کم آمدنی والوں کیلئے پٹرول پر سبسڈی کا منصوبہ، مہنگائی کم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ 

    کم آمدنی والوں کیلئے پٹرول پر سبسڈی کا منصوبہ، مہنگائی کم کرنے کیلئے ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کم آمدنی والوں کے لئے پٹرول پر سبسڈی دینے پر پلان بنانے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران مہنگائی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی۔ پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت بھی شریک ہوئی۔ ملکی سیاسی اور پارلیمانی امور پر مشاورت کی گئی جبکہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کم آمدن والے افراد کو پیٹرول  پر سبسڈی دینے  پر غور کیا گیا۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور عوامی سواری کو سبسڈائزپٹرول دینے کا پلان اگلے اجلاس پیش کیا جائیگا، مہنگائی کم کرنے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز کے زریعے کم آمدن والے افراد کو ٹارگیٹڈ سبسڈی دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔پارٹی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام وفاق اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ مالی معاونت سے شروع کیا جائے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ غریب طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا بڑا پروگرام جلد شروع کیا جائے، مہنگائی کے اثرات کا احساس ہے۔ حکومت صحت کارڈ، کسان کارڈ اور احساس پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھا رہی ہے۔اجلاس میں سندھ میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کیا گیا، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیراعظم عمران کو احساس ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام پر بریفنگ دی۔ شوکت ترین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔وزیراعظم کو ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پسماندہ طبقے کو مہنگائی سے بچانے کیلیئے احساس ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام رواں سال جلد جاری ہوگا۔ پروگرام کیلیئے احساس اور نیشنل بینک کے اشتراک سے موبائل پوائنٹ آف سیل نظام تیار ہے۔ احساس کے اہل گھرانوں کو اس پروگرام کے ذریعے مخصوص اشیاء  پر کریانہ سٹور سے خریداری پر رعایت ملے گی۔تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ آٹے، چینی کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، کرشنگ سیزن شروع ہونے سے چینی کی قیمت مزید کم ہوجائے گی انہوں نے کہا کہ اجلاس میں  پنجاب کے اندر مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے سب سے اہم موضوع پر گفتگو ہوئی، وزیراعظم نے پارٹی لیڈرشپ کوعوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے کہا مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تیاری کے لیے شہروں اوراضلاع میں شیڈول جاری کیے جائیں۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کور کمیٹی اجلاس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی، وزیراعظم نے متوسط طبقے کو ریلیف کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔فواد چودھری کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، حکومت اس وقت مہنگائی کے اہم مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، آنے والے دنوں میں وزیراعظم بڑے پروگرامزکا خود اعلان کریں گے۔۔ اس سال گنے کی تاریخی پیداوار ہونے کی توقع ہے، کاٹن کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت 60 فیصد زیادہ ہے،، دالوں، سبزیوں، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گندم کی ریلیز کو بڑھائے تاکہ سندھ میں آٹے کی قیمت میں کمی ہو، پنجاب، خیبرپختونخوا کی نسبت سندھ میں 20 کلو آٹا 400 روپے مہنگا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی ریلیزمیں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہیجس کی وجہ سے سندھ میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 400 روپے کا فرق ہے۔

سبسڈی منصوبہ

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکام نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔بدھ کو  وزیراعظم عمران خان نے نیو بالاکوٹ سٹی کو سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی۔وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے پہاڑی علاقوں میں نئے سیاحتی مقامات تعمیر کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس مقصد کے لیے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں نامور نجی سرمایہ کاروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ پر راغب کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں نجی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔انہوں نے کے پی کے حکومت کوہدایت کی کہ وہ منصوبے کو ایرا سے لے کر اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر مکمل کرے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ خطے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زیر کاشت اراضی کو منصوبے میں شامل نہ کیا جائے۔اس سے قبل وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیو بالاکوٹ سٹی کو ڈیزائن-بلڈ-فنانس-آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (DBFOT) موڈ پر سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے 19.5 بلین روپے کے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی  نیسپاک  نے مکمل کر لی ہے۔مجوزہ پروجیکٹ کے تحت کل 6753 میں سے 63 فیصد رہائشی پلاٹ مقامی متاثرین کو الاٹمنٹ کے لیے مختص ہیں، جبکہ باقی 2480 رہائشی اور 575 کمرشل پلاٹس کے علاوہ 800 اپارٹمنٹس نیلام کیے جائیں گے تاکہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے فنڈزحاصل کیے جا سکیں۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ بنیادی طور پر نیو بالاکوٹ سٹی کی ترقی وفاقی حکومت کے بجائے کے پی کے کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کے پی کے حکومت پہلے ہی اس مقصد کے لیے زمین حاصل کر چکی ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مکمل کیے جانے والے اس منصوبے میں یوتھ ہاسٹل، تھیم پارک، کیمپنگ گراؤنڈ اور تھری اسٹار ہوٹل شامل ہوں گے۔ قومی رحمت اللعالمین ؐ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے اور جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا،آخری سانس تک ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا،پاناما کیس میں کیا بتاؤں کس طرح کے جھوٹ بولے گئے، یہ کیس برطانوی عدالت میں ہوتا تو ان کو اسی وقت جیل میں ڈال دیا جاتا، مغرب اورپاکستان کے عدالتی نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے،جب تک قانون آزادنہیں ہوگاملک اوپرنہیں جا سکتا، برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، یہاں سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے، برطانیہ میں چھانگا مانگا جیسی یا مری میں بند کر کے ووٹ لینے کی سیاست نہیں ہوتی، اخلاقیات کا معیار نہیں تو جمہوریت نہیں چل سکتی،ہالی ووڈ اوربالی ووڈ کلچر سے ہمارا خاندانی نظام تباہ ہوجائے گا،اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا۔  وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ؐ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ؐ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔اس موقع پر 5 منٹ دورانیے کی ایک فیچر فلم بھی نشر کی گئی جس کا مقصد مغربی ممالک کو آگاہ کرنا تھا کہ ایک مسلمان حضرت محمد ؐ سے عشق کیوں کرتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ؐ کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی سے ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی شامل ہے، حضرت محمد ؐ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے اور جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔انہوں نے کہاکہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح مغرب میں ملازمین کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیاانہوں نے کہاکہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کردیں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہوں جس کی اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرض ہے۔عمران خان نے کہا کہ  پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کیلئے بے قرار رہتے ہیں۔ا۔انہوں نے کہاکہ اکثر کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کو زندگی کے مزے لے لیے اور اب ہمیں ریاست مدینہ کا درست دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین ؐ اتھارٹی کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ریاست مدینہ کے اصول بتائے جائیں، انہیں نبی کریم ؐ کی اسوہ حسنہ سے متعلق آگاہی دیں، کم از کم ہم نوجوانوں صحیح اور غلط راستوں کی نشاندہی تو کرواسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب تک زندہ رہوں گا انصاف کی بالادستی کیلئے لڑتا رہوں گا، میری زندگی محض ایک دائرے میں نہیں ہے بلکہ ہمارا منشور ہی یہ ہے اور اتھارٹی کے ذریعے ہم راستہ دکھائیں گے کیونکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ احساس اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زندگی کے میدان میں خود کچھ کرسکیں، قرضے بلاسود ہوں گے۔ایک مرتبہ پھر انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں فحاشی بتدریج متعارف کرائی گئی، جس کا براہ راست اثر ادھر ہونے والی شادیوں اور خاندانی نظام پر پڑا اور پھر جب وہ نظام برباد ہوا تو ہمیں سمجھ آیا کہ پردے کا تصور کسی بھی معاشرے میں کیوں ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو ثقافت بالی ووڈ سے ہالی ووڈ اور اس کے بعد پاکستان پہنچ رہی ہے، یہ کلچر ہمارے خاندانی نظام کو برباد کردے گا۔انہوں نے کہا کہ بچوں سے موبائل فون نہیں لے سکتے، سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے لیکن اپنے بچوں کو موبائل کے استعمال کے معاملے میں ان کی تربیت کرسکتے ہیں، اسکول کے اندر 9 اور 10 ویں کلاس میں سیرت نبی ؐ میں کورس شروع کیا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی

کانفرنس خطاب

مزید :

صفحہ اول -