عالمی مالیاتی ادارے کیساتھ ڈیل کی خوشخبری جلد ملے گی: رضا باقر

  عالمی مالیاتی ادارے کیساتھ ڈیل کی خوشخبری جلد ملے گی: رضا باقر

  

        واشنگٹن (آئی این پی) آئی ایم ایف نے پاکستان کی علاقائی اکنامک آوٹ لک رپورٹ جاری کر دی جس میں افغانستان میں بحرانی صورت حال سے پاکستان پر مہاجرین کا بوجھ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے اپنی علاقائی آوٹ لک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں بحرانی صورتحال کے باعث 10لاکھ افغان پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔ نئے مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 50کروڑ ڈالرز اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ پاکستان میں 15 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین پہلے سی ہی موجود ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے، تیل کی پیداوار میں کمی کے باعث عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے تاہم اگلے سال مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔  پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک میں سیکیورٹی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیبر مارکیٹ اور سماجی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مدد کی ضرورت درکار ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان مہاجرین کے باعث تاجکستان کو دس کروڑڈالرز اور ایران کو سالانہ تیس کروڑ ڈالر کا خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔دوسری طرفآئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جہاد ازور  نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھٹے جائزہ مذاکرات جاری ہیں۔جہاد ازور نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور قرض پروگرام کی مختلف شرائط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)کے ساتھ ڈیل کی خوشخبری جلد ملے گی، مہنگائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے، امریکا میں جو مہنگائی ہے وہ پچھلے 30 سالوں میں نہیں ہوئی، تیل کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رضا باقر کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے لیے وزیر اعظم کا پیغام لے کر آیا ہوں، اب تک 2 لاکھ 60 ہزار روشن ڈیجیٹل اکانٹ کھل چکے ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے ذریعے 2.6 ارب ڈالر  پاکستان آئے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رضا باقر کا کہنا گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی خوشخبری ملے گی۔رضا باقر نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ جون 2019 کے مارکیٹ ریٹ پر چھوڑ دیا ہے، ادائیگیوں کا دبا اس لیے ہے کہ ہماری معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ گزشتہ ماہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک ارب 11 کروڑ ڈالر رہا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری رپورٹ کے مطابق ستمبر 2021 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک ارب 11 کروڑ ڈالر رہا اور درآمدات 6 ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں،گزشتہ ماہ میں برآمدات 2 ارب 64 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ ستمبر کا تجارتی خسارہ 3 ارب 43 کروڑ ڈالر رہا۔ ستمبر میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ 3.87 ارب ڈالر رہا

رضا باقر

مزید :

صفحہ اول -