتھ بھی میل میل کرلیاگیاہے اورعلاقہ میں قیاس آ رائیاں جنم لینے لگ گئی ہیں کہ مرنے والی معذور لڑکی ماہ نوراوراس کے ورثہ کو انصاف ملنے سے قبل ہی مقدمہ خارج اورقتل رائیگاں ہونے کا امکان ہے۔

جاں بحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -