حالت انکار

       حالت انکار
       حالت انکار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  حالت انکار جسے شاید انگریزی میں  of state denial  کہتے ہیں، یہ لا علاج مرض ہے اور ہمارے عوام کی بہت بڑی اکثریت اس بیماری کا شکار ہے۔ یہ مرض اتنا دلچسپ ہے کہ مریض کے سوا سبھی کو اس کا علم ہوتا ہے۔ مریض آنکھیں بند کیے ماضی کے سپنوں میں گرفتار،حال سے بے خبر، مستقبل کی صورت گری کرنا چاہتا ہے، مگر نہ ماضی کی وہ طاقت اس کے پاس ہوتی ہے، نہ حال کی منصوبہ بندی اور نہ مستقبل کا ویژن۔ نتیجہ جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔یہ حالت انکار صرف کسی مخصوص طبقہ یا گروہ تک محدود نہیں،بلکہ یہ تو بڑے پیمانے پر پھیلی وہ بیماری ہے، جس نے کئی قوموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ بندہ سراب یا illusions میں رہتا ہے۔ یہ جب زیادہ سرایت کر جاتی ہے تو انسانی کریکٹر کو گھن کی طرح لگ جاتی ہے اور منافقت اور ریا کاری میں بدل جاتی ہے۔جب انسان کو اپنے علاوہ باقی سارے غلط یا گناہ گار نظر آئیں، اپنی کم علمی اور جہالت کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ دوسروں کے عیب اور نقص نمایاں نظر آئیں، جب خود پسندی اور خود پرستی عقل و شعور کی ساری حدیں عبور کر جائے،تو اسے حالت انکار اور illusion میں رہنا ہی کہتے ہیں۔ اور جب کوئی معاشرہ اسکا شکار ہوتا ہے تو وہ نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی کے اپنے معیار اور تصورات قائم کر لیتا ہے۔ کیا یہ حالت انکار نہیں کہ کسی معاشرہ میں  مجبوری اور پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے جسم فروشی پر مجبور عورت کو طوائف مگر اس تک پہنچنے اور لطف اندوز ہونے والے تماش بین پوتر، پاک صاف اور شرفا کے زمرہ میں آتے ہوں۔                       

کہتے ہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں بادشاہ کا فتویٰ بھی چلتا تھا کہ وہ نمازی پرہیزگار آدمی تھا۔ اسے کسی مصاحب نے یہ مشورہ دیکر فتویٰ لے لیا کہ تمام جسم فروش عورتیں یعنی طوائفیں واجب القتل ہیں۔ اس شاہی فرمان کے بعد یہ طے ہوا کہ ان جسم فروشی میں ملوث عورتوں کو انفرادی طور پر قتل کرنے کی بجائے ان کو ایک بڑی کشتی میں بٹھا کر دریا کے درمیان میں لے جا کر کشتی کو الٹ دیا جائے۔ لہٰذا مقررہ وقت پر ان سب طوائفوں کو کشتی میں سوار کرا دیا گیا۔ بادشاہ وقت خود یہ منظر دیکھنے کے لئے دریا کے کنارے اپنے وزیروں، مشیروں اور عمائدین  شہر کے ساتھ موجود تھا۔ جب کشتی ہلکے ہلکے دریا کے بہاؤ کی طرف بڑھی تو ایک عمر رسیدہ، مگر جہاں دیدہ نائیکہ نے دیگر عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم نے مر تو جانا ہی ہے، کیوں نہ بادشاہ کی غیرت کو للکار کر مریں۔ چنانچہ انہوں نے بادشاہ کی طرف منہ کرکے حافظ شیرازی کا یہ خوبصورت شعر اثر انگیز ترنم کے ساتھ پڑنا شروع کیا۔

در کوئے نیک نامی مارا گزر نہ دارند

گر تو نمی پسندی تغیر کن قضا را

(ترجمعہ: اگر نیکی کے راستہ سے ہمیں گزرنے کی اجازت نہیں ملی یا ہمارا گزر نہیں ہوا، اور تو یہ پسند نہیں کرتا تو ہماری تقدیر کیوں نہیں بدل دیتا)

اتنے گہرے معنی رکھنے والا شعر، اوپر سے دلنشیں ترنم کا تڑکا، موت کا رقص دیکھ کر بے چین دلوں کی تاثیر، سب کچھ اثر کر گیا۔ بادشاہ  جوں جوں یہ شعر سنتا گیا اس کے دل کی حالت بدلتی گئی۔  اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اپنے فیصلے سے رجوع کیا اور ان سب طوائفوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔                

بات حالت انکار سے شروع ہوئی تھی مگر اپنے معاشرہ کی دو رخی اور منافقت سے ایک تاریخی واقعہ کی طرف مٹر گئی۔ اس وقت جو ظلم و ستم ارض فلسطین میں ہو رہا ہے پوری مسلم امہ بھی حالت انکار میں ہے۔ ہر مسلمان ملک یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ صرف مظلوم فلسطینیوں سے ہی ہونا ہے انکی باری نہیں آنی مگر گریٹر اسرائیل اور صہیونیت کے پھیلاؤ میں جو بھی مسلمان ملک ترقی کرتا یا فوجی طاقت رکھتا ہوگا وہ اس کا جلد یا بدیر نشانہ بنے گا۔  ماضی سے صرف عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہی کافی ہیں۔ ہم حالت انکار میں اپنی آنکھیں بند رکھیں یا کھلی اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

مزید :

رائے -کالم -