مصر میں ایک روبوٹ کو حراست میں لے لیا گیا، حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

مصر میں ایک روبوٹ کو حراست میں لے لیا گیا، حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں
مصر میں ایک روبوٹ کو حراست میں لے لیا گیا، حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر میں برطانیہ کے روبوٹ آرٹسٹ اور اس کے خالق کو حراست میں لے لیا گیا۔ میل آن لائن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حامل اس روبوٹ کا نام ’Ai-Da‘ ہے۔ یہ روبوٹ خاص طور پر آرٹ ورک کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے ایڈن میلر نامی ماہر نے تخلیق کیا ہے۔ اس نے اس کا نام 19ویں صدی کی معروف سائنسدان اور ریاضی دان ایڈا لو لیس (Ada Lovelace)کے نام پر رکھا ہے۔

ایڈن میلر اپنے اس روبوٹ آرٹسٹ کے ساتھ مصر میں اہرام مصر کے پاس ہونے والی ایک نمائش میں شرکت کے لیے گیا تاہم اسے قاہرہ ایئرپورٹ پر ہی روک لیا گیا۔ سکیورٹی حکام کو لگا کہ شاید یہ روبوٹ جاسوسی کے کسی مشن پر مصر لایا گیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس روبوٹ کو حراست میں لے لیا۔ حکام کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایڈن اپنے اس روبوٹ کی آنکھیں نکال دے مگر ایڈن مصر ہے کہ وہ اس روبوٹ کو اسی حالت میں نمائش میں لیجانا چاہتا ہے۔ 

 ایڈن کا کہنا ہے کہ اگر اس روبوٹ کی آنکھیں نکال لی جائیں گی تو وہ پینٹنگز اور ڈرائینگز وغیرہ نہیں بنا سکے گا، اس صورت میں وہ بالکل ناکارہ ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس روبوٹ کو حراست میں لیے 10دن ہو گئے ہیں اور مصر میں موجود برطانوی سفیر بھی اس روبوٹ کو رہا کرانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ واضح رہے کہ Ai-Daدنیا کا پہلا روبوٹ ہے جو لوگرتھمز، کیمروں اور روبوٹک آرم کے ذریعے حقیقی زندگی کے مناظر کو پینٹنگ، ڈرائینگ اور مجسمے کی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -